سینیٹ انتخابات اورنعیم الحق کا تبصرہ
15 مارچ 2018 2018-03-15



کچھ عرصہ پہلے سینیٹ الیکشن کی غیر یقینی صورت حال پر اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ سینیٹ انتخابات ملتوی ہو جائیں اور مسلم لیگ (ن)ایوان بالا میں اکثریتی جماعت کے طور پر نمودار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اس کی دو بڑی وجوہات تھیں ۔پہلی وجہ منظر نامے کے برعکس حالات کی تبدیلی، جو ملک میں سیاسی فضاء کو یکسر مختلف بنا چکی تھی اور دوسری وجہ سینیٹ الیکشن کو التواء میں ڈالنے کے حوالے سے تمام سیاسی قوتوں کا عملی طور پرانکار تھا۔ کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت ملک میں غیر جمہوری طاقتوں کے لئے راہ ہموار کرنا نہیں چاہتی تھی ۔اس کیلئے آپ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے د یے جانے والے بیانات کو اٹھا کر دیکھ لیں ۔۔کسی میں بھی جمہوری تسلسل کو ڈی ریل کرنے کی بو محسوس نہیں ہو گئی ۔ اوپربیان کردہ پہلی وجہ کے حوالے سے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے مارشل لاء کے تمام امکانات کو رد کر دیا تھا ۔اورقوم کو یہ یقین دلایا تھا کہ انتخابات وقت پر کرائے جائیں گے۔ جس کے بعد سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تما م سازشوں نے دم توڑ دیا۔اب جبکہ ملک میں سینیٹ انتخابات ہوچکے ، چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کا چناؤ ہو چکا ہے اور مسلم لیگ (ن ) سینیٹ میں اکثریت کے باوجود اپنا چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین لانے میں ناکام بھی ہو چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں سیاسی جماعتوں کی آپس میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر سے بڑھنے کا امکا ن پیدا ہو گیا ہے ۔
قبل ازیں 90کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) ایک ہی شخص وسیم سجاد کو چار مرتبہ اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کروا چکی ہے ۔جبکہ پیپلز پارٹی پانچ مرتبہ اپنا چیئر مین سینیٹ لا چکی ہے ۔ ماضی کی طر ح موجودہ سینیٹ انتخابات کے موقع پر بھی جس انداز میں روپیہ کا استعمال کیا گیا اس سے عوام کے سامنے یہ تلخ حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ کوئی غریب شخص الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔یہ المیہ ہے کہ فرسودہ نظام نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔الیکشن کمیشن کی خاموشی مجرمانہ فعل ہے۔
اگر ہم دیکھیں تو آ صف علی زرداری جو چھ ماہ قبل ملکی منظر نامے میں کہیں نظر نہیں آرہے تھے اچانک سینیٹ انتخابات میں بھر پور قوت سے بلاول ہاؤس سے باہر آگئے ہیں اور مسلم لیگ (ن)کوچاروں شانے چت کر دیا ہے ۔ یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے ۔زرداری کی سیاست ایک ا یسے گھوڑے کی مانند ہے جو ریس میں کم رفتار سے دوڑتا ہے اور بظاہر بہت ساروں سے پیچھے رہ جاتا ہے مگر آخری لمحوں میں وہ ریس میں نہ صرف واپس آتا ہے بلکہ ریس کو بھی اپنے نام کر لیتا ہے۔ زرداری صاحب نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ گیم سے آؤٹ نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہے تھے اور جیسے ہی صحیح وقت آیا پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین ایک مرتبہ پھر فارم میں آ گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے ان پتوں کا میاں نوا ز شریف کو اندازہ بالکل بھی نہیں تھا ۔ کہتے ہیں سیاست اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے ۔ چیئر مین پی ٹی آئی کی جانب سے آصف علی زرداری کے حمایت یافتہ( آزاد) امید وار برائے چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کی حمایت میں ووٹ ڈالنے سے ملک میں ایک نئی بحث شروع ہوچکی ہے ۔دلچسپ تبصرے سوشل میڈیا پر پڑھنے اور دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔خان صاحب نے غیر علانیہ آصف علی زر دا ری سے اتحاد کرکے قوم کے ساتھ ساتھ اپنے بھی کارکنان کو مایوس کر دیا ہے ۔قوم کو سوچنا ہو گا کہ معاملات کس ڈگر چل رہے ہیں۔
آخر میں کچھ تذکرہ پی ٹی آئی کے نعیم الحق کی الزام تراشیوں کا ۔ نعیم الحق تحریک انصاف کے قومی رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک پڑھے لکھے سمجھ دار سیاستدان ہیں۔ اگر ان جیسا شخص ہی اپنی اتحادی جماعت ، جماعت اسلامی کو حرف تنقید بناتے ہو ئے یہ کہے کہ ’’ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کی پیٹھ میں چھراگھونپا ہے‘‘ ۔تو ان کی عقل پر ماتم کرنے کو ہی دل کرتا ہے ۔جماعت اسلامی اس ملک کی واحد سیاسی و دینی جماعت ہے جس کی قیادت کا کردار صاف ستھرا اور ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہے ۔مشتاق احمد خان کی صورت میں نو منتخب سینیٹر کا شفاف انتخاب دیکھ لیں یا پھر سراج الحق کی اپنی شخصیت پر نظر ڈال لیں ہمیں ملکی سیاست میں ایسے بے لوث افراد کم ہی نظر آتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جماعت اسلامی کے ساتھ بے وفائی کی ایک لمبی داستان موجود ہے تنگی داماں کالم مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ۔ میرا غالب گمان ہے کہ پی ٹی آئی کے
عدم تعاون کے باوجود 2018ء کے سینیٹ انتخاب میں کامیابی کے لئے نہ پہلے جماعت اسلامی تحریک انصاف کی محتاج تھی اور نہ ہی آئندہ جنرل انتخابات میں ہو گی ۔یہ بات تحریک انصاف کے قائدین بشمو ل نعیم الحق کو خوب اچھی طر ح سمجھ لینی چاہیے کہ ان کے اپنے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں مگرجماعت اسلامی اپنے عہد و پیماں کی پاسداری کرنے کے حوالے سے اور محب و طن سوچ کے باعث ایک منفرد مقام پر کھڑی ہے ۔نعیم الحق کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ خیبر پختو نخوا میں تحریک انصاف کی حکومت جماعت اسلامی کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے ۔جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی جو چار برسوں سے نواز شریف کے بعد آصف علی زرداری کو بیماری قرار دیتے چلے آرہے تھے نے موجودہ سینیٹ انتخابات کے موقع پر ایک ایسے شخص کی حمایت کر کے قوم کو حیران کر دیا ہے جس کے اوپر آج بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑا جائے تو بہتر ہے ۔اگر تحریک انصاف جماعت اسلامی کو اعتماد میں لے کر چلتی تو یقینی طور پر آج صورت حال بہت مختلف ہوتی ۔


ای پیپر