ایک اعزاز ایک کہانی...سپیریئر کالجز/یونیورسٹی
15 مارچ 2018 2018-03-15

انسان کا دماغ سمندر ہے۔ اس میں ہزاروں خیالات آتے ہیں، لاکھوں سوچیں جنم لیتی ہیں ۔ اس کے اندر لاتعداد منصوبے وجود میں آتے ہیں۔ ان کی تکمیل کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی جاتی ہیں اور ان کے نتائج کے لئے وقت کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اسی دوران بہت سی خواہشیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض پوری ہو جاتی ہیں اور کچھ ادھوری رہ جاتی ہیں۔ ہم پوری زندگی انہی خواہشوں کے ساتھ ساتھ لمبے سفر پر چلتے ہیں۔یہ راستہ کبھی آسان ہوتا ہے اور کبھی مشکل ہوتا ہے انہی حالات میں انسان آگے بڑھتا رہتا ہے۔ کوئی منزل سے دور رہ جاتا ہے اور کوئی منزل پر پہنچ جاتا ہے، اور اسی منزل کا حصول انسان کو روشنی کی کرن دے کر آگے بڑھنے کے لئے اکساتا ہے۔
اگر ہم تعلیم کے شعبہ میں انسان کے دماغ کی بات کریں تو انسان کی ابتداء سے لے کر آج تک اس میدان میں ترقی ہو رہی ہے۔ ہر کوئی اس میدان میں آگے سے آگے جانا چاہتا ہے۔اس کی ایک مثال یوریشین یونیورسٹیز یونین کی ہے۔اس میں دنیا کے بہت سے ممالک کی یونیورسٹیز شامل ہیں ۔ جن کا مقصد معیاری او ر اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی یونین ہے جو مختلف ملکوں کی جامعات کو اس طرح اکٹھا کرتی ہے کہ وہ ممالک جو تعلیم میں پیچھے ہیں اور وہ ممالک جو تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہیں ان تمام ممالک کو ایک ایسی جگہ فراہم کرتی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے وہ تعلیم حاصل کرسکیں جو موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔
سائنس اور دیگر علوم میں نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں ۔ہر ملک ایسی ایجادات کرنا چاہتا ہے کہ وہ باقی تمام ملکوں سے تعلیم کے میدان میں آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں کیونکہ ان کی ترقی کی وجہ معیاری ریسرچ پر مبنی تعلیم ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک ریسرچ پر بہت زور دیتے ہیں اور تعلیم کا اصل مقصد اسی وقت حاصل ہو تا ہے جب ایک طالب علم ریسرچ کے ذریعے علم حاصل کرتا ہے اور جب وہ عملی طور پر اپنے متعلقہ شعبہ میں قدم رکھتا ہے تووہ علم جو وہ تحقیق کے ذریعے حاصل کر تا ہے اس کو بروئے کار لا کر کامیاب آدمی بن کر ملکی ترقی کا باعث بنتا ہے۔
اس یونین میں شامل جامعات جب مختلف قسم کی تحقیق کریں گی ۔جب تما م جامعات اس تحقیق کو ایک دوسرے تک پہنچائیں گی تووہ ممالک جو تعلیم میں پیچھے ہیں وہ بھی اس تحقیق سے فائدہ حاصل کریں گے اور تعلیم کے میدان میں ان ممالک کے ساتھ چلیں گے جن کا تعلیمی معیار بہت اچھا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے طالب علم اعلیٰ معیاری تعلیم کو حاصل کریں گے او ر اپنے ملک کے مفید شہری بن کر ابھریں گے اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ یونین ملکوں کے درمیان اختلافات کو بھی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ جب ایک ملک کے لو گ دوسرے ملک کے ساتھ ملیں گے تو ان کے درمیان نفرتیں ختم ہوں گی اور پیا ر بڑھے گا اور آپس میں مسائل حل کرنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ تعلیم کی ترقی کے ساتھ آپس میں اچھے تعلقات پیدا ہوں گے اور ملکی تعصب بھی دور ہوگا۔
پاکستان میں بھی تعلیم پر بہت توجہ دی جا رہی ہے۔ سپیریئر گروپ آف کالجز / یونیورسٹی کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن نے تعلیم کی ترقی کے لئے بہت سی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ انہوں نے سپیریئرکالجز / یونیورسٹی میں بہترین تعلیمی معیار قائم کیا ہے ۔ عالمی معیار کے مطابق ان تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو تعلیم دی جا رہی ہے ۔ ان تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول فراہم کیا جا رہاہے کہ طالب علم تحقیق پر مبنی زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور عملی زندگی میں قدم رکھ کرملکی ترقی کا باعث بنیں۔یوریشین یونیورسٹیز یونین نے پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے سپیریئر گروپ آف کالجز کویوریشین یونیورسٹیز یونین کے ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ بنا دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن وہ پہلی پاکستانی شخصیت بن گئے جس کو ایگزیکٹو بورڈ ممبر آف یوریشین یونیورسٹیز یونین بننے اور بطور ممبر ایگزیکٹو بورڈ دیگر ایگزیکٹو بورڈ ممبران سے خطاب کرنے کا اعزاز ملا۔پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن نے پاکستان کے دیگر تعلیمی اداروں کو ایک پیغام دیا ہے کہ اگر ہم محنت کریں اور معیاری تعلیمی نظام کو اپنائیں تو ہم بھی تعلیم کے میدان میں بہت ترقی کر سکتے ہیں۔
دنیا کے تما م ممالک کے نمائندوں کو ایک جگہ اکٹھا ہونا چاہئے اور ایک ایسی عالمی تعلیمی یونین بنائی جائے کہ ترقی یافتہ ممالک اورترقی پذیر ممالک کے لوگ اعلیٰ اور معیاری تعلیم حاصل کریں۔ ان اقدامات سے ترقی پذیر ممالک بھی ترقی یافتہ ممالک بن سکتے ہیں اور ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔تعلیم ایک ایسا راستہ ہے جو دنیا میں امن و امان پید ا کر سکتا ہے اور دنیا کے تمام ممالک کو ترقی کی راہ پر لے جا سکتا ہے۔


ای پیپر