فیس بک صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کروا دیا گیا ۔۔۔اب ڈیٹا چوری نہیں ہو گا

15 مارچ 2018 (17:54)

اسلام آباد: فیس بک پاکستان میں نئے ٹولز متعارف کرا رہا ہے جس کے تحت صارفین کو مزید کنٹرول ملے ہوگا کہ ان کی پروفائل پکچرز کو صرف انکے مطلوبہ افراد ہی ڈاو¿ن لوڈ اور شیئر کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی پروفائل پکچر پر ایک ڈیزائن کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے تاکہ پروفائل پکچرز کا غلط استعمال روکا جائے۔ فیس بک پر صارفین کی پروفائل پکچرز اپنا حلقہ احباب بڑھانے کا اہم حصہ ہیں جس سے لوگوں کو دوست تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے اور نئے اہم رابطے قائم ہوتے ہیں۔ لیکن ہر شخص پروفائل پکچر کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ مختلف لوگوں اور سیفٹی اداروں سے تحقیق کے ساتھ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بعض خواتین اپنا چہرہ پروفائل تصاویر میں ڈالنے کا انتخاب اس لئے نہیں کرتیں کہ ان کی تصویر انٹرنیٹ پر کہیں بھی چلی جائے گی ، کیونکہ انہیں تشویش ہوتی ہے کہ کہیں ان کی تصاویر کے ساتھ کچھ غلط ہوسکتا ہے۔

یہ ٹولز بھارت میں بڑے پیمانے پر استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم ان ٹولز کو ایسے مزید ممالک تک پھیلا رہے ہیں ،جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بھارت کی طرح لوگ وہاں اپنی پروفائل پکچرز پر مزید کنٹرول چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہم لوگوں کے لئے ایسے مزید باسہولت راستے نکال رہے ہیں جن کی بدولت پروفائل پکچرز پر ڈیزائن ڈالا جاسکے اور ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ باسہولت طریقے پروفائل پکچرز کا غلط استعمال روکنے میں معاون ہیں۔ نئے کنٹرولزمیں فیس بک کے شیئر اور ڈاو¿ن لوڈ فیچرز پروفائل پکچر کے لئے ڈس ایبل ہوجائیں گے۔ فیس بک پر جو لوگ صارف کے دوست نہیں ہیں، وہ کسی کو بشمول خود کو بھی صارفی کی پروفائل پکچر میں ٹیگ نہیں کرپائیں گے۔ اینڈرائڈ ڈیوائسز سے صارف فیس بک پروفائل پکچر کے اسکرین شاٹ بھی نہیں لیں سکیں گے ۔ حفاظتی نشان کے طور پر پروفائل پکچر کے گرد بلو بارڈر اور شیلڈ ظاہر ہونگے۔ فیس بک مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے ہیڈ آف پالیسی ناشوا ایلے نے بتایا، " فیس بک پر پروفائل پکچرز اپنی کمیونٹی بڑھانے کا اہم حصہ ہے، اس سے لوگوں کو فرینڈز ڈھونڈھنے میں مدد ملتی ہے اور بہترین رابطے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن ہر شخص پروفائل پکچر ڈالنے کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ ہمیں پتہ چلا کہ پاکستان میں لوگ اپنی پروفائل پکچرز پر مزید کنٹرول چاہتے ہیں۔

ہم گزشتہ سال سے اس پر کام کررہے ہیں کہ کس طرح سے ہم مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ فیچر ہمارے اس عزم کا اظہار ہے کہ لوگوں کو آن لائن دنیا میں محفوظ رکھیں۔" ڈیجیٹل رائٹس فاو¿نڈیشن کی نگہت داد نے بتایا، " سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آن لائن سیفٹی کا جب ذکر ہوتا ہے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خواتین سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ جعلی پروفائلز سے لیکر جعلی تصاویر تک مختلف انداز سے ہراسگی کے ساتھ خواتین کو آن لائن دنیا میں حقیقی نوعیت کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ فیس بک کا نیا پروفائل پکچر گارڈ ایسا بہترین ٹول ہے جس کی بدولت خواتین کو اپنی آن لائن اسپیس واپس لینے میں مدد ملے گی۔ اس سے خواتین کو اپنی آن لائن پہچان پر کنٹرول رکھنے کا اختیار ہوگا اور انہیں آن لائن دنیا میں صنفی ہراسگی سے بڑی حد تک نمٹنے کی شروعات کرنے میں مدد ملے گی۔"

مزیدخبریں