چاہتا ہوں ملک آئین اور قانون کے تحت چلے : نواز شریف
15 مارچ 2018 (16:14)


اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں لڑائی کے حق میں نہیں، چاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے ، کیا یہ خواہش بری ہے، ملک و قوم کے لئے جو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے، کوئی بتائے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو سنجرانی ہا ئو س کا پتہ کس نے بتایا، بلوچستان حکومت کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہیے، میرے سوا جن سیاستدانوں کے مقدمات ہیں ان پر کرپشن اور کِک بیکس کے الزامات ہیں، وہ نظام لے کر آئیں گے جو ملک کی ضرورت ہے۔


احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ جو کچھ سینیٹ میں ہوا وہ تماشا پوری قوم نے دیکھا، کوئی بتائے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو سنجرانی ہا ئو س کا پتہ کس نے بتایا، کہا گیا کہ سب سنجرانی ہا ئو س پہنچیں اور وہاں ایک صادق نامی شخص ہے اسے ووٹ دیں۔ نواز شریف نے کہا کہ میں لڑائی کے حق میں نہیں ہوں اور چاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے ، کیا آئین و قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے۔بلوچستان حکومت کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہیے، جن کا کہنا تھا کہ ایک افسر نے بلوچستان حکومت ختم کرائی۔


سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں اورآپ بھی کہ کیا چل رہا ہے۔ بہت کچھ دیکھا ہے آدھی زندگی گزر گئی، اچھے اور برے تجربات دیگر سیاستدانوں کے ساتھ بھی ہوئے ان سے سیکھنا چاہیے، ملک و قوم کے لئے جو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے۔میرے سوا جن سیاستدانوں کے مقدمات ہیں ان پر کرپشن اور کِک بیکس کے الزامات ہیں، میرا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ایسا کوئی الزام نہیںسابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ نظام لے کر آئیں گے جو ملک کی ضرورت ہے، موجودہ نظام عدل میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے، جامع نظام عدل لانے کے لئے کام کر رہے ہیں، انصاف نہ ملنا یا دیر سے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔


ای پیپر