سپریم کورٹ نے طلال چوہدری پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کردی
15 مارچ 2018 (15:42) 2018-03-15


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پر عدلیہ مخالف بیان بازی کرنے پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کردیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم کسی کو سزا دینے کے لیے نہیں کھلے ذہین کے ساتھ کیس سنیں گے، فرد جرم عائد ہونا کوئی داغ نہیں ہے۔کئی لوگوں پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد مقدمہ ختم ہوا،آپ کو کسی عدالتی فیصلے سے فائدہ ہواتو ضرور دیں گے،ہم آپ کو سنیں گے اگر کیس نہ بنا تو چھوڑ دیں گے اور آپ کو حتمی دلائل کا موقع دیا جائے گا، اگر مقدمہ نہ بنتا ہوا تو ختم ہوجائے گا،کچھ ایسے کیسز بھی ہیں جن میں چارج فریم ہونے کے بعدبھی کچھ نہیں ہوتا۔


جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر طلال چوہدری کے خلاف فرد جرم عائد کرنے سے متعلق کارروائی شروع ہوئی تو ان کے وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ ہم نے ایک نئی درخواست دائر کی ہے۔نئی درخواست پر فیصلہ آ نے تک یہ چارج فریم نہیں ہوسکتا جس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آج ہی چارج فریم کرنا ہے۔


اس موقع پر طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ گزشتہ روز ہونے والے توہین عدالت سے متعلق فیصلے درخواست کے ساتھ لگانا چاہتا ہوں، چارج بذات خود ایک دھبہ ہے۔جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نہیں یہ دھبہ نہیں ہے، ہم آپ کو سنیں گے اگر کیس نہ بنا تو چھوڑ دیں گے اور آپ کو حتمی دلائل کا موقع دیا جائے گا۔کئی لوگوں پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد مقدمہ ختم ہوا۔ اگر مقدمہ نہ بنتا ہوا تو ختم ہوجائے گا۔کچھ ایسے کیسز بھی ہیں جن میں چارج فریم ہونے کے بعدبھی کچھ نہیں ہوتا۔آپ کے موقع کو کسی عدالتی فیصلے سے فائدہ ہواتو ضرور دیں گے۔ہم کسی کو سزا دینے کے لیے نہیں کھلے ذہین کے ساتھ کیس سنے گے۔


جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہر طرح کے کیسز کی اپنی نوعیت ہوتی ہے، آپ جن فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں دیکھنا ہے وہ اس کیس سے مماثلت رکھتے ہیں۔ طلال چوہدری کے وکیل کے دلائل کے بعد عدالت نے ان پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے اس کی نقل فراہم کردی ۔ طلال چوہدری نے فردجرم کی صحت سے انکار کردیا۔کیس کی سماعت27مارچ تک ملتوی کردی گئی۔


ای پیپر