ہنسیاں اور خوشیاں!
15 مارچ 2018 2018-03-15

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا میں اپنی بیٹی کی شادی بڑی سادگی سے کرنا چاہتا تھا، اب یہ خواہش اپنے بیٹے کی شادی کے لیے میں نے پال لی ہے۔ مجھے اپنے ایک عزیز کے بیٹے کی شادی بڑی پسندآئی تھی ۔ اللہ نے اُنہیں بے پناہ دولت سے نوازا ہے ۔ ایک روز اُنہوں نے فون پر فرمایا ”کل آپ اپنی بیگم صاحبہ کے ساتھ تشریف لائیے گا اور لنچ ہمارے ساتھ کیجئے گا “....اگلے روز ہم وہاں پہنچے انکشاف ہوا آج اُن کے صاحبزادے کی شادی ہے۔ کوئی چالیس کے لگ بھگ مہمان جمع ہوگئے تو ہم اُن کے گھر کے لان سے گزر کر اُن کی بہن کے گھر چلے گئے، جن کے بیٹے کے ساتھ ان کی بیٹی کی شادی تھی، وہاں نکاح ہوا۔ مہمانوں کی تواضع دودھ اور کھجوروں سے کی گئی۔ پھر اُسی لان سے گزر کر ہم واپس دلہے کے گھر آگئے، جہاں مہمانوں کی تواضع انواع واقسام کے کھانوں سے کی گئی۔ اسے ولیمہ قرار دیا گیا۔ جو اسلام میں ایک جائز رسم ہے۔ یہ دوگھنٹے کی شادی تھی جسے میں آج تک فراموش نہیں کرسکا۔ ہمارے یہ عزیز بتارہے تھے ”میں نے جب اپنے بیٹے کی شادی سادگی سے کرنے کا فیصلہ کیا ، اپنی بیگم سے پوچھا ” تم نے اپنے بیٹے کی شادی کس رنگ ڈھنگ میں کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے؟ “وہ بولی” میں نے اُس کی شادی بہت ٹھاٹھ باٹھ سے کرنی ہے“، میں نے اُس سے کہا ”ٹھیک ہے تم اس کا بجٹ بناﺅ “.... اس نے تقریباٍ چالیس لاکھ روپے کا بجٹ بنایا، میں نے سوچا کہیں بیگم اور بیٹا یہ نہ سوچے ہمارا باپ کنجوسی کررہا ہے، میں نے چالیس لاکھ روپے کا ایک چیک تیار کیا اور اُس پر دستخط کرکے بیگم کو دیا اور اُس سے کہا ” اب تمہارے پاس دوراستے ہیں ان روپوں سے اپنے بیٹے کی شادی دھوم دھام سے کرلو جس کا تمہیں کوئی حاصل وصول یا ثواب نہیں ہوگا، یا یہ چالیس لاکھ روپے شوکت خانم یا کسی اور خیراتی ادارہ کو دے دو، تم یہ بھی کرسکتی ہو ان چالیس لاکھ روپوﺅں سے چالیس غریب گھرانوں کی بچیوں کی شادی کردو“۔ اُس نے وہی راستہ اختیار کیا جو اللہ کو پسند ہے ....اپنی بیٹی کی شادی پر میں بہت سادگی سے کرنا چاہتا تھا، مگر بچوں، بہن بھائیوں اور عزیزوں کی خوشیوں کے آگے دیوار بننا اچھا نہیں لگا۔ خصوصاٍ میرا بیٹا اور بیگم یہ چاہتے تھے شادی دھوم دھام سے ہو، بیٹی اور اُس کے سسرال والوں کی خواہشات بھی کچھ ایسی ہی تھیں، میں نے اپنی مرضی کبھی کسی پرائے پر نہیں ٹھونسی اپنوں پر کیسے ٹھونس سکتا تھا؟ سو ان سب کے جذبات اور خواہشات کے آگے مجھے ہتھیار پھینکنا پڑے۔ البتہ بارات کے کھانے کے حوالے سے میری یہ خواہش تھی یہ میرے مہمانوں کے شایان شان ہونا چاہیے۔ بزرگ فرماتے ہیں ”اللہ کوفضول خرچی سخت ناپسند ہے لیکن کوئی اپنے مہمانوں پر فضول خرچی کرے اللہ خوش ہوتا ہے“۔....میرے والد محترم فرماتے تھے ”ہم نے اپنی بیٹیوں یا بہنوں کو جہیز میں کیا دیا ہے کیا نہیں دیا؟ کوئی نہیں دیکھتا ۔ لوگوں کو بس ایک وقت کی روٹی یاد رہ جاتی ہے۔ لہٰذا انسان اگر افورڈ کرسکتا ہو اس میں کوئی ڈنڈی نہیں مارنی چاہیے۔ ہم نے جب اپنی بہنوں کی شادیاں کیں تب ون ڈش کی کوئی پابندی نہیں ہوتی تھی ۔ مجھے یاد ہے میرے والد محترم نے میری بہنوں کی شادیوں پر درجنوں ڈشیں تیار کروائی تھیں۔ وہ بڑے کمال کے انسان تھے۔ رزق کے ضائع ہونے کا کوئی تصور ان کے ہاں نہیں تھا۔ وہ فرماتے تھے بچا ہوا کھانا باہر سڑک پر پھینک دیں وہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ وہ کھانا اللہ کی دوسری مخلوق جانور اور چرند پرند وغیرہ کھالیتے ہیں۔ ون ڈش کی پابندی اچھی بات ہے ۔ بے شمار ” سفید پوشوں“ کا اس سے بھرم رہ جاتا ہے۔ مگر میرے خیال میں جواپنے مہمانوں کے لیے زیادہ ڈشیں افورڈ کرسکتا ہو اِس کی اجازت ہونی چاہیے۔ میں نے اپنی بیٹی کی شادی پرون ڈش کے قانون کی پابندی کی۔ مجھے بہت لوگوں نے اُکسایا تمہارے اتنے تعلقات ہیں، بارات اور رسم مہندی وغیرہ پر اتنی بڑی بڑی شخصیات آرہی ہیں، تمہیں کس نے پوچھنا ہے؟ میں نے اُ ن سب کی خدمت میں عرض کیا ” مجھے پوچھنے والا میرا ضمیر تھوڑا تھوڑا ابھی زندہ ہے۔ میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرسکتا جس سے قانون کی خلاف ورزی ہو، اور میری عزت آبرو پر حرف آئے“۔ وقت کی پابندی کا بھی ہم نے پورا خیال رکھا۔ ٹھیک دس بجے بیٹی کی رخصتی ہوگئی۔ بیٹی کا نکاح چند روز قبل ہی بادشاہی مسجد میں میرے محترم بھائی جان ملک کے نامور آرتھوپیڈک سرجن اور انسان دوستی کی ایک زندہ مثال پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کی سرپرستی میں بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے پڑھا دیا تھا۔ وقت کی پابندی کے پیش نظر اب عموماً ایسے ہی ہوتا ہے لوگ اپنے بچوں کے نکاح شادی سے چند روزقبل ہی کرلیتے ہیں، ورنہ پہلے ایسے ہوتا تھا پہلے بارات دوگھنٹے لیٹ آتی تھی،پھر نکاح پڑھانے والا مولوی عین وقت پر غائب ہوجاتا تھا۔ پھر مولوی نکاح اتنا لمبا کردیتا تھا یوں محسوس ہوتا تھا اُس کے ساتھ یہ طے کیا گیا ہے جتنا نکاح لمبا کرو گے اُتنا معاوضہ یا ہدیہ زیادہ ملے گا۔ مجھے یاد ہے بہت سال قبل ہمارے ایک عزیز نے خود مولوی صاحب سے کہہ دیا تھا ” مولوی صاحب نکاح ذرا لماکردیو، روٹی نوں اجے دیر اے“ ....مولوی صاحب نے فرمایا ٹھیک ہے میں نکاح لمبا کردوں گا مگر مجھے روٹی پہلے کھلا دیں“ ....خیر نکاح کے بعد بے شمار غیر ضروری رسومات دودھ پلائی، جوتا چھپائی، گودبٹھائی وغیرہ شروع ہوجاتی تھیں۔ گودبٹھائی کی رسم اب شاید ختم ہوگئی ہے کیونکہ کچھ دیور بھابھی کی گود میں بیٹھنے کے بعد اُٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ اِن رسومات میں اتنا وقت لگ جاتا تھا روٹی کے انتظار میں بھوک سے مہمانوں کی حالت غیر ہوجاتی تھی۔ ایسی ہی ایک شادی پر جب روٹی کھلنے میں بہت ہی دیر ہوگئی ایک مہمان نے دلہے کے والد (میزبان ) سے کہا ” پاجی اِک بڑکی (نوالہ) چاﺅلاں (چاولوں) دی دیو، میرا پانی پھنس گیا ہے“ ....سو میرے خیال میں سرکارکی طرف سے وقت کی پابندی کھانے کی پابندی سے زیادہ قابل تعریف ہے۔ .... میں نے جب بیٹی کی شادی سادگی سے کرنے کے اپنے ارادے سے اپنی بڑی بہن جو، اب میری ماں کی جگہ ہیں کو آگاہ کیا وہ کہنے لگیں” اپنی خوشیاں اور جذبے اپنے بچوں کی خوشیوں اور جذبوں پر قربان کردینے چاہئیں“،.... میں سمجھ گیا بچوں نے پھوپھی کو اپنی طرف کرلیا ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا ” آپی آپ تہجد گزار ہیں، اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے“....وہ بولیں ” دوسروں کو خوش رکھنا زیادہ بڑی عبادت ہے“۔ ....میں نے کہا ”اِس سے بڑی فضول خرچی ہوگی“۔وہ کہنے لگیں ”بڑی شادی کرنے سے کئی لوگوں کو روزگار ملے گا۔ مہندی لگانے والوں سے لے کر ڈھول بجانے والوں تک.... کھانا بنانے والوں سے لے کر کھانا سروکرنے والوں تک ....میک اپ کرنے والوں سے لے کر گانے بجانے والوں تک ....کپڑے بیچنے والوں سے لے کر کپڑے سینے والوں تک .... تم کیوں اتنے لوگوں کے روزگار میں ڈنڈی مارنا چاہتے ہو؟۔فضول خرچی کے دُکھ سے یہ خوشی زیادہ بڑی ہونی چاہیے کہ اتنے لوگوں کو اس سے روزگار ملے گا“.... مجھے آپی کی اِن باتوں میں بڑا وزن محسوس ہوا۔ سو بچوں کی خوشیوں اور جذبوں کے آگے ہتھیار پھینکنے میں تھوڑی بہت جو ہچکچاہٹ تھی وہ بھی دورہوگئی!


ای پیپر