ڈیم بناﺅ ....ڈیم فول نہیں !!!
15 مارچ 2018

ایک مرتبہ جنگل میں شیر نے اعلان کیا کہ ہر سینئر جانور اپنے سے جونیئر جانور کو چیک کر سکتا ہے بلکہ سزا بھی دے سکتا ہے۔ باقی جانوروں نے تو اسے معمول کا اعلان سمجھا لیکن بندر نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا اور راہ جاتے خرگوش کو زور دار تھپڑ مارا اور سوال کیا کہ ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟ خرگوش نے روتے ہوئے جواب دیا ”سر اس لیے کہ میرے کان بہت بڑے ہیں نہیں پہن سکتا“۔ بندر نے کہا جاﺅ بھاگ جاﺅ۔ اگلے دن بندر نے پھر خرگوش کو تھپڑ مارا اور اپنا سوال دہرایا کہ ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟ خرگوش نے حسب سابق اپنا جواب دہرایا جس پر اسے دفع ہو جانے کا حکم ملا۔ جب تیسرے دن بھی یہی واقعہ ہوا تو خرگوش روتا ہوا شیر کے پاس گیا اور بندر کی شکایت لگائی۔ شیر نے تسلی دی کہ وہ بندر کو سمجھائے گا۔ شیر نے بندر کو بلانے کا حکم جاری کیا اور خرگوش کو کہا کہ وہ جائے تاہم خرگوش وہیں کہیں چھپ گیا کہ اب شیر بندر کو کیسے سمجھاتا ہے۔ شیر نے بندر کو کہا کہ اس طرح ایک ہی سوال پر روز خرگوش کو مارنا ٹھیک نہیں ، سوال تبدیل کر لیا کرو، مثلاً اسے کہو کہ جلدی سے سموسے لاﺅ۔ وہ لے آئے تو چٹنی نہ لانے پر مار سکتے ہو یا اگر وہ دہی والی چٹنی لائے تو آلو بخارے والی چٹنی کیوں نہیں لائے کے اعتراض پر تھپڑ مارا جا سکتا ہے۔ اگلے روز بندر نے خرگوش کو بلایا اور کہا کہ گرم گرم سموسے لاﺅ۔ خرگوش بھاگا بھاگا گیا اور سموسے لے آیا۔ بندر نے پوچھا چٹنی لائے ہو، خرگوش نے کہا دو لایا ہوں دہی والی اور آلو بخارے والی۔بندر نے زور سے خرگوش کو تھپڑ مارا اور کہا
”ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟“
قارئین کرام،اگر آپ اس لطیفے کو میاں نوازشریف کی گزشتہ روز کی تقریر سے جوڑ رہے ہیں تو ایسا کچھ بھی نہیں ،البتہ ان کی تقریر میں پہلی بار عدلیہ کا ذکر نہ تھا ،ہوسکتا ہے وہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے چابی اور اس سے چلنے والے کھلونوں کا ذکر کررہے ہوں ۔۔۔
جیسا کہ سینیٹ معرکے پر بھی وہ بولے ،ہم ہارکر بھی جیتے ہیں ،جس پر کسی نے شرارتاََ یا عادتاََ کہا ،اللہ کرے آئندہ عام انتخابات بھی آپ ایسے ہی جیتیں ۔۔۔
خیر سیاست میں یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے۔ اب اگر شہباز شریف نے اپنے انتخاب کے بعد تقریر میں کہا ہے کہ میں تو کیا کوئی بھی میاں نوازشریف کی جگہ لینے کی سوچ بھی نہیں سکتا تو یہ ان کی محبت ہے وگرنہ اب میاں نواز شریف سے آگے جانے کی بات ہونی چاہیے تھی، میاں نواز شریف کہاں اور کیسے ناگزیر قرار پائے کہ جب رب کائنات کی محبوب ترین ہستیوں کے بعد بھی یہ دنیا چل رہی ہے،بس پھر چھوڑیئے کہ سیاست کا یہی چلن ہے،وہ سیاست کہ جس کے گھن چکر میں بہت سے اہم ترین موضوعات دب کر رہ جاتے ہیں ۔۔۔
بری خبر یہ ہے کہ 2018ءمیں گندم اور دیگر اجناس کی پیدوار میں شدید کمی آنے کا اندیشہ ہے اور نہ صرف اجناس آپ کو درآمد کرنی پڑ سکتی ہیں بلکہ ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ، وجہ بہت سادہ ہے کہ آپ کے پاس مارچ اپریل میں فصل کو دینے کے لیے درکار پانی موجود نہیں ، جس سے فصل ربیع کے بعد خریف بھی زد میں آئے گی۔
صوبوں میں پانی کی تقسیم کا جو فارمولہ 1991ءمیں طے پایا تھا اس کے مطابق پنجاب کو 60 فیصد اور سندھ کو40 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق پنجاب کو 45000 کیوسک فیٹ پانی کی جگہ 20 ہزار سندھ کو 38 ہزار کے بجائے 18 ہزار بلوچستان کو 10 ہزار کی جگہ 3 ہزار کیوسک فیٹ پانی مل رہا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان اپنی تاریخ میں پانی کے حوالے سے بدترین کمی کے مقام پر ہے اور قیام پاکستان کے بعد سے آج تک پانی کی ایسی قلت نہیں دیکھی گئی ۔ موجودہ سردیوں میں پہاڑوں میں برفباری نہ ہونے کے باعث پانی کا وہ بہاﺅ نہیں کہ جس سے دریاﺅں کی روانی قائم رہ سکے۔ گلیشیئر کا پانی بھی فی الحال دستیاب نہیں کیونکہ گلیشیئر کے پگھلنے کا درجہ حرارت گرمیوں میں حاصل ہو سکے گا۔ پانی کے ذخائر کے حوالے سے عرض کروں کہ منگلا اپ رائزنگ مکمل ہونے کے بعد اس میں 90 لاکھ ایکڑ فیٹ جبکہ تربیلا ڈیم میں 60 لاکھ ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے تاہم منگلا توسیع کے بعد سے آج تک کبھی مکمل نہیں بھرا۔ اس وقت دونوں ڈیم میں موجود پانی کی سطح صفر یعنی ڈیڈ لیول پر ہے اور پانی کی آمد اور اخراج بیس ہزار کیوسک فیٹ کے لگ بھگ اور دریاﺅں میں پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آنے والے سالوں میں پانی کا بحران شدید ہونے کا امکان اپنی جگہ پر موجود ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے پاس 600 دن کے پانی کے ذخائر اس وقت موجود ہیں۔ جہلم اور چناب خشک ہوچکے ہیں ہم نے جماعت علی شاہ کے بعد اب اس کے عزیز مہر علی شاہ کو انڈس واٹر کمشنر مقرر کر دیا ہے جس خاندان نے بھارتی آبی دہشت گردی پر نہ پہلے آواز اٹھائی تھی اور نہ اب اٹھانے کا ارادہ ہے وہی بلے دودھ کے رکھوالے بنے بیٹھے ہیں، نتیجہ یہ کہ بھارتی دھڑا دھڑ ڈیم بنا رہے ہیں اور پاکستانی حکمران ڈیم فول !


ای پیپر