کرکٹ کی ترقی، پانچ سالہ منصوبہ ۔۔۔
15 جون 2020 (18:35) 2020-06-15

لاہور: کرکٹ کے کھیل کی ترقی و خوش حالی کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 5سالہ حکمت عملی کی رونمائی کر دی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دنیا بھر میں ایک بلند پایہ اور معتبر کرکٹ بورڈ کے طور پر سرفراز کرنا ہے۔

بورڈ آف گورنرز اس حکمت عملی کی منظوری دے چکا ہے۔ہماری قوم کو متاثر اور متحد کرنے کا پانچ سالہ منصوبہ کے عنوان سے موجود اس دستاویز میں اسٹریٹجک اور کارپوریٹ مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ جس میں مردوں، خواتین اور مختلف ایج گروپ پر مشتمل قومی ٹیموں کی ترقی اور نچلی سطح پر کھیل کی پذیرائی کے لیے ایک منظم ڈھانچہ اور واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔ ان مقاصد پر عملدرآمد کے لیے ایک جامع ٹریکنگ سسٹم متعارف کروایا جائے گا جس کے ذریعے اس کی مربوط نگرانی کو ماہانہ بنیادوں پر عمل میں لایا جائے گا۔

اس حکمت عملی پر گذشتہ سال سے کام جاری ہے اوراس سلسلے میں متعدد مقاصد کے اصول میں اہم پیش رفت بھی ہوچکی ہے۔اس حکمت عملی کی تیاری میں کھیل کے اسٹیک ہولڈرز اور مداحوں کی کرکٹ سے قربت کو مرکزنگاہ رکھا گیا ہے۔ یہاں احتساب، شفافیت، اصولوں اور پیشہ وارنہ مہارت کا کردار کلیدی ہوگا۔ حکمت عملی کے چھ اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں ،جن میںپائیدار کارپوریٹ گورننس: بروقت، مؤثر حکمت عملی اور وسائل کی مختص رقم کی تائیدکی جائے گی،بین الاقوامی معیار کی ٹیموں کی فراہمی: میرٹ پرمبنی ڈومیسٹک ٹیموں اور معیاری ہائی پرفارمنس سنٹرز کے ذریعے ہماری بین الاقوامی ٹیموں کو مستقل ٹاپ پرفارمرز میں بدلا جائیگا،گراس روٹ اور پاتھ ویز فریم ورک: نوجوانوں اور متاثرکن کھلاڑیوں کو ایک ہموار طریقے سے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تعاون کرنا ہوگا،خواتین کرکٹ کے ذریعے آئندہ نسلوں کو متاثر کرنا، جداگانگی کو خاص اہمیت دی جائے گی اور مستقبل کی کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے ملک بھر سے کرکٹ کی چیمپئن کھلاڑیوں کو تیار کیا جائے گا،کمرشل آمدن کے ذرائع کو بڑھانا اور مختلف اقسام میں ڈھالنا: پی سی بی اور کرکٹ ایسوسی ایشنز کو استحکام دینے کے لیے اسٹریٹجک، جدید اور اہداف پر مبنی کمرشل منصوبے تیار کرناہوں گے،عالمی دنیا میں پاکستان کا تشخص بڑھانا: ہم ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کی تشہیر، ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے تسلسل اور دیگر بورڈز کے ساتھ جاری بات چیت کے سلسلے کو برقرار رکھ کر پاکستان کا تشخص بڑھائیں گے،مندرجہ بالا نکات کو ایک ایک ہدف میں تقسیم کر کے سینئر منیجمنٹ میں شامل اراکین کے حوالے کردیا گیا ہے۔ وہ اس پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے۔

مانیٹرنگ کے مربوط نظام کے ذریعے اس کی پیشرفت کا ماہوار جائزہ لیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہا کہ یہ پانچ سالہ منصوبہ سال 2019 میں تیار کرلیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز کی منظوری کا انتظار کیاجارہا تھا، انہیں خوشی ہے کہ رواں سال فروری میں اس کی منظوری مل گئی تھی اور اب وہ باضابطہ طور پر اس کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2019-23 حکمت عملی میں شامل متعدد نکات پر گذشتہ سال سے کام جاری ہے اور وہ اس حوالے سیجاری پیش رفت پر بہت مسرور ہیں۔ایک واضح، دلچسپ اور قابل حصول روڈمیپ کی تیاری بہت اہم تھی تاکہ پی سی بی کا عملہ ہی نہیں بلکہ شائقین اور اس کے اسٹیک ہولڈرز بھی ہماری سمت کا واضح تعین کرسکیں۔ ان اسٹریٹجک منصوبوں کی کاغذی طور پراہمیت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک کہ انفرادی طورپراس نقطہ نظر کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے مالکانہ حقوق حاصل کرکے جوابدہ نہیں ہوا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ نگرانی کا ایک مربوط نظام مقررہ اہداف کے حصول میں ہماری ماہانہ پیش رفت سے متعلق آگاہ کرتا رہے گا۔ پی سی بی 2019 سے ہی گراؤنڈ کے اندر اور باہر کے معاملات سے متعلق منظم اصلاحات متعارف کروانے کی سوچ پر عمل پیرا ہے۔چیف ایگزیکٹیو نے کہا کہ تبدیلی کے کسی بھی پروگرام میں مقصدیت کاواضح ہونا اورجرامندانہ فیصلے کرنا بہت ضروری ہے، ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ اسٹریٹجک پلان ہمیں پاکستان کرکٹ کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی دنیا کے اعلیٰ ترین کرکٹ بورڈز میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے. انہوں نے کہا کہ اپنے اعمال سے وابستگی کی خواہش ہمیں میدان کے اندر اور باہر مسلسل کامیابی حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وسیم خان نے کہا کہ یہ سوچ کر ہم پرجوش ہوجاتے ہیں کہ اس منصوبیپر عملدرآمد سے ہم کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 12 ماہ قبل جہاں سیاس سفر کا آغاز کیا تھا اب اس میں بہت پیش رفت ہوچکی ہے۔


ای پیپر