بے تکی بیان، اوٹ پٹانگ باتیں
15 جون 2020 (14:35) 2020-06-15

بے تکی بیان زبان نے ملکی سیاست کو کہیں کا نہیں رکھا۔ بازاری اور تھڑے کی سیاست بنا دیا ہے۔ سیاست دانوں اور ان کے ترجمانوں کی گفتگو سنیں تو حضرت انسان کی عقل پر رونا آتا ہے۔ سوچتے کم بولتے زیادہ ہیں۔ حالانکہ طاہر فراز نے کہا تھا۔ ’’جب کبھی بولنا سوچ کر بولنا مدتوں سوچنا مختصر بولنا‘‘ ہمارے لیڈر اور ان کے ترجمان اتنا بولتے ہیں کہ انہیں سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ بزرگوں نے کہا تھا پہلے تولو پھر بولو ہم پہلے بولتے ہیں پھر تولتے ہیں گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ حکمران جماعت کے پاس بلیغ للسان مقررین وافر تعداد میں موجود ہیں۔ مفکرین کی کمی ہے دوستوں نے پیغامات میں کہا۔ ’’بنجر سر زمین میں مفکرین کہاں سے آئیں گے، حاضر مال پر گزارا کریں ایک صاحب نے ٹوئٹ کیا۔ آپ مفکرین ڈھونڈ رہے ہیں یہاں گدھوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔54لاکھ سے55لاکھ ہوگئے۔ ہماری برآمدات کم ہیں گدھے برآمد کر کے زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ن لیگ کے میاں جاوید لطیف نے بھی شائع ہونے والی خبر پڑھ لی یا شاید سن لی۔ خوشی سے بغلیں بجانے لگے کہا اسلام آباد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دور اندیشی سیاستدانوں کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا آج کل تو سامنے کی چیز نظر نہیں آتی۔ ایسے میں بقول غالب ’’کوئی صورت نظر نہیں آتی‘‘ جو ڈھنگ کی بات کہے ڈھنگ کی بات سنے اور عوام کو ڈھنگ کی بات سنائے۔ عربی کی کتاب میں پڑھا تھا ’’الناس علیٰ طریق ملو کہم‘‘ (لوگ اپنے بادشاہوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں) سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی اوٹ پٹانگ ایس ایم ایس بھیجنے شروع کردیے ایک صاحب نے لکھا چار چیزیں کس کو نظر نہیں آتیں، ’’کرونا وائرس، ذوالفقار علی بھٹو جو 4 اپریل کا ایک دن چھوڑ کر سال بھر زندہ رہتے ہیں، میاں صاحب کی بیماری، خان صاحب کی کارکردگی‘‘۔ ملک بحرانوں کا شکار ہے۔ بحران در بحران ہمیں اوٹ پٹانگ باتوں اور بے تکی بیان بازی ہی سے فرصت نہیں۔ شوگر، آٹا، پیٹرول، ٹڈی دل، ادویات، کرونا، کرونا سے ملتا جلتا ڈینگی۔ ایک کے بعد ایک بحران، کوئی ایک بحران جو حل ہوگیا ہو۔ آپ کو یاد ہو تو بتلائیں۔ پاکستانی قوم کی ایک خوبی ایک خرابی وہ ہر بات جلد بھول جاتی ہے لیکن لیڈروں کا دل میں بسا پیار نہیں بھولتی جبکہ لیڈر پیار پیار میں خوار کر جاتے ہیں۔ ملک اسی سے تباہ ہوا ہے۔ ہم بت پرست ہیں بت فروش ہیں بت شکن نہیں۔ ہم نے خانۂ دل میں لات و منات سجا رکھے ہیں اور ان کی خامیوں اور برائیوں سے قطع نظر دن رات ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ گلشن کا کاروبار اسی سے چل رہا ہے۔ پتا نہیں شاید اسی کو اندھی عقیدت کہتے ہیں کسی نے پوچھا کسی نے سمجھا کہ دو سال ہونے کو آئے22ماہ میں ملک کتنے بحرانون کا شکار ہوا۔ آفرین ہے حکمرانوں پر کہ وہ مرد بحران ہیں بحران کی ایسی تیسی حل انتہائی آسان ہر بحران پر ایک اجلاس، اجلاس میں بریفنگ، بریفنگ کے بعد ایک کمیٹی قائم بحران ختم

کب رپورٹ آئے گی، کب فیصلہ ہوگا۔ عوام کا لانعام سادہ لوح، ادویات کی قیمتیں3سو فیصد بڑھ گئیں، لوگ چیخے چلائے اور خاموش اب تک مہنگی دوائیں خرید رہے ہیں اور ما شاء اللہ جی رہے ہیں۔ کمیٹی اور اس کی رپورٹ کہاں گئی؟ اس پر کیا ایکشن لیا گیا؟ کچھ پتا نہیں۔ ’’ہر مرض کی دوا ہے ایک کمیٹی ایک کمیشن‘‘ جانے ہم کتنے کمیشن کھا گئے۔‘‘ کراچی کے ایک معروف شاعر امیر الاسلام ہاشمی نے کہا تھا۔ ’’بیٹھا ہے اک کمیشن، لینے کو پھر کمیشن لے گا وہ کیا کمیشن یہ عرض پھر کروں گا‘‘ لیکن کچھ عرض کرنے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اب کون جرأت کرے گا پانچ چھ بزرجمہر کسی جگہ بیٹھے دانشوری جھاڑ رہے تھے۔ مسئلہ زیر بحث تھا کہ بحران در بحران مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے۔ ایک کے سوا سب کا اتفاق کہ ٹیم کمزور، نا اہل، قانون سازی کی اہلیت نہ سکت، حکومت خود مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ جن ہاتھوں میں لگام ہے وہ بے لگام شکوے شکایات لا تعداد لیکن زبان تک نہیں آتے۔ اس کے باوجود اجلاسوں کی اندرونی کہانیاں ’’تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ‘‘ سناتی نظر آتی ہیں۔ اعتراضات ہوتے ہیں لیکن نہتے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد از بس ضروری اسلئے آبجکشن اوور رولڈ ایک صاحب نے ’’ بے تکی باتیں ‘‘ کرنے کے بعد لکھا کہ ’’ہر مشکل کا حل ہوتا ہے آج نہیں تو کل ہوتاہے، پاگل کو سمجھانا کیسا پاگل تو پاگل ہوتا ہے پاگل کی جو باتیں سمجھے وہ بھی تو پاگل ہوتا ہے‘‘ خدا کی شان ہے کہ چینی اسکینڈل میں ملوث جہانگیر ترین تعلقات میں سرد مہری کے اعتراف کے باوجود کہنے پر مجبور کہ پی ٹی آئی نہیں چھوڑیں گے۔ جانتے ہیں پی ٹی آئی چھوڑی تو نیب نہیں چھوڑے گا جان کو آجائے گا۔ شہباز شریف کی طرح اپنے ہی شہر میں چھپتے پھریں گے۔ شہباز شریف پر یاد آیا وہ بھی احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی کی طرح کرونا میں مبتلا ہوگئے۔ ترجمانوں کو نواز شریف کی طرح ان کی بیماری پر بھی اعتبار نہ آیا۔ کہنے لگے، خانم میموریل اسپتال سے ٹیسٹ کرائیں تب جانیں گے نواز شریف کو بھی تو خانم اسپتال والوں نے ہی شدید بیمار قرار دیا تھا کہاں مانا گیا فواد چوہدری کا اوٹ پٹانگ بیان آگیا کہ رپورٹس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ کسی نے کہا رپورٹ واجد ضیاء کے حوالے کردیں۔ سب جعلی قرار پائیں گے۔ محلے میں ایک بزرگ کا انتقال ہوگیا تھا پڑوسی سالہاسال سے دشمنی کرتا آیا تھا دیکھ کر کہنے لگا مذاقیا تھا ہنس رہا تھا۔ بے تکی باتیں لیکن ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں بحرانوں پر بے تکے بیانات پر لوگ ہنستے ہیں۔ پیٹرول کا بحران بارہ چودہ دن بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر نے منہ پر ماسک چڑھا کر کہا منافع خوروں کو ذخیرہ اندوزی نہیں کرنے دیں گے حالانکہ سارا پیٹرول ذخیرہ کردیا گیا رٹ کہاں گئی؟ امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دہشت گردوں نے کبھی بھی امن تباہ کرنے کیلئے اجازت طلب نہیں کی۔ پی آئی اے کا طیارہ تباہ ہوا۔97 مسافر جاں بحق ہوگئے کسی نے وفاقی وزیر سے اشاروں کنایوں میں استعفیٰ دینے کیلئے کہا؟ آفرین ہے کس دھڑلے سے بولے۔ سب کیا دھرا ن لیگ اور پی پی حکومتوں کا ہے مجھ سے کسی نے استعفیٰ دینے کو کہا نہ دوں گا۔ صاحبان کردار و گفتار وزراء ہیں۔ ریلوے کے 19حادثات پر شیخ رشید استعفیٰ نہ دینے پر ڈٹ گئے۔ بخدا میں نے تو گاڑیاں پٹڑی سے نہیں اتاریں۔ تصادم کا ذمہ دار ڈرائیور تھا جاں بحق ہوگیا قصہ تمام ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا ریلوے پھٹیچر انجن ہیں نہ بوگیاں، آپ سے ریلوے نہیں چل رہی۔ ریمارکس کے باوجود وزارت قائم ریلوے کی حالت سدھارنے کے بجائے روزانہ آل شریف کے خلاف ایک بیان ایک ٹی وی پروگرام کوئی نہیں پوچھتا چینی اسکینڈل پر کمیٹی، کمیٹی کے بعد کمیشن، کمیشن کے آتے ہی بندہ لندن چلا گیا۔ اس تمام عرصہ میں چینی53کے بجائے85روپے بکتی رہی۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے بھی72کے بجائے82روپے کلو میں خریدی اس پر اوٹ پٹانگ بیان کہ عوام کو مہنگے داموں چینی فروخت نہیں کرنے دیں گے۔ چینی اب تک85روپے میں بکتی رہی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے70روپے کلو بیچنے کی شرط پر10دن کیلئے ایکشن سے روک دیا لوح محفوظ میں یہی لکھا تھا۔ تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ سو بات کی ایک بات نہ سمجھی اور انا نے پورے ملک کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اتنا نہ خوش گماں ہو یقین سے بھی جائے گا۔


ای پیپر