مسائل میں گھر ا وطنِ عز یز
15 جون 2020 (14:34) 2020-06-15

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے بادی النظر میں پاکستان پر کورونا وائرس کو روکنے میں ناسمجھی، غفلت، نااہلیت اور عاقبت نااندیشی کی فرد جرم عائد کردی ہے۔ حقیقت میں وفاق مارچ یعنی کورونا کے ابتدائے آفرینش سے موثر لاک ڈائون کی رٹ صوبوں پر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وزیراعظم کی ٹیم کو کورونا سے زیادہ اہم ٹاسک شاید دیئے گئے۔ ملک سیاسی اور معاشی دلدل میں پھنستا چلا گیا، کوئی مربوط سماجی و معاشی پالیسی پارلیمینٹ میں پیش نہیں کی گئی۔ سیاسی سٹیک ہولڈرز کو دیوار سے لگانے کی دیوانگی نے بھی حکمرانوں کو اندھی گلی میں دھکیل دیا۔ حکو مت کے پاس کو ئی دور اند یش صا حبِ رائے عہدید ار مو جو د نہیں۔ سب نو ر النور نو جو ان دزیراعظم کو نیک اور چونکا دینے والے مشورے دے رہے ہیں۔ کورونا کو ایک کوفناک دیو بنا کر طبّی دنیا کو مایوسیوں کا شکار بنادیا گیا جبکہ ارباب اختیار ٹویٹ اور ٹاک شوز سے کورونا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے رہے، جو اَب ایک ڈرائونے خواب کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ میڈیا کے مطابق نیب نے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسزعامر محمود کیانی اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایات پر تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل کرنا پاکستان کے لیے ضروری نہیں۔دراصل کورونا ایک بے بلائے درماں گھو سٹ بنا نے میں ہمارے باتدبیر وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی کا بھی اہم کردار ہے۔ چنانچہ صحت سے وابستہ فرنٹ لائن افرادی قوت اور پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ جو کام ہیلتھ سسٹم کی نگرانی اور معالجاتی اداروں اور تجربہ کار ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی بنیادی ذمہ داری تھی وہ فرائض بھی سیاست کی نذر ہوئے۔ کورونا پر سیاست کے نئے در کھلے حالانکہ جس دکھی انسانیت کی خدمت کا ایک شاندار باب حکومت اپنی دانشمندی سے رقم کرواسکتی تھی وہ مواقع بھی بے دردی سے ضائع کیے گئے۔ جن بزرجمہروں کا صحت سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا ان کے کاندھوں پر بھی بھاری ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ ظاہر ہے تکنیکی نزاکتوں اور انتظامی و پیشہ وارانہ باریکیوں سے چشم پوشی برتی گئی اور سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ حکومتوں نے جمہوری رویے سے سراسر گریز کیا گیا، ملک سیاسی جنگل بنادیا گیا، ریاست کے اندر ایک متحرک، متفقہ، نتیجہ خیز صحت میکنزم کے فقدان نے وہ ناگزیر مرکزیت ختم کردی جو کورونا سے نمٹنے کے لیے اشد ضروری تھی۔ اگر حکومت تدبر اور حکمت و دانش سے کام لیتی، مخالفانہ اقدامات کو سردست روک کر قوم کو ایک جاں فزا پیغام دیتی اور اپنے عمل سے سب کو متحد کردیتی تو نتائج مختلف ہوتے۔ عدلیہ کی پکار بھی نہیں سنی گئی جو پارلیمینٹ کی بالا دستی کے لیے دل سوزی کے ساتھ ریمارکس دیتی رہی ہے۔دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں لاک ڈائون میں نرمی اور کورونا کے پھیلائو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈائون ختم کرنے سے پہلے 6 شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے اور پاکستان لاک ڈائون خاتمے کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کے نام لکھے گئے خط میں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ لاک ڈائون میں نرمی کے بعد پاکستان میں کورونا کیسز میں

اضافہ ہوا، پاکستان کورونا سے متاثرہ 10 سرفہرست ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کی اہلیت بے حد ضروری ہے۔ پاکستان 2 ہفتے لاک ڈائون، 2 ہفتے نرمی کی پالیسی اختیار کرے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا مریض 26 فروری کو سامنے آیا اب وبا ملک کے تمام اضلاع میں پھیل چکی ہے، بڑے شہروں میں کورونا کیسز بڑی تعداد میں ہیں۔ لاک ڈائون کے خاتمے سے پہلے یقینی بنایا جائے کہ وبا مکمل کنٹرول میں ہے اور ہیلتھ سسٹم ہر کیس کی تشخیص، ٹیسٹ اور علاج کا اہل ہو۔ پاکستان قرنطینہ، سماجی فاصلے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے اقدامات اٹھائے اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ علاوہ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ روس اڈہانوم گیبریسس نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی کرنے سے جلدی بازی سے کام نہ لیں، عالمی سطح پر کورونا کیسز بدستور بڑھ رہے ہیں ۔ یورپ میں کورونا کیسز میں کمی ہوگئی ہے، یورپ کے بعد برازیل کورونا وائرس کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے یورپ میں کورونا کیسز میں کمی کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔بلاشبہ وقت کی ضرورت تھی کہ مختلف الخیال عناصر اپنی ناتدبیریوں سے وبا کو ہلاکت خیز نہ بناتے، مگر انہوں نے نرالی راہیں نکالیں اور حکومت کو الجھا کر رکھ دیا۔ ادارے ایک پیج پر ہوں گے تو پالیسیوں پر عمل درآمد میں دشواریاں کم ہوں گی۔ مگر جب حکومت کا ذہن خود کئی چیزوں میں الجھا ہوا ہو تو بہت سے معاملات کاروبار ریاست کے لیے ناقابل بیان چیلنجز بن جاتے ہیں، یہی صورت حال حکومت کو درپیش ہے۔ سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی اور اپنے من پسند احکامات اور منطق پر عمل کیا جو انجام کار ہر مناسب اقدام پر بھی بلڈوزر پھیر گئے۔ اب لازم ہے کہ حکومت معیشت، کورونا اور ریاستی اہداف اور عالمی سیناریو کے سیاق و سباق میں پیش رفت کرے۔ مسئلہ صرف کورونا سے نمٹنے کا نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اک دست تہہ سنگ قسم کی صورت حال سے چو مکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان پر ناگفتہ بہ حالات اور قوم سے کیے گئے وعدوں کا زبردست بوجھ ہے۔ ملک کھربوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری بے قابو جبکہ پٹرول کی قلت سے شہری پریشان ہیں۔ اس قلت کے معمہ کی بھی اپنی ایک اقتصادی اور کاروباری پیچیدگی ہے، لوگ سمجھ نہیں پائے کہ دنیا میں پٹرول اتنا سستا ہوا کہ بے مول ہوگیا۔ پھر عالمی آئل مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ ان ملکی آئل کمپنیوں نے اپنا سٹاک پرانے اور سستے ریٹ کے تناسب سے محفوظ کیا تھا ان انہیں بھی مسابقتی عوامل کا سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں گرنے کے فائدے کی ترسیلات زر میں کمی نے نفی کردی ہے۔ حکومت عوام کو سستے تیل کے حقیقی ثمرات نہیں دے سکی، اُلٹا ملک بھر کے پٹرول پمپوں سے پٹرول غائب ہوگیا۔ گندم کی ذخیرہ اندوزی بچنے کے لیے گندم امپورٹ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ سنا ہے مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی دستیابی کی صورت حال بہتر ہوگی۔ ادھر چینی مافیا کی گردن ناپنے کے لیے حکومت کے لیے مافیا کی شناخت کا مسئلہ بھی گھمبیرتا ہے۔ تاہم حکومت کا عزم ہے کہ چینی مافیا کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ لیکن اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ٹڈیوں کی ایک بار پھر یلغار کا بگل بجنے والا ہے۔ ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ٹڈی دَل کسی مزید ہولناکی کے انتظار میں ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت بھی بس انتظار میں ہے۔ کوئی ایسی حکمت عملی کا لائحہ عمل جس سے ٹڈی دَل کا صفایا ہو وہ نظر نہیں آتی۔ ٹڈیوں کی مقامی کھپت اور تجارتی افادیت کا معاملہ بھی محض حکومتی تجاویز تک محدود ہے۔ بلوم برگ نے ٹڈیوں کے حملے کو کورونا سے بڑا بحران قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اس سے معاشی کساد بازاری بھی جنم لے سکتی ہے، فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بہر کیف دیکھنا یہ ہے کہ وفاق کے ساتھ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں ٹڈیوں کو ٹھکانے لگانے میں کس حد تک اشتراک عمل سے کام لیتی ہیں، ٹڈیوں نے بھارت اور ایران کی طرف اڑان بھرنے کا بھی ٹائم ٹیبل نہیں دیا ہے۔ صحت مبصرین کے مطابق صوبوں نے دیدہ دلیری یا چالاکی سے لاک ڈائون، فیس ماسک، سماجی فاصلہ اور بھیڑ سے گریز کی واضح ہدایات سے مجرمانہ چشم پوشی پر نرمی دکھائی، بازاروں میں ہجوم دکھائی دیا اور کورونا کے بتدریج پھیلائو کے خطرات سے چشم پوشی کی جس کی آج پوری قوم کو بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ یہ صحت کے نظام کی کھلی شکست اور عالمی ادارہ کے سامنے ملک کی سبکی ہوئی ہے۔ پاکستان کورونا کی عدالت میں بطور مجرم دسویں ملک کی فہرست میں شامل ہے۔ اس افسوس ناک صورت حال میں وہ تمام عناصر اور ادارے ذمہ دار ہیں جو کورونا پرقومی اتفاق رائے کی تشکیل کے عظیم بریک تھرو سے قاصر رہے۔


ای پیپر