عمران خان، سنتھیا، کالا باغ اور جہانگیر ترین
15 جون 2020 (14:34) 2020-06-15

وزیراعظم صاحب نے فرمایا ہے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے کورونا ختم نہیں ہوگا صرف اس کے پھیلنے کی رفتار کم ہو جائے گی۔ جناب رفتار ہی کم کرنی ہے۔ ختم کرنے کا کس نے کہہ دیا آپ سے۔ یاد رکھیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھوک سے ملک میں ایک بھی موت رپورٹ نہیں ہوئی جبکہ کورونا سے دو ہزار سے زائد خاندان تباہ ہو گئے ہیں۔ جن ممالک نے لاک ڈاؤن کھولا ہے کورونا کی شدت کم ہونے پر کھولا ہے۔ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنا عقلمندی نہیں ہے۔ پالیسی ری وزٹ کریں۔عوام سے بھی گزارش ہے کہ اگر آپ خود اپنا خیال نہیں رکھ سکتے تو کوئی کیسے رکھ سکتا ہے۔ اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے ہی احتیاط کر لیں۔ وزیراعظم نہیں پہنتا ماسک نہ پہنے۔ آپ تو پہنیں۔ بلاوجہ گھر سے نہ نکلیں۔ سوشل ڈسٹنسنگ کا خاص خیال رکھیں۔ جب آپ چھ فٹ دور سے کسی کو مخاطب کریں گے تو وہ سمجھ جائے گا کہ آپ کوئی غلط کام نہیں کر رہے بلکہ احتیاط کر رہے ہیں۔ چھ فٹ دور سے بات نہ کرنا اور ماسک نہ پہننا صرف ایک جھجک ہے۔ جب آپ ایک مرتبہ یہ شروع کر دیں گے تو آپ اس میں راحت اور تسلی محسوس کریں گے۔ آپ کو دیکھ کر لوگ بھی اس پر عمل کریں گے۔

سنتھیا ڈی رچی نے ٹویٹ کیا ہے کہ رحمان ملک اور دیگر پی پی کی قیادت سے لڑنے کے لیے فنڈ درکار ہیں۔ شاید سنتھیا کو کسی نے بتادیا ہے کہ یہاں وزیراعظم بھی عوام کو دینے کی بجائے مانگ رہا ہے اس لیے اسکی بھی ہمت بندھی ہے۔ نجانے دنیا کی عوام پاکستان کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ سنتتھیا کی ڈیمانڈ دیکھ کر یہ احساس ہونے لگا ہے کہ امریکہ کی عوام بھی پاکستانی عوام کو بہت امیر سمجھتی ہے۔ بے شک پاکستانی فی کس آمدن کے اعتبار سے دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والے ملکوں میں شامل ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اب سنتھیا کو بھی پیسے دیے جائیں۔ عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کیا تو عوام بھوکی مر جائے گی جبکہ سنتھینا جانتی ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ پاکستانی صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ کے پیسوں سے شوکت خانم، ایدھی، اخوت، سیلانی ٹرسٹ، صغرٰی شفیع میڈیکل کمپلکس سمیت ہزاروں ایسے ادارے چلا رہے ہیں جن کے سالانہ بجٹ اربوں روپوں کے ہیں۔ جب یہ سب پیسے پاکستانی دے سکتے ہیں تو مجھے بھی پیسے مل ہی جائیں گے۔ یہ ہنسنے کی بات نہیں ہے۔ آپ یقین جانیے لاکھوں پاکستانی سنتھیا کو پیسے دینے کے لیے تیار کھڑے ہوں گے۔ بلکہ لائن میں لگ کر کھڑے ہوں گے۔ ابھی بھی اگر خان صاحب کو لگتا ہے کہ پاکستانی عوام بھوک سے مر جائیں گے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن خان صاحب یہ اعلان کریں گے کہ میں نے لاک ڈاؤن نہ لگا کر غلطی کی۔ پاکستانی عوام واقعی بھوک سے نہیں مر سکتی۔

چینی سکینڈل، آٹا سکینڈل، ادویات سکینڈل اور اب پیٹرول سکینڈل۔ یہ رپورٹ چند حالیہ چند ماہ کی ہے۔ اب پندرہ دن گزر چکے ہیں لیکن عوام کو تیل کی سپلائی نہیں مل رہی۔ وزیراعظم صاحب پیٹرول سیکنڈل کے آٹھ روز بعد کابینہ اجلاس میں فرما رہے ہیں کہ میں نے ایشیا میں پیٹرول سب سے زیادہ سستا کیا تھا۔ اسے غائب کس نے کر دیا۔ جناب یہ سوال عوام آپ سے پوچھ رہی ہے۔ اگر آپ عوام کو پیٹرول مہیا کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں تو یہ آپ کی نالائقی، نااہلی اور کمزور حکمت عملی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایوب خان دور میں نواب آف

کالا باغ کو علم ہوا کہ اگلے روز طلبا ایوب خان کی حکومت کے خلاف لاہور مال روڈ پر احتجاج کریں گے۔ نواب صاحب نے پولیس چیف کو بلاکر کہا کہ کل اگر طلبا احتجاج کریں تو گولی چلا دینا۔ چیف نے کہا کہ آپ کا آرڈر تحریری چاہیے۔ نواب صاحب نے گولی چلانے کے تحریری آرڈر پر دستخط کر دیے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بیوروکریٹس کے بچے بھی پڑھتے تھے جو اس احتجاج میں پیش پیش تھے۔ وہ جانتے تھے کہ نواب صاحب جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ان کا حکم کوئی نہیں بدل سکتا۔ اگر گولی کا کہا ہے تو وہ ہر صورت چلے گی۔ اس ڈر کی وجہ سے اگلے دن طلبا نے احتجاج منسوخ کر دیا۔ ایوب خان پنڈی میں بیٹھے اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے نواب صاحب کی انتظامی صلاحیتوں کو سراہا۔ خان صاحب نواب صاحب تو نیک نامی کر گئے لیکن آپ کیا کر رہے ہیں۔

روز نئے نئے سکینڈل اور عوام کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے خان صاحب صرف وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ یہ ان کی ضد تھی۔ ان کا خیال تھا کہ میں نے اللہ سے آج تک جو مانگا ہے مجھے مل گیا۔ لیکن وزارت عظمی نہیں مل رہی۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے ہر جائز و ناجائز راستہ استعمال کیا۔ چاہے وہ مافیا کے ساتھ ہاتھ ملانا ہو، اسٹبلشمنٹ کے کندھے پر چڑھنا ہو یا مبینہ طور پر درباروں پر سجدے کرنا ہو۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کی انا کی تسکین پوری ہو گئی ہے۔ انھیں یہ بھی یقین ہو گیا ہے کہ وہ ایک کامیاب انسان ہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی کی جو آخری سیڑھی تھی وہ بھی وہ چڑھ گئے ہیں۔لہذا عوام کا اللہ حافظ ہے۔وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان اختلافات چینی کی وجہ سے نہیں بلکہ جہانگیر ترین کی اس دھمکی کی وجہ سے ہیں۔‘‘ اگر کسی نے مجھ پر ہاتھ ڈالا تو یہ حکومت گر جائے گی’’۔ عمران خان فطری طور پر ہر اس شخص کے خلاف ہوجاتے ہیں جو انھیں للکارتا ہے۔ ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے دشمن کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہی عمران جہانگیر اختلاف کی بنیادی وجہ ہے۔


ای پیپر