قوم کی بیٹی…
15 جون 2020 (14:33) 2020-06-15

عالمی سطح پر جاری وباء اور امریکہ میں نسلی فسادات کے تناظر میں سربراہ عافیہ موومنٹ کراچی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دیگر کالم نگاروں کی طرح راقم کو بھی نامساعد حالات کی جانب متوجہ کیا ہے جو امریکی جیلوں میں کرونا کی بدولت قیدیوں کو در پیش ہیں، اپنے خط میں انھوں نے ایک مسلم قیدی کی اذیت ناک موت کا بھی حوالہ دیا ہے جو اپنی گیارہ سالہ قید مکمل کر چکا تھا اسکی رہا ئی میں صرف چار ماہ باقی تھے کہ وہ جیل انتظا میہ کی غفلت اور کرونا کے باعث ہلاک ہو گیا،محمد یوسف نامی اس قیدی کا تعلق سویڈش سے تھا،امریکی فیڈرل جیل میں ایک مسلمان پر قریبا وہی الزامات تھے جن کا سامنا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوہے، نارواسلوک کے واقعات بھی ڈاکٹر صاحبہ سے ملتے جلتے تھے، موصوف کی اذیت ناک موت کا احوال انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم Coliation for Civil Freedom کی ویب سائیٹ( سی سی ایف) پر دستیاب ہے، نسلی، مذہبی، لسانی تعصب کے حوالہ سے امریکہ اچھی شہرت نہیں رکھتا، بالخصوص جیل میں قیدیوں کے ساتھ جانب دارانہ رویہ اپنایا جانا تو معمول کی بات ہے، دوسری جانب وباء کی امریکی جیلوں میں آمد نے کراچی میں مقیم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کو سوگوار کر دیا ہے ۳۷ سالہ صومالی مسلم نوجوان کی کرونا سے موت اسکی بڑی شہادت ہے، دستیاب حالات میںاہل خانہ کا کسی خوف اور غم میں مبتلا ہو نا فطری عمل ہے، ہرچند کہ انھوں نے حکام بالا کی توجہ بھی مبذول کروائی ہے لیکن میڈیا کی وساطت سے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی توجہ حاصل کرنا بھی مقصد ہے، تاکہ انسانی بنیادوں پر ڈاکٹر عافیہ کی رہا ئی کو یقینی بنانے کے لئے کاوش کی جا سکے۔

باوثوق ذرائع بتا تے ہیںکہ امریکی صدر ٹرمپ نے وار کرائم میں ملوث متنازعہ بہت سے فوجی افسران کی سزا معاف کی ہے،ذمہ داران کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ذہنی حالت بھی ایسی نہیں ہے کہ اب انکا مزید ٹرائیل جاری رکھا جاسکے، شائد کرہ ارض پر یہ واحد خاتون ہوں گی جن کو اس حالت میں بھی قید میں رکھا جارہا ہے،دنیا کی سپر طاقت اس نہتی، بیمار مسلم خاتون سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ تفتیش کے دوران امریکی فوجی پر محض گولی چلانے کی 86برس سزا قانونی،

اخلاقی، مذہبی اعتبار سے لائق انصاف نہیں ہے۔یہ سزا اس جسمانی تشدد کے علاوہ ہے جو افغانستان کی سرزمیں پر بلگرام کے عقوبت خانے میں روارکھا گیا تھا، جس کی گواہی ، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم’’ ایشین ہومین رائٹس‘‘ نے ان خدشات کے ساتھ دی تھی کہ قیدی نمبر۶۵۰ ممکنہ طور پر ڈاکٹر عافیہ ہی ہو سکتی ہیں جو ان دنوں امریکیوں کے ہاتھوں زیر عتاب تھیں، اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مظلوم ڈاکٹر عافیہ پر بیہمانہ پرُ تشدد واقعات کی تصدیق کی تھی، موصوفہ کو بحثیت پاکستانی شہری آئینی طور پر جان، مال کا تحفظ اسی طرح میسر تھا جس طرح عام فر د کو ہوتاہے، ان دنوں آئین ڈاکٹر صاحبہ کو تحفظ دینے میں اس لئے بھی ناکام رہا کہ وہ بیچارہ معطل تھا اور ایک سپہ سالار یہاں برسراقتدار مگرکسی سے ڈرتے ورتے نہ تھے۔

نسل نو کو بتانا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کون ہے،کراچی سے تعلق رکھنے والی مشرقی مزاج کی قوم کی یہ بیٹی نوے کی دہائی میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے امریکہ گئی تھی،بورسٹن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حصول میں کوشاں تھیں، انھوں نے نورولوجی میں ڈگری لی، اور اپنے گھر کراچی آئیں،انکی آمد کے بعد نائن الیون کا سانحہ ہوگیا، اس کے بعد بھی وہ امریکہ چلی گئیں،۲۰۰۳ میں جب وہ پھراپنے وطن آئیں تو اچانک ایک ایجنسی ایف بی آر پر منکعشف ہوا کہ موصوفہ القاعدہ کی بہت بڑی آپریٹر ہیں، انکے دیگر دہشت گرد تنظیموں سے بھی تعلق ہے، پروپیگنڈہ کے اُ س دور میں کون نہیں جانتا تھاکہ ہمیشہ اسکی بات ہی سچ مانی جاتی تھی جو طاقت ور تھا، اسکی پاداش میں ہی ان پر ظلم اور تشدد روا رکھا گیا،اذیتیں دیں تاآنکہ وہ ذہنی طور پر متاثر ہو گئیں، طرفہ تماشہ یہ ہے کہ عدالت نے جس جرم پر سزا سنائی تھی اس میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی الزام سرے سے عائد ہی نہیں کیاگیا بلکہ تفتیش کے دوران ایک امریکی فوجی پر گولی چلانے کا الزام لگایا گیا تھا،اُس وقت ہمارے ہاں امریکی عدالت کے فیصلہ پر ’’ڈوگر کورٹ‘‘ کی بپتھی کسی گئی تھی، ایک ایٹمی ملک کی بیٹی نا کردہ گناہ کی سزا امریکی جیل میں کرونا جیسے خوفناک ماحول میں بھگت رہی ہے، اگر کوئی پوچھنے والا ہوتا تو اُس وقت کے صدر بش سے پوچھتا کہ عراقی قوم کا خون امریکیوں سے کیا سستا ہے؟ جن پر جھوٹے الزام کی پاداش میں بم برسائے گئے مگر محض گولی چلانے پر اتنی بڑی سزا؟ جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو اس سے کون سوال کر سکتا ہے اس کے لئے بھی دل، گردہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر قوم کا حافظہ کمزور نہ ہوتو ہم عرض کئے دیتے ہیں کہ کپتان نے بھی اپنے انتخابی منشور میں ان تمام سیاسی قیدیوں کو وطن لانے کا عہد کیا تھا، جن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سر فہرست تھیں، اللہ تعالیٰ نے کرسی اقتدار پر انھیں برا جمان کر دیا ، ڈیڑھ سال سے وہ حکومت کو’’ انجوائے‘‘ کر رہے ہیں کم از کم دو بار امریکہ کی یاترا بھی کر آئیں ہیں مگر قوم سے کیا گیا وعدہ وفا نہ ہوسکا ہے، اب تو وہ ماحول بھی نہیں ہے، القاعدہ قصہ پارینہ ہو چکی ہے، ڈاکٹر صاحبہ پر اس طرح کی تنظیموں سے کوئی تعلق بھی ثابت نہیں ہوا ہے تو پھر یہ کیوں پابند سلاسل ہیں؟

ہم سے بہتر تو وہ طبقہ نکلا، جو ایٹمی طاقت تو نہیں رکھتا مگر غیرت اور حمیت سے مالامال ہے، جنہوں انکل سام کی گردن پر پائوں رکھ کر اپنے قیدی بلامشروط چھڑا لئے ہیں، طالبان ،امریکہ کے مابین’’ سہولت کار‘‘ کا فریضہ جب ہماری سرکار مذاکرات کے لئے انجام دے رہی تھی تو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا وہ سنہری موقع تھا، فائدہ نہ اٹھاکر غفلت کا ثبوت دیا گیا ہے، اس وقت جبکہ کرونا امریکی جیلوں تک سرایت کر چکا ہے، نسلی فسادات ا س کے علاوہ بڑا خطرہ ہے،سفارتی سطح پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو ایجنڈا کا حصہ بنانا لازم ہے، تادم تحریرپارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ہو رہا ہے، قریبا تمام پارلیمانی جماعتوں نے موصوفہ کی رہائی میں معاونت کا وعدہ متاثرہ خاندان سے بھی کر رکھا ہے، اسکو وفا کر نے کا موقع آخر کب آئے گا؟

اس وقت بڑی بڑی شخصیات جس طرح کرونا سے متاثر ہو ئی ہیں وہی اس کا درد محسوس کر سکتے ہیں،اس کے پیش نظر،باقی ماندہ کو محتاط رہنے کی جس شدت سے تلقین کر رہے ہیں وہ قابل توجہ ہے حالنکہ وہ اپنی ریاست میں اپنے پیاروں کے درمیان موجود ہیں، ذراچشم تصور میں لائیں کہ جن بچوں کی ماں غیروں کی قید میں ہو، اسکو کس قدر سنگین خطرات کا سامنا ہوگا؟ جبکہ سویڈش نژاد کی جیل میں اذیت ناک موت کی حقیقت متاثرہ خاندان کے سامنے بھی ہو۔

اپوزیشن میں ڈاکٹر عافیہ کپتان کے لئے قوم کی بیٹی تھی، اقتدار میں آتے ہی اس سے لاتعلقی ،بے اعتنائی کسی خوف کا پتہ دیتی ہے، کالم کی وساطت سے مقتدر طبقہ کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا وعدہ ہی یاد دلانا مقصودہے۔


ای پیپر