گستاخان ِصحابہ ؓو اہل بیتؓ کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت
15 جون 2020 (14:32) 2020-06-15

مسلم لیگ ق کی رکن پنجاب اسمبلی خدیجہ عمر کو سلام کہ جس نے حضرت محمد ؐ ، صحابہ کرام ؓ،اہل بیت عظامؓ اور دیگر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی درس کتابوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں ’’پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ترمیمی بل ‘‘ پیش کر کے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے ہیں ۔ تمام اراکین اسمبلی کو سلام کہ یہ بل متفقہ طور پر منظور کر لیاگیا ۔ سپیکر چوہدری پرویز الٰہی بھرپور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہی کی کوششوں سے یہ اہم قانون سازی ممکن ہو سکی ہے۔یہ بل 9جون کو منظور کیا گیا اور اس سے قبل 5جون کو پنجاب اسمبلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہاتھا کہ ’’ہمارے لیے یہ بات کس قدر باعث ندامت ہے کہ پاک سرزمین پر ایسی کتابیں موجود ہیں جن میں عقیدہ ختم نبوت،حضرت محمد ؐ ، امت کی عظیم ماں حضرت عائشہ صدیقہؓ طیبہ طاہرہ (جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن پا ک میں اللہ نے دی ہے)،حضرت علی المرتضٰیؓ ٰ اور دیگر صحابہ کرامؓ و اہلبیت عظامؓ کی گستاخی کی گئی ہے‘‘۔

یہ بلاشبہ پنجاب اسمبلی کا ایک مثبت اور تعمیری فیصلہ ہے جس کی بھرپور تحسین ہونی چاہیے ۔بل کی منظوری سے مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیاہے۔اس بل کے تحت پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو پابند کیاگیا ہے کہ وہ اسلامی کتابوں کی اشاعت سے قبل متحدہ علماء بورڈ سے منظوری حاصل کرے گااور اس کے ساتھ ساتھ متنازع مواد چھاپنے والوں کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔دوسری طرف صوبائی وزیر قانون راجہ بشار ت کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی سفارش پر اسلامی تاریخ کی جن تین متنازع کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں امریکی مصنفہ لیزلی ہیزلٹن کی دو کتابیں’’دی فرسٹ مسلم‘‘اور’’آفٹر دی پرافٹ‘‘اور ایک پاکستانی مصنف مظہر الحق کی کتاب’’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘‘شامل ہے۔ وزات داخلہ کوکہا گیا ہے کہ وہ ان کتابوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن کر کے جلداسمبلی میں پیش کرے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مظہر الحق کی یہ کتاب 1977ء سے مسلسل شائع ہو رہی ہے اور سول سروس (سی ایس ایس )کے امتحانا ت میں سلیبس کے طور پربھی تجویز کی جاتی رہی ہے۔امریکی مصنفہ کی دو کتابیں2009ء اور2013ء میں شائع ہوئیں۔

قارئین! یہ با ت کس قدر تکلیف دہ ہے کہ اسلام کے نام پر قائم کردہ ریاست میں مقدس ترین شخصیات کے خلاف گستاخانہ لٹریچر لکھا اورشائع کیا جاتا ہے ۔ ایسے مصنفین و ناشرین کے خلا ف کبھی بھی بڑی سطح پرکوئی کارروائی نہیں کی گئی کہ جس سے ان عناصر کی حوصلہ شکنی ہوتی۔یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ محض گستاخانہ کتابوں کی ضبطی،اشاعت و فروخت پر پابندی سے کچھ حاصل نہیں ہوگاجب تک مصنفین و ناشرین کے خلاف سخت کارروائی بروئے کار نہیں لائی جاتی۔افسوس اس پر بھی ہے کہ ایسی کتابیں ہمارے سلیبس میں بھی شامل کر دی گئی ہیں۔درسی کتب کی اشاعت تو ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور مقدس ہستیوں کے بارے میں دی گئی معلومات اور واقعات کے متعلق بے حد احتیاط اور اعتدال کی ضرورت ہوتی ہے ۔حضرت محمد ؐ ، صحابہ کرام ؓ،اہل بیت عظامؓ اور دیگر مقدس ہستیاں ہمارے ایمان کاحصہ ہیں ، بعض بدبخت نصابی کتابوں میں ان شخصیات کے خلاف زہر اگلتے ہیں جس سے تعلیمی اداروں کے بچوں کے ذہن خراب ہوتے ہیں اوران میں مقدس شخصیات کے متعلق شکوک و ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ درسی کتب کے حوالے سے کچھ عرصہ سے تو ایسی مکروہ سازشیں بہت زور پکڑ چکی ہیں۔ ایسی آراء بھی سامنے آرہی ہیں کہ جب بھی کسی کتاب پرپابندی لگتی ہے اس کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور لوگوں میں اس کے مطالعہ کا تجسس مزید بڑھ جاتا ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے اور ایسی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مصنفین کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ جو مرضی ’’الم غلم‘‘ لکھتے چلے جائیں،کچھ ریاست کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے مواد کو پھیلنے سے روکے اور مقدس شخصیات کے تحفظ کے لئے قانون سازی کرے۔ان سطور کی وساطت سے ہم دیگر صوبوں اور وفاق سے بھی گزارش کریں گے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ فیصلہ ان کے لئے بھی مشعل راہ ہے ، وہ بھی ایسی ہی قانون سازی کی جانب توجہ دیں۔

پنجاب اسمبلی میں منظور کیے گئے بل کی جس قدر تحسین کی جائے کم ہے لیکن دوسر ی طرف ایک المیہ یہ بھی کہ اب بات کتابوں ، رسالوں ، پمفلٹس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے ۔ اب توجدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ بالخصوص سوشل میڈیا پر جس قدر مقدس شخصیات کی توہین کا سلسلہ زور وشورسے جاری ہے اس کا سدباب بھی بے حد ضروری ہے ۔ گستاخانہ آئی ڈیز کے خلاف ایف آئی اے اور سائبر کرائم ونگ کو بھرپور اختیارات دیئے جانے چاہیئںاور ان آئی ڈیز پر موجود تضحیک آمیز مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ایف آئی اے، پی ٹی اے ،پولیس، آئی ایس آئی اور آئی بی کے ذریعے ان آئی ڈیز کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرکے ان کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔

مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے متعلق ایک اور اہم معاملے کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا ۔ ملک پرویز اقبال سینئر قانون دان اور ہمارے دوست ہیں ۔ انہوں نے راقم کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں صرف دائو دخیل ضلع میانوالی میں گستاخی صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے پانچ مختلف واقعات رونما ہو چکے ہیں۔مدعی ہونے کے باوجود ایس ایچ او سرکار ی مدعیت میں ایف آئی آ ر درج کر دیتا ہے اور ہر ایسے کیس میں صرف ایک ہی دفعہ 298-Aجو کہ فوری قابل ضمانت ہے لگا کر اپنی چھڑواتا ہے ۔ پرویز اقبال ایڈووکیٹ کاکہنا ہے کہ یہ دفعہ انتہائی کمزور ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملزم بڑے مزے سے عدالت آتا ہے ، ایک لمحہ بھی اسے ہتھکڑی نہیں لگتی اور وہ ضمانت کروا کر چلا جاتا ہے جبکہ توہین صحابہ کرام ؓ و اہل بیت ؓ پر کئی سیکشن بنے ہوئے ہیں جن میں ایک 295-Aہے جس کے تحت کم از کم دس سال سزا ہو سکتی ہے لیکن پولیس یہ دفعہ نہیں لگاتی اور ہمیشہ کمزور ایف آئی آر درج کر تی ہے ۔پرویز اقبال کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک چھٹا کیس دریاخان میں پیش آیا وہاں بھی پولیس نے یہی 298-A کی دفعہ لگائی ہے اور کیس کے اصل مدعی ہونے کے باوجود پولیس خود مدعی بن گئی ہے۔پرویز اقبال کا کہنا تھا کہ کسی بھی کیس میں جب مدعی خود موجود ہوتو پھر پولیس مدعی نہیں بن سکتی۔یاد رہے کہ 298-Aایسا سیکشن ہے جو فوری قابل ضمانت ہے جبکہ اس کے ساتھ ایک295-Aکی دفعہ ہے جس کی آسانی سے ضمانت نہیں ہوتی اور اس سے ملزم کو سخت سزا ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔اعلیٰ حکام ،آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جیز اس بات کا نوٹس لیں اور مقدس شخصیات کی گستاخی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کریںتاکہ معاشرے سے ایسے شرپسند عناصر کا قلع قمع کیاجا سکے ۔


ای پیپر