احتساب، احتساب، احتساب…؟
15 جون 2019 2019-06-15

فضا احتساب کے غلغلے سے گونج رہی ہے، گرفتاریاں زوروں پر ہیں… حکومت کا دعویٰ ہے اگرچہ وہ خوش ہے کہ قومی خزانے کو لوٹنے والے والوں اور پاکستان کو دوسروں کا محتاج بنا کر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں بنانے والوں کو شکنجے میں لے لیا گیاہے …ہماری تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سابق صدر مملکت تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والا معروف سیاستدان اور دو بار پنجاب جیسے صوبے کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر بیٹھ کر وسائل استعمال کرنے والے شخص نیز گرفتار شدہ سابق صدر کی ہمشیرہ سمیت سب کو کرپشن کے الزام میں پابند سلاسل کر دیا گیاہے… اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں… سارا کام نیب کے ہاتھوں سے ہو رہا ہے جو آزاد ادارہ ہے… بس ہمارے لیے باعث اطمینان امر یہ ہے اتنا بڑا فریضہ ہمارے دور میں سر انجام پا رہا ہے… ہمارا ایک وزیر عبدالعلیم خان بھی اسی ریلے میں بہتا ہوا جیل چلا گیا، ہم نے پرواہ نہ کی… اب آصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور شریف خاندان کے لخت جگر حمزہ کو نیب کی جانب سے جیل میں پھینک دیئے جانے کے بعد ہمارا ایک صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان اسی حشر سے دوچار ہوا ہے تو اعتراض نہیں… احتساب ہر ایک کا اور بلا امتیاز ہونا چاہیے… ہمارا دور اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ ایسا ہوتا نظر آ رہا ہے… دوسری جانب اپوزیشن کے قائدین اور گرفتار شدہ رہنماؤں کے سیاسی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ سب کچھ انتقامی کارروائی کے تحت کیا جا رہا ہے… عبدالعلیم خان اور سبطین خان کو بروزن قافیہ اندر کیا گیا… ایک باہر آ گیا ہے دوسرے کی بھی جان چھوٹ جائے گی… موجودہ حکومت اور نیب کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے… کیونکہ اگر اپوزیشن کے قد آور رہنما جنہیں حکومت چلانے کا بہت تجربہ ہے اور جن کی انگلیاں سیاست ملکی کی نبضوں پر ہیں انہیں آزادی سے گھومنے پھرنے اور بھرپور طریقے سے میدان سیاست میں اترنے کا موقع دیا جائے تو اس حکومت کے لیے چلنا مشکل تر ہو جائے… اس کے پاس قومی اسمبلی میں صرف 7 ووٹوں کی اکثریت ہے… پنجاب جیسے صوبے میں بھی پارلیمانی قوت کے لحاظ سے اس کا اقتدار کچے دھاگے کے ساتھ بندھا ہوا ہے… اس کی وکٹ اپوزیشن کے اتحادی چھکے کیا ایک چوکے کی مار نہیں… کیونکہ اگر اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اپنی چار نشستوں کی حمایت واپس لے لے تو حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے …وہ قومی بجٹ منظور نہ کرا سکے گی… اپنی تمام تر پارلیمانی طاقت اور حمایت کے لیے مانگے تانگے کی صرف چار یا سات نشستوں کی محتاج ہے… اس لیے سخت خوفزدہ ہے… کسی وقت بھی بلاوا آ سکتا ہے… حفظ ماتقدم کے طو رپر نیب کے ساتھ مل کر گرفتاریوں کے ایجنڈے کی تکمیل پر شاداں نہ ہو اور مددگار نہ بنے تو کیا کرے… سو ہمیں احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے…

اصل حقیقت کیا ہے … پاکستان شروع سے یہ کلچر فروغ پا چکا ہے کہ جس سیاستدان کو بھی گرفتار کیاجاتا ہے، اسے سزا دی جاتی ہے… وہ شور مچا دیتا ہے کہ اس جتنا بے گناہ کوئی نہیں… چونکہ اسے میدان سیاست اور انتخابی کھیل میں مار نہیں دی جا سکتی، اس لیے حکومت اور وقت کی اسٹیبلشمنٹ مل کر جیلیں بھرنا شروع کر دیتے ہیںاور آخر کار رہا کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں… یہ تماشا اس ملک کی تاریخ کے روزاول سے چلا آ رہا ہے… اس کے ساتھ تصویر کا دوسرا پہلو بھی ہے … ہماری حکومتیں جن میں زیادہ تر مارشل لائی اور نیم فوجی رہی ہیں اور الا ماشاء اللہ خالصتاً سویلین کو بھی اگر تھوڑا بہت موقع ملا ہے ، ان سب کو مخالفین کو جیلوں کے اندر پھینک دینے کے سوا اطمینان اور سکون کے ساتھ حکومت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں آیا… نعرہ سب نے گزشتہ 70 برسوں کے دوران احتساب بلکہ کڑے اور بلا امتیاز احتساب کا بلند کیا ہے… مگر اندر سے اور آخری تجزیے کے طور پر وہ انتقامی کارروائی ثابت ہوئی ہے… یہاں تک کہ کل کا غدار آج کا حکمران بن جاتا ہے اور وہ آ کر نئے غداروں کو ڈھونڈھ کر ان کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے وہی سلوک روا رکھتا ہے جو کبھی اس کے ساتھ ہوا تھا… نتیجہ یہ ہے کہ آپ احتساب کا نعرہ بلند کر کے اپنے سیاسی مخالف کو ملزم یا مجرم کا روپ دے کر اس کا گھیرا تنگ کر کے رکھ دیتے ہیں دوسری جانب وہی سیاستدان، پارٹی رہنما یا اپنے وقت کا صدر اور وزیراعظم واویلا مچا کر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتا نتیجے کے طور پر ملکی سیاست مسلسل تصادم کا شکار رہتی ہے ہماری تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھ لیجیے… 20، 40 یا 50 اور 60 سال پہلے بھی یہی کچھ ہو رہا تھا ، آج بھی اسی ناٹک کو دہرایا جا رہا ہے… یہ ایک بڑا سبب ہے جس کی بنا پر ملک اور قوم مسلسل تنزل کی جانب لڑھک رہے ہیں… ترقی اور معاشی خوشحالی جس کا نعرہ ہمارے ملک کا ہر جائز اور ناجائز ، سول ، نیم سول ، فوجی یا فوج کی چھتری تلے اقتدار سنبھالنے والا حکمران بلند کرتا ہے، اس کی حیثیت کھوکھلے نعرے کے علاوہ کچھ نہیں رہتی… احتساب بلا شبہ ایک پاکیزہ اور جسد قومی سے فاسد مادہ نکال کر اس کی رگوں کے اندر تازہ خون دوڑانے کے عمل کا نام ہے… دنیا کی کوئی زندہ و توانا اوراپنے آپ کو کامیابی و کامرانی کی شاہراہ پر گامزن رکھنے والی قوم اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی… آئین کی سر بلندی اور جمہوریت کے تسلسل کے ساتھ احتسابی عمل کا جاری و ساری رہنا اتنا ہی ناگزیر ہے ، جتنے قوموں کو اندرونی و بیرونی لحاظ سے صحت مند اور طاقتور رکھنے کے دوسرے عوامل … مگر جب ہم احتساب کے نام پر ایک دوسرے پر سیاسی گندگی اور کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے بجائے اس کے عفریت کو دودھ پلا پلا کر حیات نو بخشنے کا ’فریضہ‘ سر انجام دینے لگ جاتے ہیں… جنرل پرویز مشرف کے دور آمریت سے لے کر تا ایں روز ہم نے یا ہم پر مسلط اصل حکمرانوں نے احتساب کی ذمہ داری نیب نامی جس ادارے کے سپرد کر رکھی ہے، اس کی بنیاد میں خرابی کی ایک صورت مضمر تھی… ظاہر ہے مشرف غیر آئینی اور ناجائز حکمران تھا… اسے اپنے اقتدار پر طول دینے اور استحکام بخشنے کے لیے مخالف اور آزاد خیال سیاستدانوں کے خلاف اسی طرح انتقامی کارروائی کی ضرورت تھی، جس طرح اُس کے سب سے پہلے پیشرو فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے مخالفین کو بوٹوں کی طاقت تلے دبانے کی خاطر ایبڈو کا قانون نافذ کیا تھا… لہٰذا مشرف دور کا آغاز نیب کے اس عجیب و غریب اصول قانون کے ساتھ کیا گیا کہ جس کے خلاف الزام لگایا جائے گا وہ اپنی صفائی کا ثبوت خود پیش کرے گا… یہ قانون بجائے خود انصاف کے ترازو کا ایک پلڑا اپنے استغاثہ کے جو ظاہر ہے نیب کا ادارہ تھا حق میں جھکا کر رکھنے کا نام تھا… وہی آج تک جاری وساری ہے… اسی لیے کسی کو یقین نہیں کہ احتساب کے نام پر اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے اندر حق و انصاف کی رمق پائی جاتی ہے یا نہیں… احتساب کا ادارہ غیر متنازع ہوتا ہے… جبکہ نیب کے متنازع ترین ہونے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں…

بصورت دیگر ہماری صورت حال یہ ہوتی کہ حکومت وقت کے حامی یا مخالف جس شخص کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جاتا، اُس کے بارے میں پوری قوم کو یقین ہو جاتا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے وہ قانون کی پکڑ سے باہر نہ رہ سکے گا… جتنا کچھ قصور وار پایا گیا، اتنی سزا ضرور ملے گی… یوں احتساب کا نظام سیاسی کے بجائے قومی اور ہر شہری کے لیے قابل قبول عمل کے طور پر رواج پاتا… انصاف کا چرچہ عام اور ہر آدمی کو اپنے ملک کے حکومتی اداروں پر مکمل اعتماد ہوتا ہے… میں کسی یوٹوپیائی ریاست یا کتابوں میں پائے جانے والی مثالی مملکت کی بات نہیں کر رہا… ہمارے ارد گرد کی دنیا میں درجنوں سے زیادہ ایسے ہنستے مسکراتے اور خوشحال و کامیاب معاشرے موجود ہیں جن کے لوگوں کو اگر مثالی نہیں تو ضروری انصاف یقینا دستیاب ہے… خواہ وہ موجودہ یا سابق حکمران ہوں، اونچے درجے کے سیاستدان ، بڑا صنعتکار و تاجر ، خاکی اور سول وردی پہننے والا اہم سرکاری ملازم یا عام شہری ، ایسا نہیں ہوتا کہ خاص طبقے یا لوگوں کے لیے احتساب یا پوچھ گچھ کا عمل دوسروں سے علیحدہ یا عام لوگوں سے خفیہ رکھا جائے… یہ ایک شفاف اور سب کے لیے یکساں طریق عمل ہوتا ہے… آپ دیکھ لیجیے کہ امریکہ یا یورپ کی کسی کامیاب ریاست میں یا آج کل ہم ریاست مدینہ کا بہت ذکر کرتے ہیں، اس مقدس دور کے اندر کسی کے خلاف خفیہ کارروائی نہیں ہوتی تھی… امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اگر خالد بن ولید جیسے عظیم سپہ سالار کو برطرف کیا تھا اس کا سر عام اعلان ہوا تھا… بالکل ایسے جیسے ریاست مدینہ کے عام شہری کو کسی جرم کی بنیاد پر پکڑ کر سزا دی جاتی تھی… حقیقی احتسابی عمل اس کا بھی محتاج نہیں ہے کہ اس کے لیے نیب یا اس طرح کا کوئی علیحدہ ادارہ قائم کیا جائے… کامیاب ممالک کے اندر جو آئینی ادارے پہلے سے قائم کیے گئے ہیں، وہی Meritocracyکی بنیاد پر بغیر کسی مداخلت کے احتساب کے نظام و جاری رکھتے ہیں… لوگوں کو جھانسہ دینے یا اپنے ایجنڈے کو تکمیل دینے کی خاطر کوئی نیا ادارہ یا انوکھی ترکیب استعمال نہیں کرنا پڑتی… لیکن پاکستان کا باوا آدم نرالا ہے یہاں ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں بہت دی جاتی ہے… ہاتھوں میں تسبیح کی نمائش کر کے ریاست مدینہ کا ذکر بھی اٹھتے بیٹھتے ہوتا ہے مگر عمل ہمار ااس سب کی تکذیب کر کے رکھ دیتا ہے… پاکستان کا شمار اس لحاظ سے بھی دنیا کے منفرد ممالک میں ہوتا ہے کہ یہاں اگر کسی کے پاس دو تہائی اکثریت کی حکومت موجود ہو لیکن پیچھے بیٹھے والیان ریاست کو اس کی کوئی ادا پسند نہ آئے آئینی استحقاق کے تحت قدرے آزاد روی اختیار کرے تو کسی نہ کسی بہانے اور کسی نہ کسی ادارے کو استعمال کر کے اسے آن واحد میں اڑا کر رکھ دیا جاتا ہے اور اسے انصاف کا نام دیا جاتا ہے… لیکن ایسی سہاگن جس کے پاس صرف سات ووٹوں کی اکثریت ہو وہ بھی اپنے نہیں مانگے تانگے کے لیکن پیا کی منظور نظر ہو تو قومی اور عوامی سطح پر ایک کے بعد دوسری حماقت کا ارتکاب کرتی رہے تو اس کا کچھ نہیں بگڑتا… جہاں ایسا ماحول اور ایسا سیاسی کلچر ہو گا کیا اس سر زمین پر کبھی احتساب کا پودا نمو حاصل کر پائے گا…


ای پیپر