وقت کی عدالت میں
15 جون 2019 2019-06-15

ہفتہ رفتہ بجٹ اعداد و شمار کی لپیٹ میں رہے۔ بجٹ کی تپش غریب ترین صارف تک یوں پہنچ رہی ہے کہ ان پڑھ دیہاتی ملازمہ کو بھی بجٹ تقریر کے انتظار میں مبتلا پایا کہ گویا اس کی مالی تقدیر کا فیصلہ ہونے چلا ہے ! جان گئی ہے کہ اس کی جیب پر بھی حکمرانوں کی نگاہ ہے۔ یوں بھی تو کہ اشیائے خوردو نوش پر ہاتھ ڈالا ہے۔ سبسڈی ختم کر دی۔ سیلز ٹیکس عائد کر دیا۔ دودھ… ( جو کہ یوں بھی دودھ کے نام پر سبھی کچھ ہے سوائے دودھ کے ) بھی لگژری آئٹم ٹہرا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بیکری کی اشیاء پر سیلز ٹیکس میں کمی کی ہے۔ کیونکہ بجٹ آئی ایم ایف کے ہر کارے ماہرین کی جانب سے آیا ہے لہٰذا فرنچ شہزادی والا معروف مقولہ پس پردہ سر سرا رہا ہے۔ روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں ! اس لیے بیکری اشیاء کی سستائی کی سرخی خاص لگی ہے۔ ( اگرچہ چینی، خوردنی تیل، دودھ ، پنیر مہنگا کر کے بیکری سستا کیونکر بیچے گی؟) بہر حال پیش بندی کے طور پر اکبر الٰہ آبادی بھی کہ گئے تھے۔ چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ، کھا ڈبل روٹی کلر کی کر خوشی سے پھول جا ! بجٹ، سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھا کر ان کی دوسری جیب سے ٹیکس کی صورت بڑھوتری سے زیادہ نکال رہا ہے ! تاہم بجٹ پر رونا دھونا یوں بے کار ہے کہ امریکی تسلط اب براہ راست دخل انداز ہے، قبول کر لیجئے۔ اکبر الٰہ آبادی کے مندرجہ بالا شعر سے پچھلے والے شعر کا نتیجہ ہے جو ہم ان حکمرانوں کی صورت بھگت رہے ہیں۔ یعنی : چھوڑ لٹریچر کو، اپنی ہسٹری کو بھول جا۔ شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا۔ عمران خان صاحب مسلسل اس کا عملی ثبوت پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہم پچھلے چر کے بھلاتے ہیں وہ نئے لگا دیتے ہیں۔ ان کی ’ہسٹری‘ سے لا علمی، شیخ و مسجد سے لا تعلقی غزاوتِ بدر واحد بارے بیان سے ظاہر ہے۔ ’ ریاست مدینہ‘ والی تمثیل کو درست قرار دینے کی مجبوری میں نیا بیان یہ چھوڑا ہے کہ ’ ریاست مدینہ ‘ کوئی ایک دن میں نہیں بن گئی تھی۔ جب جنگِ بدر ہوئی تو صرف 313 تھے لڑنے والے، باقی تو ڈرتے تھے لڑنے سے ۔ وہ تو فرشتے آئے تھے لڑنے کے لیے‘۔ غزوہ احد کے حوالے سے گفتگو کا جو انداز اور پیرا یہ تھا، وہ شیح و مسجد سے لا تعلقی اور ایچی سونین تعلیم کے ہاتھوں جو تھا وہ لکھنا نا مناسب ہے۔ کیونکہ، معصوم لاعلم، وزیر اعظم نہیں جانتے کہ صحابہ کرام ؓ ( خیر البریہ۔ بہترین خلائق۔ اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے… کے قرآن میں خطاب کے حامل ! ) بارے گفتگو کے آداب کیا ہیں۔ ہسٹری کی در فظنی یہ چھوڑی کہ ’ اللہ نے طوفان بھیجا تو وہ بال بال بچے ! ‘ احد میں طوفان / آندھی آ گئی؟ کوئی تو ہو جو خان صاحب کو یا اسلام کے حوالے سے بیانات دینے سے باز رکھے یا انہیں تعلیم دے ریاست مدینہ کے حوالے سے۔ ورنہ آپ بھی شرمسار ہو ’ ہم ‘ کو بھی شرمسار کر۔ کا یہ سلسلہ قوم بھگتتی رہے گی۔ کیا کیجئے کہ دنیا کے سبھی حکمران نہلے پہ دہلے ہیں۔ ٹرمپ نے ٹویٹ میں ناسا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چاند کو مریخ کا حصہ قرار دے دیا۔ امریکی سر پکڑ کر رہ گئے۔ ( 140 ملین میل دوری کے با وجود؟) انہوں نے شاید چاند مریخ کی دوری کو امریکہ اسرائیل قرب پر محمول کر لیا ہوگا۔ جو دوری کے با وجود۔ تو من شدی، من تو شدی کی تصویر ہے۔ ( آخر گلوبل ولیج کے چوہدری کی غلطی کی تاویل تو ہونی ہی چاہیے جیسے انصافیے، احد، بدر بارے غلطی پر صفائیاں دے رہے ہیں۔) پچھلے حکمرانوں کی شامت کا دور چل رہا ہے۔ اسی دوران مشرف کے حوالے سے خبر آئی کہ سنگین غداری کیس میں مشرف کا حق دفاع ختم ہو گیا۔ بریت، التوا کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ دوسری طرف سے جواب آیا کہ ، سابق صدر زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہیں پیش ہو سکتے‘۔ یہ دنیا اور اس کی عدالتیں! سابق صدر جو صحت کا عذر پیش کر کے باہر بھاگ لیے تھے مارچ 2016 ء میں ۔ پھر ستمبر 2016 ء میں امریکہ میں بھارتی گانے پر بیوی کے ہمراہ رقص کی وڈیو چلی صاحب فراش کمر کے باوجود۔ کورٹ نے سنگین غداری کیس میں مشرف کی عدم حاضری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انگریز غاصب اولیور کرامویل کی مثال دی جس کا ڈھانچہ موت کے بعد پھانسی پر لٹکا یا گیا تھا۔ مقام عبرت ہے ! اگرچہ زندگی تو ڈھانچے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔

برزخ پر ایمان ، ڈھانچوں کو پھانسی دے کر سزا کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ وہ دارالعمل سے نکل کر دارالجزاء کے پہلے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد۔ الساعۃُ حق۔ وہ گھڑی قیامت کی بر حق ہے جہاں: ہم قیامت کے روز ایک نوشتہ اس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا۔ پڑھ اپنا نامہء اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔ ( بنی اسرائیل۔ 13,14 ) جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ ( القمر۔ 52,53 ) اصل زندگی تو باقی ہے۔ وہ دن جب پوشیدہ رازوں کی جانچ پڑتال ہو گی ۔ (الطارق۔ 9 ) سینوں میں جو کچھ مخفی ہے اسے بر آمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ یقینا ان کا رب اس روز ان سے خوب با خبر ہو گا۔ ( القارعہ۔ 10,11 ) ہم بھولے بیٹھے ہیں۔ کرسیوں، مناصب نے آسمانوں اور زمین پر چھائی حکمرانی والی کرسی کے مالک رب ( آیت الکرسی) کو بھلا رکھا ہے۔ وقت کی عدالت میں ، زندگی کی صورت میں ، یہ جو تیرے ہاتھوں میں اک سوال نامہ ہے، کس نے یہ بنایا ہے ! کس لیے بنایا ہے ! کچھ سمجھ میں آیا ہے ؟ زندگی کے پرچے کے، سب سوال لازم ہیں سب سوال مشکل ہیں ! مشرف کی حال ہی میں منظر عام پر آنے والی شدید بیماری کی تفاصیل اور وڈیوز کرسی والوں کے لیے سامان عبرت ہیں۔ وہ بیماری جو لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتی ہے۔ ایک صرف آئین شکنی کا کیس ہے۔ (عمر قید یا سزائے موت کا مستو جب ) دوسری طرف بے نظیر بھٹو قتل کیس اور لال مسجد طلباء طالبات کے تقل کے مقدمے میں بھگوڑا قرار دیا گیا ۔ جبکہ ہسپتال میں داخل عجب خوفناک بیماری، ایمائیلی ڈوسز، کا شکار۔ جسم اس سے بغاوت کر چکا ہے۔بینکوں میں اموال کے Deposits ، جمع جتھے کا حساب تو دنیا میں نہ ہو سکا، جسم کے اندر ایک مادہ مختلف اعضاء میں Deposit ہونا شروع ہو گیا۔ قوت مدافعت جواب دے گئی۔ افعال جسمانی ضبط کھو بیٹھے۔ اللہ کے حضور انسان کی بے بسی لرزہ بر اندام کے دینے والی ہے۔ ملک خدا داد پاکستان کا نظریہ، مقصد وجود، مقاصد قیام سے بغاوت کر کے اسے بے دست و پا امریکہ کے قدموں میں ڈال دینے کا جرم عظیم اصل سنگین غداری تھی۔ آج ملک عزیز آئی ایم ایف کے شکنجے میں جو سک رہا ہے، ہم اس حال کو ایک دن میں تو نہیں پہنچے۔ ہماری صرف معیشت تباہ نہیں ہوئی۔ ہماری با عزت معاشرت، اقدار تباہ کی گئیں۔ سیاسی جوتیوں میں دال بٹی، قانون تماشا بن گیا۔ لا پتگی کا عذاب اس ملک کے دین دار طبقے پر امریکی خوشنودی کے لیے مسلط کرنے والا۔ پل پل ،لمحہ لمحہ لا پتگان کے لواحقین عورتوں بچوں بوڑھوں کے رگ و پے میں بے قراری بھر دینے والا مکافات عمل کی لپیٹ میں ہے۔ عالمی سطح پر بہت سے فراعنہ، نمارود جن کے آگے دم مارنے کی مجال نہ تھی۔ نمونہ عبرت بنے۔ اللہ کے ولی (دوست ) سے دشمنی پر اللہ کی طرف سے اعلان جنگ کی وعید حدیث میں موجود ہے۔ فلسطینیوں کا قصاب ایریل شیر ون فالج کے حملے میں گرفتار ہوا تو وہ فلسطینی آج بھی یاد آتا ہے جس نے تڑپ کر کہا تھا۔ اب نہ یہ جیئے گا نہ مرے گا ۔ اور پھر یہی ہوا۔ 8 سال کومے میں پڑا نہ زندہ تھا نہ مردہ ۔ چند ماہ میں 7 آپریشن ہوئے۔ دنیا کے ماہر ترین امریکی، یہودی ڈاکٹر، اعلیٰ ترین طبی سہولیات لیے موجود تھے۔ مگر بے بس۔ لاحاصل۔ سوائے بڑی بڑی مشینوں سے گزار کر ٹسٹ کرتے چلے جانے کے ، یارانہ تھا۔ مغربی اخباروں کے خراج تحسین، شہ سرخیاں چند دن چلیں۔ دنیا بھر بھول گئی۔ 8 سال بعد جب دنیا کی قید سے رہائی ملی تو فلسطینیوں کے قتل عام کا مجرم اگلی عدالتوں کی پیشی بھگتنے چل دیا۔ الحق۔ الفرقان، قرآن عظیم کی گواہیاں صفحے صفحے، آیت در آیت موجود ہیں۔ مرنے پر دنیا نے کیا دیا؟ چند اخباری تجزیے، ٹیلی وژنی تبصرے۔ صرف ایک منٹ کی خاموشی اس کے چاہنے والوں نے اختیار کی ۔ تدفین ہو گئی۔ قبر پر فائر بریگیڈ تک متعین نہ ہو سکی ! یا رب ! ہم تیرے حضور لرزاں ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک راعی ہے اور اپنی رعیت بارے اللہ کے حضور جوابدہ ہے۔ نبی ؐ کے فرمان کے مطابق۔ ہر منصب ہر کرسی جوابدہ ہے چھوٹی یا بڑی۔ گھر گھر ہستی سے لے کر امور مملکت تک۔ اور آگے کھربوں سال سے زیادہ کی زندگی ہے جس میں ہمیں خواہی نخواہی اتر کر رہنا ہے۔ جس دن یہ ایمان زندہ ہو گیا۔پاکستان بحال ، خوشحال ہو جائے گا سارے دلدر دور ہو جائیں گے!


ای پیپر