نشان عشق
15 جون 2019 2019-06-15

فلاسفروں نے حقیقت کائنات کی تفہیم کے لیے عقل و استدلال کا استعمال کیا جبکہ صوفیا نے برتراز عقل یعنی وجدان کے ذریعے کشف حقائق کی راہ دکھائی۔ اسلامی دنیا میں اہلِ فکر کے دو ہی بڑے مکاتب فکر ہیں۔ ایک پیچ و تاب رازی کی نمائندگی کرتا ہے اور دوسرا سوز و ساز رومی کی روایت کی ترجمانی کرتا ہے۔ صوفیا کے نزدیک عشق ہی تخلیق کائنات کا سبب ہے۔ عشق ہی وہ جذبہ ہے جس سے کائنات قائم ہے۔ اسی جذبہ صادق سے عرفان نفس کے مرحلے سے عرفان رب کی منزل تک رسائی ہو سکتی ہے۔ اہلِ عرفان میں سے ایک بابا قادرتھے جنھوں نے وجے نگرم ناگ پور کو اپنا روحانی مسکن بنایا۔ حضرت بابا قادر(پیدائش ۳ربیع الثانی۰۲۳۱ہجری اور وفات ۹شعبان ۰۸۳۱ہجری) ایک مشہور روحانی بزرگ تھے۔ اْن کے فیضان نظر سے کئی طالبان حق ولائت کی منزل پر فائز ہوئے۔ باباقادرروحانی کشف اور کرامتوں کی وجہ سے مرجع خلائق تھے۔ اْن کے عقیدت مندوں میں کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہستیاں بھی شامل تھیں۔ برعظیم پاک و ہند کے اکناف و اطراف سے لوگ فیض حاصل کرنے کے لیے اْن کے زاویے میں آیا کرتے تھے۔اْن کے ایک عقیدت مند جن کواْنھوں نے خرقہ خلافت بھی عطا کیا تھا محمد عبیداللہ خان درانی تھے۔ یہ پیشہ کے لحاظ سے انجینئر اور بہت بلند روحانی مرتبے پر فائز تھے۔ یہ کچھ عرصہ کے لیے پشاور انجینئرنگ کالج کے پرنسپل بھی رہے۔ اْن کو روحانی علوم کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کا بھی بہت شوق تھا۔ سْنا ہے وہ کئی روز تک علی گڑھ یونی ورسٹی کے دروازے پر بیٹھے رہے اور وی۔سی سے مطالبہ کرتے رہے کہ آپ کلرک تیار کر رہے ہیں معمار بھی تیار کریں۔ کہتے ہیں اْن کی کوششوں سے علی گڑھ یونی ورسٹی میں انجینئرگ کا شعبہ قائم ہوا۔ محمد عبیداللہ خان درانی نے اپنے مرشد بابا قادر کی سوانح عمری لکھی ہے جو"حیات قادر"کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ وہ اس کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں: "حیات قادر پڑھ کر انسانیت کو حیات جاوید کا یقین ہو جائے اور راستہ ڈھونڈنے والوں کو یَبقیٰ وَجہْ رَبِکَ کا دامن ہاتھ آ جائے تو اْن کے نظروعمل میں ایسی تبدیلی آ سکے گی جو انھیں مادی حیات سے ماورا کی طرف رجوع کر دے اور انسان کو اپنا اصل مقام حاصل ہو جائے۔" درانی مرحوم نے نہ صرف اپنے مرشد کے حالات زندگی اور ملفوظات کو عام کیا ہے بلکہ اْنھوں نے بونیر سے کوئی دس میل کے فاصلے پر ایک پْرفضا پہاڑی مقام پر قادر نگر ایک نئی بستی بسائی ہے جہاں پانی کے کئی چشمے جاری ہیں۔ اْن کا یہیں مزار ہے۔ اِس بستی کی آبادی کو پْررونق بنانے اور مسجد و لنگر خانہ کے علاوہ قادر انٹرمیڈیٹ سائنس کالج قائم کرنے میں اْن کے ایک مرید خاص جناب محمد نواز تشنہ کا حصہ وافر ہے۔ محمد نواز تشنہ ۴۴۹۱ء میں ضلع مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہ ۴۰۰۲ء میں این آئی ٹی میں سینئر وائس پریذیڈنٹ S.E.V.P کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے لیکن اْن کی اصل پہچان اْن کی روحانیت تھی۔ میری اْن سے دوستی محمد رازق ضیائی کے توسط سے ہوئی۔ اْن سے دوستی کا آغاز ۰۸۹۱ء کے اوائل سے ہوا تھا۔ تشنہ صاحب ملنسار، وضعدار اور پْرتپاک دوست تھے۔ وہ بڑے فیاض انسان تھے۔ وہ مرجع احباب تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو اکثر اسلام آباد کلب میں بْلاتے اور اْن کی ضیافت کرتے۔ اْن کے دوستوں میں سرکاری افسروں کے علاوہ اہلِ علم و ادب اصحاب بھی شامل تھے۔ زندہ دل بیدار مغز اور محفل کے آدمی تھے۔ وہ ایک صاحب طرز شاعر بھی تھے۔ اْن کی شاعری تصوف و روحانیات سے مملو ہے۔ اْنھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعہ کا نام " نشان ِ عشق " رکھا۔ اْن کی اس کتاب کی رونمائی ہالی ڈے اِن اسلام آباد میں ۶۰۰۲ء میں ہوئی۔ کرسی صدارت پر اْسی وقت کی قومی اسمبلی کے سپیکر جناب چوہدری امیر حسین صاحب تشریف فرما تھے۔ کتاب پر تبصرہ نگاروں میں فتح محمد ملک صاحب، سیکریٹری تعلیم ساجد حسین صاحب، معروف ادیبہ ڈاکٹر نجیبہ عارف جو آج کل بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں شعبہ اردو کی سربراہ ہیں،جناب محمد رازق ضیائی صاحب اور راقم الحروف شامل تھے۔

سرکاری ملازمت کے دوران محمد نواز تشنہ ہفتہ وار چھٹی والے دِن وسیع پیمانے پر ہومیوپیتھی کا بے لوث مطب لگاتے تھے۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اْنھوں نے قادر نگر، بونیر کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ وہاں مطب بھی چلاتے تھے۔ روحانی فیوض بھی بانٹتے تھے اور لنگر خانہ میں سینکڑوں مہمانوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرمیڈیٹ سائنس کالج بھی چلاتے تھے۔ وہ جب کبھی اسلام آباد آتے تو شرف ملاقات بخشتے۔ پانچ چھ سال پہلے میں اور محمد رازق ضیائی اْن کے مسکن قادر نگر گئے اور دو رات قیام کیا اور اْن کے روحانی مقام و مرتبے کا بچشمِ خود مشاہدہ کیا۔ اْن سے آخری ملاقات آج سے تقریباً چھ ماہ پہلے ہوئی تھی۔ ہمیں پتہ چلا کہ وہ بستر علالت پر ہیں۔ میں اور محمد رازق ضیائی اور اْن کے کینیڈا سے آئے ہوئے ایک دوست اْ ن کی عیادت کے لیے گئے تھے۔ وہ کافی کمزور دکھائی دیتے تھے لیکن آنکھوں میں بدستور روحانی جذب و مستی اور چمک موجود تھی۔ کیا پتہ تھا کہ وہ اتنی جلدی ہم سے بچھڑ جائیں گے۔ دس جون ۹۱۰۲ء کو بھائی رازق صاحب نے بتایا کہ وہ آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اْن کو غریقِ رحمت کرے۔ مادیت پرستی کے اس دور میں ایسی علمی، ادبی اور روحانی شخصیات خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ اْن کے بیٹے، بیٹیاں اور رشتہ دار ہی اْن کی محبت اور توجہ سے محروم نہیں ہوئے بلکہ ہم جیسے دوست بھی ایک عظیم رفیق اور ہم دم دیرینہ کی روحانی محفلوں اور نشاط علمی ضیافت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اْن کی وفات کی خبر سنتے ہی میرے دل میں اْن کی یادوں کے نقوش اْبھرتے گئے جن کو میں نے صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کی کوشش کی ہیتاکہ اندوہ و غم کا بوجھ کچھ ہلکا ہو اور قارئین بھی تصوف کے ان چراغوں سے آشنا ہوں۔


ای پیپر