ایوانِ صدر میں طوطے کا پنجرا
15 جون 2019 2019-06-15

پالتو جانور کس کو نہیں پسند ہیں؟ ہر شخص نے بچوں بلکہ بیوی کے علاوہ کوئی نہ کوئی جانور اور پرندہ ضرور پال رکھا ہوتا ہے۔ کئی لوگوں نے تو بکری پال رکھی ہوتی ہے اور اکثر لوگوں کو کتا پالنے کا شوق ہوتا ہے۔ وہ کتے کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ ملازموں کو روٹی یا اشیائے خورو نوش ملے یا نہ ملے۔ کتے کی ضروریات کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے۔ اس کتے میں کیا خاص بات ہوتی ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہم نے ڈاکٹر عطاء اللہ عالی کے کتے اور ’’مزید کتے‘‘ تک پڑھ ڈالے مگر ان کتوں میں مجھے کوئی حد درجہ خصوصیات نظر نہ آئیں۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک دوست نے ایک غیر ملکی نسل کا کتا پال رکھا تھا۔ وہ اس کتے سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ہمارے اس دوست کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ انسانوں کو گھورتے تھے مگر جانوروں میں خاص طور پر کتے سے بہت انس رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ بچوں کے علاوہ ایک عدد بیوی بھی رکھتے تھے۔ یہ بات میں نے اپنی خاتونِ خانہ کو بتائی تو وہ آپے سے باہر ہو کہنے لگیں کہ آپ یا اس موصوف سے دوستی رکھ لیں اور مجھے چلتا کریں یا پھر مجھے رکھ لیں اور اس آستین کے سانپ کو چھوڑ دیں۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایک دن یوں ہوا کہ ہمارے اس دوست کے کتے کو کسی نے زہر دے دیا اور کتے کی روح پرواز کر گئی۔ ہمارے اس دوست نے باقاعدہ قبر کو کھودوا کر کتے کو سپرد زمین کیا اور خود تین تک راتوں کو کتے کے ہجر میں روتے رہے۔ حالانکہ میں اور پروفیسر محمد ریاض خاں کتے کو ’’دبنے‘‘ سے لے کر ہمارے دوست کے نارمل ہونے تک مسلسل ’’غم بے جا‘‘ میں شامل رہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو گھوڑے پالنے کی عادت رہی ہے اور وہ باقاعدہ گھوڑوں کی مالش سے لے کر اس کے مربعہ جات، مقوی اشیاء اور ان کے آرام و سکون کے لیے ایئر کنڈیشنر کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں اور حکمرانوں کے لیے شاید جاوید رامش نے کیا خوب کہا ہے کہ

خطِ غربت سے نیچے کچھ نہیں بچتا مرے حاکم!

سنو! دو گز زمین بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے

طوطے پالنا یا طوطے رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ مگر طوطے کے لیے 19 لاکھ روپے پنجرے کی کوٹیشن دنیا کہاں کی عقل مندی ہے۔ یہ کونسا طوطا ہے جس کے پنجرے کی قیمت 19 لاکھ ہے۔ کل کو صدر صاحب چوہے پالنے کا شوق فرما لیں گے تو چوہوں کے لیے پنجرے بھی بنوانے پڑیں گے۔ صدر صاحب کو اس بات کا بھی خیال ہونا چاہیے کہ چوہوں کو بلیاں بھی پڑ سکتی ہیں۔ مگر بلیاں چوہوں کو بلوں سے باہر نکال کر دم لیتی ہیں۔ ایسی مثالیں آئے روز صدر صاحب کے سامنے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ صدر صاحب نے ’’طوطا چشمی‘‘ اور طوطے کی طرح آنکھیں پھیرنے والا محاورہ تازہ تازہ سنا ہے اور انہیں طوطا چشمی یا طوطے کی طرح آنکھیں پھیرنے والی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس بات کو پریکٹیکل سمجھنے کے لیے طوطا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے یا پھر صدر صاحب اس لیے طوطا رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ مشکل وقت میں طوطے سے کوئی فال نکلوا سکیں حالانکہ اور بھی بہت سے پرندے ہیں۔ کبوتر، بٹیر، تیتر، گھگھی، لالی یہ وہ بھی پالے جا سکتے تھے۔ سب سے بڑی بات صدر صاحب مرغیاں بھی پال سکتے تھے۔ صدر صاحب کو اپنی مرغیوں کا گوشت اور انڈے دستیاب ہوتے۔ اگر ضرورت سے زائد ہو جاتے تو وزیراعظم صاحب کو گفٹ کیے جاسکتے تھے۔ اس سے وزیراعظم صاحب بھی فیض یاب ہوتے اور دوسری بڑی بات وزیراعظم صاحب کی مرغیاں پالنے کی تجویز بھی بروئے کار آجاتی اور وزیراعظم صاحب خوش بھی ہو جاتے کہ میرا مشورہ درست سمت اختیار کر گیا ہے۔ ہر طرح معیشت کا رونا رویا جا رہا ہے۔ قرض کا رونا رویا جا رہا ہے۔ ایک طرح سادگی کا درس جا رہا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں تعلیمی ادارے بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ ریاست مدینہ کا ڈنڈھورا پیٹا جا رہا ہے۔ عوام پر مہنگائی تھوپی جا رہی ہے۔ ٹیکس پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ دوسروں کی کرپشن کا گریبان پکڑا جا رہا ہے۔ اور ایک طرف طوطے کے لیے 19 لاکھ 48 ہزار کا پنجرہ خریدا جا رہا ہے۔ اتنی رقم سے 5 غریب لوگوں کو گھر دیا جا سکتا ہے۔ کسی ہسپتال میں الٹرا ساؤنڈ مشین رکھی جا سکتی ہے۔ کسی ہسپتال میں ایئر کنڈیشنر لگوائے جا سکتے ہیں۔ کسی دور دراز کے سکول میں کمرے تعمیر کروائے جا سکتے ہیں۔ کسی گرلز سکول کی چار دیواری بنائی جا سکتی ہے۔ کسی بنیادی مرکز صحت کے واش بنوائے جا سکتے ہیں۔ شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے اور یہ دھواں سیاہ پوشی کی علامت ہوتا ہے اور یہی سیاہ پوشی اس غریب ملک اور غریب عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ ٹیکسز کا بوجھ عوام کی کمر پر ہے اور کمر دہری ہو چکی ہے ۔ ڈالر 157 روپے کو پہنچ چکا ہے اور ہمیشہ کی طرح یہ حکومت بھی ان ٹیکسز پر عیاشیاں کرنے لگی ہے۔ کسی کے گھر یا، عزیز و اقارب میں لاکھوں کا فرنیچر جا رہا ہے اور کہیں ’’طوطا اور مینا‘‘ کے لیے سنہری جالیوں والے پنجرے بنائے جا رہے ہیں۔ جس انسان کو انسانیت سے محبت نہیں ہو گی وہ انسان خواہ ملک کا وزیراعظم یا صدر ہو یا پھر عام شہری، وہ شخص ملک سے اور قوم سے مخلص نہیں ہو سکتا ہے۔ جو نمائندہ عوام کے پیسے کا صحیح استعمال نہیں کرتا وہ عوام کا دشمن ہے۔ جو حکومت ملکی خزانے کو لوٹتی ہے۔ وہ ملک و قوم کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہوتی ہے اور وہ حکومت دشمن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ یہ پیسہ عوام کا پیسہ ہے ۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ ہونا چاہیے۔ یہ پیسہ ملک کا پیسہ ہے اور ملک کی بہتری کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ یہ پیسہ طوطوں کے پنجرے اور گھوڑوں کے مربعہ جات کے لیے استعمال کرنے اور عوام کو بھوکا رکھنے کے لیے نہیں ہے۔ طوطا اور پنجرہ اپنی جگہ میری عوام سہولتوں کی زیادہ حق دار ہے۔ میری کو صحت ، تعلیم اور روزگار کی زیادہ ضرورت ہے۔ میری کو ادویات کی حد درجہ ضرورت ہے۔ میری سفید پوش عوام کو ستر پوشی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔


ای پیپر