نازک صورت حال…دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت!
15 جون 2019 2019-06-15

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت حکومت کوہی نہیں ملک و قوم کو بھی کئی طرح کی مشکلات، مسائل، اُلجھنوں ، پریشانیوں اور کچھ ایسے ایشوز کا سامنا ہے جن سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قومی اتحاد ، یک جہتی اور درپیش مسائل و ایشوز کے بارے میں وسیع تر قومی مفاہمت اور ہم خیالی ضروری ہے۔ اس میں کسی طرح کی مصلحت پسندی، اگر مگر ، قول و فعل کا تضاد، کم تر جماعتی مفاد کے حصول ، علاقائی اورلسانی تعصب کے دباو اور اہم ترین شخصیات کے لیے رعایتیں لینے کے لیے کسی طرح کی ڈیل اور ڈھیل کی درپردہ کوششیں کسی بھی صورت میں روا نہیں رکھی جا سکتیں کہ ان سے ملکی سلامتی اور تحفظ اور قومی یکجہتی کو ہی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا جہاں احتمال ہو سکتا ہے وہاں پاکستان کے دُشمنوں بالخصوص بھارت اور افغانستان کی خُفیہ ایجنسیوں کے پاکستان مخالف منصوبوں اور ایک لسانی تنظیم کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے ضامن پاک فوج جیسے قومی ادارے کے خلاف مخالفانہ ، معاندانہ اور نفرت انگیز جذبات کو بھڑکانے کا مقصد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی قومی سلامتی ، دفاع اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔ اس پر کسی طرح کا کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ملکی و قومی سلامتی کے تحفظ کے ضامن اداروں بالخصوص مُسلح افواج اور ملک کی نظریاتی اساس جسے عرف عام میں نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی عظمت اور حُرمت کے نشان اس کے قومی پرچم کی عزت و تکریم میں کمی یا اس کی توہین کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ آئین و قانون پر عمل درآمد ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی تکریم و تعظیم بھی ضروری ہے ۔ یہ سب بڑے اور اہم معاملات ہیں اور ان کے حوالے سے قوم کے تمام طبقات میں اتفاق رائے، یک جہتی اور ہم خیالی ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اگر کسی چھوٹے بڑے حلقے یا لسانی اور علاقائی گروپ کی طرف سے کسی غلط فہمی ، کسی دشمن پاکستان پروپیگنڈے یا کسی قومی ادارے کے کسی عاجلانہ اقدام کی بنا پر کوئی مخالفانہ اور قومی سلامتی کے منافی اندازِ فکر و عمل اختیار کیا گیا ہے تو اس کا تدارک کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے مفاہمت کی راہ اپنانے اور بات چیت کے ذریعے غلط فہمیوں کو دُور کرنے کے طریقہ کار کو فوقیت دی جانی چاہیے لیکن بد قسمتی سے معاملات اگر اس سے آگے بڑھ چُکے ہوں اور ٹھوس شواہد موجود ہوں تو پھر وسیع تر قومی اتفاقِ رائے اور قوم کے تمام موثر حلقوں کو اعتماد میں لیکر سخت اقدامات کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کی صورت حال میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اعتماد میں لینے کے لیے پارلیمنٹ کے کسی مشترکہ اجلاس یا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی راہ اختیار کرے۔

اس ساری تمہید کو بیان کرنے کا مقصد شمالی وزیرستان میں پیدا شدہ صورت حال کو زیر بحث لانا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی وزیرستان میں حالات ایک بار پھر خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ دہشت گرد زیادہ کھل کر کاروائیاں ہی نہیں کرنے لگے ہیں اُن کے سہولت کاروں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ اب ایک لسانی تنظیم اور اُس سے تعلق رکھنے والے دو ارکان ِ اسمبلی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ دو اڑھائی ہفتے قبل شمالی وزیرستان میں خار قمر کی چیک پوسٹ پر جو واقعہ پیش آیا اُس کی بازگشت اور مابعد اثرات دور دور تک سنائی اور دیکھائی دے رہے ہیں۔ بلاشبہ اس نے شمالی وزیرستان میں حالات کے خراب کرنے میں اہم کردار ہی ادا نہیں کیاہے بلکہ اس سے قومی یک جہتی اور اتحاد و اتفاق کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ یہ ستم ظریفی نہیں کہ شمالی وزیرستان کی خار قمر چیک پوسٹ کے سانحے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں منقسم اور ایک دوسرے سے متضاد موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ مُراد سعید ، شہریار آفرید ی اور علی محمد خان جیسے حکومتی وزراء اور وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ خار قمر چیک پوسٹ حملے میں پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ ملوث ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑانے کے لیے علی وزیر کی قیادت میں احتجاجی ہجوم نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔ بعد میں محسن داوڑ بھی مظاہرین کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آگئے۔ چوکی پر حملے اور احتجاجی دھرنے کے دوران قومی پرچم کی توہین اور قومی سلامتی کے منافی تقاریر اور مسلح افواج کے خلاف نعرہ بازی بھی کی گئی۔یہ سب کچھ وطن دُشمنی کے مترادف تھا۔ جس میں علی وزیر اور محسن داوڑ پیش پیش تھے وہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور اُن کی وجہ سے قومی یک جہتی اور سلامتی کو نقصان پہنچا ہے لہذا اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی جائے۔

خار قمر چیک پوسٹ کے واقعے کے بارے میں ذمہ دار حکومتی ارکان کے اس موقف کے مقابلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان بالخصوص مسلم لیگ ن کے پارلیمانی قائد خواجہ آصف نے اپنے تقریر میں جو موقف اختیار کیا وہ زیادہ حقیقت پسندانہ اور جذباتیت سے ہٹ کر قومی مفادسے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ خواجہ آصف نے اپنی طویل تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ شمالی وزیرستان میں خار قمر کے واقعہ کی تحقیق کے لیے قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام حقائق تک رسائی حاصل کرنے کے بعد اپنی سفارشات پیش کر ے اور اُن کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔خواجہ آصف کی یہ سوچ بلاشبہ زیادہ بہتر ہے ہمیں اس وقت دانائی اور جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر تشویش کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ پچھلے دو تین ہفتوں میں شمالی وزیرستان میں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے کم و بیش دس افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اگلے روز خار قمر چیک پوسٹ کے قریب سڑک پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل ، ایک میجر ، ایک کیپٹن اور ایک لانس حوالدار اکھٹے چار جانباز شہید ہو گئے ان چاروں شہداء کی بیک وقت شہادت سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد کس منظم طریقے سے اپنی کاروائی کرنے اور اُن میں کامیابی حاصل کرنے کی راہ ہموار کرتے جا رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں صورت حال معمول کے مطابق نہیں رہی ۔ آپریشن ضربِ عضب جو شمالی وزیرستان تک محدود تھا اور کم و بیش دو اڑھائی سال تک زور شور سے جاری رہا اس میں حاصل کردہ کامیابیاں چھنتی جا رہی ہیں۔ پچھلے تقریباً دو اڑھائی برسوں سے آپریشن ردالفساد پورے ملک میں جاری ہے اس کے باوجود شمالی وزیرستان اور اس کے ساتھ بلوچستان کے بعض علاقو ں اور شہروں میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافہ یقینا حکومت اور ملکی دفاع اور سلامتی کے ضامن اداروں کے لیے ہی نہیں پوری قوم کے لیے بھی تشویش اور پریشانی کا باعث ہے۔ ضروری ہے کہ وسیع تر قومی اتفاق رائے کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جن سے وطن دشمن عناصر کو اپنے اثرات پھیلانے اور مزید تخریبی کاروائی کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے ۔


ای پیپر