گوگل میپ استعمال کرنے سے الزائمر ہو سکتا ہے
15 جون 2019 (17:31) 2019-06-15

نیویارک:  گوگل میپس اور اس سے ملتی جلتی دیگر ایپل کیشنز استعمال کرنے والوں میں الزائمرز جیسی خطرناک بیماریوں کے پیدا ہونے کے خطرات دیگر کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں۔

ایک آن لائن میگزین نے اپنی تحقیق میں سائنسدانوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈیوائسز پر زیادہ تر انحصار کرنے والوں کا انحصار حقیقی دنیا پر چونکہ نہیں رہتا ہے اس لیے ان کی ذہنی و جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہی منفی اثرات میں سے ایک الزائمر بھی ہے ۔اس ضمن میں تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور نیوی گیشن کے ماہر ڈیوڈ بیری کا کہنا ہے کہ ہزاروں سالوں میں ارتقائی عمل سے گزر کر انسان نے اپنے اندر اردگرد کے ماحول سے تعلق کی ایک تیز حس پیدا کی ہے لیکن جب لوگ گوگل میپس یا اس جیسی دیگر ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہیں تو وہ آس پاس کے ماحول سے قطعی لاتعلق ہو جاتے ہیں۔

ڈیوڈ بیری کے مطابق اسی لاتعلقی اور بے گانگی کے نتیجے میں وہ حس متاثر ہوتی ہے اور نتیجتا انسان کے اعصابی نظام کو سخت نقصان پہنچتا ہے ۔ اسی پہنچنے والے نقصان کے سبب لوگ الزائمرجیسے مرض کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ گوگل میپس سمیت دیگر ایپلی کیشنز کے استعمال کی وجہ سے انسان اپنے دماغ کو اس عمل سے دور کررہا ہوتا ہے جو لوگوں، جگہوں اور اشیا کے ناموں کو یاد رکھتا ہے ۔اس عادت کے نتیجے میں انسانی دماغ کا ہیپوکیمپس نامی حصہ زیادہ متاثر ہوتا ہے جس کا براہ راست تعلق یاد داشت سے ہے ۔


ای پیپر