بجٹ 2019-2020 ،کیا کھویا کیا پایا
15 جون 2019 2019-06-15

منی بجٹ پر ہونے والی تمام تر پیشن گوئیاں اور قیاس آرائیاں اب مکمل طور پر اپنا اثر زائل کر چکیں، ان تمام معاشی جوتشیوں سے معذرت کے ساتھ کہ قوم کو آنے والے معاشی اور اس کے زیرِ اثر آنے والی سماجی پستیوں سے آگاہ کرنے کیلئے اعدادوشمار کا سہارا لینا بہتر ہے نہ کہ ٹامک ٹوئیاں ماری جائیں۔

بجٹ کی آمد پر ابھی تک کوئی بھی شماریاتی گفتگو نہ ہو سکی۔ بہرحال “ بجٹ سے پہلے، بجٹ کے دوران، اور بجٹ کے بعد ” بجٹ برائے معاشی سال 2019-2020 پر یہی بحث مرکوز رہی کہ اہم سیاسی گرفتاریوں کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت کی نااہل معاشی ، اقتصادی اور خزانہ کے متعلق تمام کمزور پالیسیوں پر عوامی نظر نہ پڑے اور وزیرِ اعظم صاحب جذبات سے لبریز لیکن حقائق سے عاری تقریر کے سوا کوئی ہوم ورک موجود نہیں۔

بجٹ2019-2020ءمیں آئی ٹی اور ٹیلی کام ڈویژن میں 7.341 بلین روپے مختص کیے گئے جس کی بنیاد پر 29 پہلے سے جاری شدہ اور نہ ہونے کے برابر نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن جو کہ پبلک سیکٹر کے تحت جاری کیے جائیں گے مختص کر دیئے گئے۔

فنانس ڈویژن کے تحت 42 پراجیکٹس کیلئے 36.821 بلین روپے مختص کیے گئے جن میں سے دستاویزات کے مطابق 7.938 بلین روپے پہلے سے جاری شدہ پراجیکٹس کو دیئے جائیں گے اور 3.609 بلین روپے چودہ کے قریب نئی اسکیموں پر لگانے کی آس امید دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس بات سے اندازہ لگایئے کہ 25.273 بلین روپے پہلے سے جاری شدہ پراجیکٹس پر لگائے جائیں گے جو خیبر پختونخوا کے مخلوط اضلاع میں شامل ہیں۔ ایک بلین روپے کنسٹرکشن کی مد میں دیئے جائیں گے جو سِبی راکھانی روڈ (تال کھولو) کیلئے جاری کیے گئے اور ایک بلین ہی سپلائی واٹر پلانٹ ،ٹریٹمنٹ فریش واٹر , اور ڈسٹری بیوشن پراجیکٹ گوادر کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن پر اس بجٹ نے کیا کرم فرمائی کی اس پر بات آنے سے پہلے فنانس ڈویژن کی تمام بجٹ داستان وہی ہے جو پچھلی حکومت کی تھی۔ اس دوران قارئین اس بات کو بھی مدِ نظر رکھیں کہ پہلے سے جاری شدہ پراجیکٹس پر اور آنے والے پراجیکٹس کی تقسیمِ کار پر تبدیلی سرکار کا کوئی ہوم ورک نظر نہیں آرہا۔

اب چلتے ہیں ہائر ایجوکیشن کی جانب جس پر ک±ل رقم 29047 ملین روپے مختص کیے گئے اندازہ کیجئے کہ جیسے ہی بات تعلیم کی آئی تو بات بلین سے ملین پر آگئی یعنی تبدیلی کے دور میں بھی تعلیم کمزور رہ گئی۔

منسٹری آف کلائمیٹ چینج میں بات پھر بلین پر آگئی اور اس مد میں 7.579 بلین روپے مختص کیے گئے جبکہ اس کی نارکوٹکس ڈویژن کے مقابلے میں کچھ خاص ضرورت نہیں تھی بہرحال زرتاج گل کی خاطر بات بلینز ہی میں رہنا مقصود تھی۔ وفاقی حکومت کے تحت نارکوٹکس ڈویژن میں 13.24 ملین روپے جو کہ انسانوں کی فلاح اور پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنے تک کا اصرار تھا بہرحال اس کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔

پاور ڈویژن کی بات کریں تو صرف 74,236.350 ملین مختص کیے گئے ان کی تفصیلات نہایت دلخراش ہیں، اسی بات سے اندازہ لگانا مناسب ہوگا کہ پاور ڈویژن میں بھی نئے پراجیکٹس کا کوئی سراغ نہیں مل پارہا۔ بے نامی سکیمیں سترہ کے قریب ہیں جن پر 6,092 ملین مختص کیے گئے اور افسوسناک بات یہ کہ ان میں تمام پراجیکٹس صرف ہائیڈل کے ہیں،انرجی کے متبادل ذرائع کے حوالے سے یہ حکومت پچھلی حکومت سے بھی گئی گزری نکلی اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔

کامرس اور ٹیکسٹائل جو پہلے ہی ڈوب چکی ، کیلئے صرف ایک سکیم کے اجراءپر سو ملین مختص کیے گئے، یعنی یہاں ملز نہیں لگیں گی بلکہ سو ملین کو کراچی ایکسپو سینٹر کی استعداد بڑھانے کی خاطر اڑا دیا جائے گا، کیا کمال کی بات ہے کہ ملک میں نہ دھاگہ ہے نہ کپڑا ، نہ مال نہ خریدار لیکن دکان شاندار۔

اس سے ابتر صورتحال ملاحظہ فرمانے کیلئے ہاﺅسنگ پراجیکٹس پر مختص رقم جن میں تینتالیس جاری اور اور صرف ایک نیا منصوبہ جو کہ 74 کلومیٹر مندرہ چکوال روڈ ہے، مجموعی طور پر اس مد میں 2,843.094 ملین مختص کیے گئے۔

اب صنعت و پیداوار کی مد میں فیڈرل منسٹری کی جانب سے 2,343.293 ملین مختلف ڈویلپمنٹ پراجیکٹس پر اور یہ کون سے پراجیکٹس ہیں ان کو نا معلوم کہنا مناسب ہوگا۔ حکومتی منہ شگافیوں کے مطابق قومی پروگرام بنائے جائیں گے جس کی بنیاد پر انڈسٹرئیل ٹیکنالوجی پر اکانومی پر اقدامات اور فزیبیلیٹی پر اقدامات اٹھائے جائیں گے جو کہ کافی مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ اب تک ہم صرف اقدامات اٹھائیں گے، قریبی بھارت دوڑ رہا ہے اور ہم ابھی قدم اٹھائیں گے۔

ڈیفنس ڈویژن پر مختص ہونے والے بجٹ پر سب سے زیادہ شور شرابا کیا جارہا ہے جبکہ اس کیلئے صرف 456 ملین روپے رکھے گئے ہیں، یہ وہ واحد مد ہے جس کے تمام پراجیکٹس اپنی جسمانی ہیت کے ساتھ ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، بلوچستان میں پبلک سیکٹر کہیں نظر آئے نہ آئے لیکن آرمی کا ہسپتال ، سکول و کالج اور یونیورسٹی ضرور نظر آئیں گے۔ APS سکولوں کا جال سویلینز کو بھی بھرپور مستفید کرتا نظر آئے گا۔ بہرحال ہمیں پھر بھی ڈیفنس بجٹ پر تو تکلیف ہوگی لیکن نااہل اداروں کے مختص بجٹ پر ہماری رائے منطق فلسفیوں جیسی ہوگی۔

ڈیفنس بجٹ کے تحت تفصیلات شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے چنانچہ منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمینٹ اینڈ ریفارمز بجٹ کی مد میں مہیا کی جانے والی رقم 410.367 ملین روپے ہوگی جو کہ چار جاری منصوبوں میں استعمال ہوگی ، مزیدبرآں جدید پرنٹنگ مشین جس پر جدید طرز کے سروے کنڈکٹ کرائے جائیں گے کیلئے 208.235 ملین مختص کیے گئے ہیں جبکہ لاہور کے سروے کی خاطر آفس کامپلیکس کی تعمیر کی مد میں 80.632 ملین روپے ، 61 ملین سے چھ ‘Maritime patrol Vessels(MPVs) جو کہ پی ایم ایس کیلئے استعمال کی جائیں گی اور 60.500 ملین روپے جو کہ مکمل طور پر کوہاٹ میں ایف جی ڈگری کالج فار بوائز کی تعمیر و ترقی کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 1,700 ملین روپے سے دو جاری اور ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کے تحت پبلک سیکٹر پروگرامز پر خرچ کئے جائیں گے۔ یہ وہ واحد مد ہے جس پر آنے والے تمام پراجیکٹس کی تفصیلی فزیبیلتی، پچھلے پراجیکٹس کا آو¿ٹ کم اور تفصیلی آڈٹ کے ساتھ اگلے بجٹ کی سمری پیش کی جاتی ہے۔پٹرولیم ڈویژن کی بات کی جائے تو اس مد میں 581.812 ملین مختص کیے گئے ہیں اور یہ تمام کے تمام اب تک صرف چھ جاری پراجیکٹس پر کام آئیں گے۔

ایوی ایشن ڈویژن پر تو ایک پورا کالم درکار ہوگا چنانچہ بجٹ سے پہلے سے پہلے اس کی ازسرنو تربیت اور پھر اس میں مکینیکل ریفارمز کی ضرورت ہے۔ ایوی ایشن کیلئے بجٹ میں 1,266.505 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ 2019-2020 کتنا پر اثر ہوگا اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ سیلز ٹیکس کو سترہ فیصد بحال کیا گیا ہے صرف اور صرف پانچ برآمدی سیکٹرز پر جبکہ اس میں کم از کم چالیس سے پچاس سیکٹرز کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

کم از کم ماہانہ تنخواہ 17,500 رکھی گئی ہے، کیا حکومت اس کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوگی؟ یقیناً نہیں۔ جی ایس ٹی کو سترہ فیصد پر برقرار کیا جائے گا، کیا یہ ظلم نہیں۔ موبائل فون کی امپورٹ پر تین فیصد VAT

کو کم کیا گیا ہے۔جائیداد پر ٹیکس کی شرح کو ایک سے دو فیصد کم کیا گیا ہے، کیا یہ شرح مزید کم نہیں ہونی چاہیے تھی؟

نان فائلرز اب پراپرٹی خرید سکتے ہیں تو گزشتہ نو ماہ سے کاروباری افراد کو اتنا زیادہ نقصان دینے کی کیا ضرورت تھی۔

تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے پر دو سو بلین روپے کی سبسڈی دی جائے گی تو صنعتوں کا اضافہ کہاں سے ممکن ہوگا، لومز کہاں سے لگیں گی، ٹیوب ویل کیسے چلے گا، مینوفیکچرنگ کیسے بڑھے گی، تجارتی اہداف کیسے حاصل ہونگے اور جب نیب اور بجلی صرف تین سو یونٹ سے کم والوں کو بخشے اور اوپر والوں کو کوئی رعایت نہیں تو یہ سب کاروباری طبقہ کیسے نہ اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے جائے۔ دودھ اور بالائی پر دس فیصد ٹیکس۔ ٹیکس کارپوریٹ کو اگلے دو سال کیلئے 29 فیصد پر فکس کرکے تبدیلی سرکار نے چھوٹے تاجر کو رگڑ دیا۔ ہزار سی سی اور اس سے اوپر کی کار پر 25 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگادی گئی۔ اشیائے خوردونوش کی ترسیل، بیکری اور ریستورانوں پر 45 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا۔ بینکنگ، انشورنس ، آئل ، منرل ایکسپلوریشن کمپنیوں پر س±پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ چینی پر آٹھ سے سترہ فیصد کا سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ سیگریٹ پر FED لگایا گیا ہے۔ کولڈ ڈرنکس پر 11.25 فیصد سے 14 فیصد ٹیکس عائد۔ برانڈڈ کوکنگ آئل پر سترہ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد۔

اس سوال کے ساتھ جس کا جواب ملنا نا ممکن ہے کہ یہ بجٹ عوامی ہے۔ ایکسپورٹس میں کوئی بھی اضافہ ممکن نظر نہیں آرہا اور نہ ہی معیشت سنبھلتی نظر آرہی ہے۔ خدا پاکستان کو امان میں رکھے۔


ای پیپر