پر امن عید:افواج پاکستان کی قربانیوں کا ثمرہ
15 جون 2018 2018-06-15

آج کروڑوں مسلمان1439ء ہجری کی عید الفطر منا رہے ہیں۔ یہ عید الفطر اس عالم میں منائی جا رہی ہے کہ اجتماعی طور پر اُمہ نہ تو صحیح معنوں میں مکمل طور پر آزاد ہے اور نہ ہی محکوم ۔ اگر امہ آزاد ہوتی تو آج ہمارے اجتماعی رویے اقوام عالم کے لیے قابل تقلید اور لائق رشک ہوتے۔ بحیثیت اُمہ ہماری شناخت بقول اقبالؒ غالب و کار آفریں کار کشا اور کار ساز ہوتی۔اسی تناظر میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا:
عید آزاداں شکوہ ملک و دیں
عید محکوماں ہجوم مومنین
بدقسمتی سے مملکت خدا دادِ پاکستان کے حکمران طبقات کے طرز عمل اور رویوں میں عہد غلامی کے رجحانات اور اثرات پائے جاتے ہیں۔ ہمیں آزاد ہوئے 70برس بیت گئے۔ رمضان کی آخری شب کو نبی اکرمؐ نے لیلۃ الجائزہ قرار دیا تھا جبکہ شوال کے پہلے دن کو یوم الافطار اور یوم العید قرار دیا۔ یہ دن محاسبے کا دن بھی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو ٹٹولنا ہے اور اپنے اعمال و افکار کا احتسابی نگاہ کے ساتھ جائزہ لینا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری جسمانی عبادات اور روز مرہ معاملات میں ایک ناقابل عبور خلیج ہے۔ ہمارے معاملات ہماری عبادات کی تکذیب کرتے ہیں۔ منافقت ہمارے رگ و پے میں لہو کی طرح گردش کرتی ہے۔ رمضان المبارک کے ماہِ مقدس میں بھی معاشرے میں دہشت گردی،مہنگائی، کرپشن، بدعنوانی، رشوت ستانی، قتل و غارت، مظالم ، بے قاعدگیوں، بے ضابطگیوں اور بلیم گیم کا طولانی سلسلہ جاری رہا۔ ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اُچھالنے کی منفی روایت سے ہمارے سیاسی زعما تائب نہ ہو سکے۔ الزام طرازی اور بہتان تراشی کی مذموم روش کو ہم رمضان کریم میں بھی ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا جہاں یقیناًایک سنگین جرم ہے، وہاں اس کا شمار کبیرہ گناہوں میں بھی ہوتا ہے۔
مقام افسوس ہے کہ عالم اسلام کے مقتدر طبقات کے مرعوبانہ مزاج اور غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ نوآبادیاتی استعماری قوتوں کی غلامی سے آزادی کے باوجود بھی عالم اسلام کے اکثر ممالک کے شہری بشمول پاکستان آج بھی آزادی کی اصل روح سے ناآشنا ہیں۔ غلامی محض کسی مخصوص حالت یا حالات کا نام نہیں، بلکہ غلامی ایک مخصوص کیفیت اور ماحول سے عبارت ہے۔ سامراجی توسیع پسندوں کے ناجائز اور غاصبانہ تسلط کے ادوار میں بھی عالم اسلام کے یہ بے بس و بے کس شہری خوف اور دہشت کی فضا میں سانس لے رہے تھے، تو آج نام نہاد آزادی کے باوجود بھی ان کے قلوب و اذہان ہراس اور خوف کے چنگل میں پربریدہ پرندوں کی طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے حالات میں خوشی کے تہوار اُن کیلئے صرف کیلنڈر کے ایک ہندسے کی تبدیلی سے زیادہ حیثیت کے حامل نہیں۔ غلامی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ انسان خوف کے عالم میں زندگی بسر کرے۔ عالم اسلام کے شہریوں کو معروضی حالات اور زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنی اس روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔ جب تک خوئے غلامی سے وہ کلی نجات
حاصل نہیں کر لیتے، یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی پُرمسرت تہوار بھی ان کیلئے حقیقی شادمانی کا پیام بر نہیں ہو سکتا۔ عید کسی قوم کیلئے اسی وقت شکوہِ ملک و دیں کا استعارہ بنتی ہے جب روحِ آزادی اس کے رگ و پے میں بجلی بھر کر اسے ایک زندہ اور متحرک وجود بناتی ہے، وگرنہ ذہنی، فکری، نظری، معاشی غلاموں کی عید محض ’’ہجوم مومنین‘‘ ہوتی ہے۔ حقائق و شواہد کا تقاضا ہے کہ عالم اسلام کے شہری خواب غفلت سے بیدار ہوں اور ’’غلامی در غلامی‘‘ کے منحوس دائرے سے باہر نکلنے کیلئے نئے خطوط پر صف بندی کریں۔
خوشی اورتشکر کے اس دن کا تقاضا ہے کہ ہم باہمی رنجشوں اور اختلافات کو فراموش کر کے اخوت اور محبت کے جذبے کو فروغ دیں، اس روز سعید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں اور انہیں بھی عید کی خوشیوں میں شریک کریں جو وسائل سے محروم ہیں، خوشی کے اس موقع پر ہمیں اپنے اُن جوانوں اور افسروں کو بھی ضرور یاد ر کھنا چاہیے جو اپنے گھروں اپنے پیاروں سے دور ہمارے تحفظ اور ملکی امن و امان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہمیں اُن شہداء کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جن کے لہو نے پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد اور پُر عزم ہونے کا پیغام دیا اور وطن عزیز کو دہشت گردی سے نجات دلائی۔اسی کا نتیجہ ہے کہ1435,1436, 1437,اور1438ہجری کی چار وں عیدیں پورے ملک میں روایتی جوش و جذبہ اور تزک و احتشام سے منائی گئیں۔بحمدللہ! عید اور اس سے اگلے روز بھی پورے ملک میں خیر وعافیت اور امن وسکوں سے گزرے اور کہیں سے بھی کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ امر واقع یہ ہے کہ برسوں بعد افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کا ثمرہ ہے کہ شرپسند، امن دشمن اور وطن دشمن عناصر اس دن کو لہو رنگ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔اس پر جس قدر بھی سجدہ ہائے تشکر ادا کئے جائیں کم ہیں۔ قومی سطح پر یہ تاثر قوی اور توانا انداز میں پایا گیا کہ مذکورہ برسوں کی عیدیں شہریوں نے دہشت و وحشت اور خوف و ہراس کی قید سے آزاد فضامیں منائیں۔بحمد للہ کراچی ایسے حساس شہر میں بھی گلیوں اور بازاروں میں چہل پہل دیدنی رہی۔ ہر شہری عید کی خوشیوں سے سرشار تھا۔ یہاں اس امر کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی کہ عیدکے موقع پر ملک بھر میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں اور عسکری اداروں نے یقینی بنانے کی حتیٰ المقدور کامیاب کوششیں کیں۔ اس ضمن میں پولیس، رینجرز،ایف سی اور لیویز کے افسران اور اہلکاران نے فعالیت، مستعدی اور فرض شناسی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ تمام متعلقہ اداروں نے بہترین اور منظم رابطہ کاری کے تحت فرائض سرانجام دئیے۔ اس موقع پر عوام کے جان و مال کا تحفظ ان کی اوّلین ترجیح رہا اور انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں ہرممکن اقدام کیے۔ انہوں نے اسلحہ کی نمائش پر پابندی کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا۔ مساجد، امام بارگاہوں اورعید کے اجتماعات کی فول پروف سکیورٹی دیکھنے میں آئی ۔شاپنگ سنٹرز، پلازوں، مارکیٹوں،تفریح گاہوں اور سیر گاہوں میں اضافی فورس تعینات کی گئی تھی ۔پولیس اور رینجرز حکام سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے فیلڈ میں موجود رہے۔ عوامی حلقوں کے نزدیک صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے وضع کردہ شاندار سکیورٹی پلان پر لائق رشک عمل درآمد قابل تحسین ہے۔ مقام اطمینان ہے کہ پاک فوج کے سربراہ عیدالفطر کے موقع پر محاذوں پر پہنچتے اور فوجی جوانوں اور افسروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ آرمی چیف عید کا دن اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ گزارتے اور رات کو بھی وہیں قیام کرتے ہیں۔
عوام اسٹیبلشمنٹ کے نام پر افواج پاکستان کو گالیاں دینے والوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرۂ ارض پر ہماری پاک فوج جیسی کوئی فوج ہے، یہ فوج جو ہر مشکل وقت میں ہم وطنوں کے لئے قربانیاں دینے سے دریغ نہیں کرتی۔ آج جب ہم سب اپنے گھروں میں اپنے بچوں اور رشتہ داروں کے ساتھ عید کی مسرتوں سے شادکام ہو رہے ہیں ہمارے یہ بہادر اور شیردل مجاہد ہماری حفاظت کے لئے سیاچن کے برف زاروں ، راجستھان کے صحراؤں اور افغانستان کی سنگلاخ اور پر پیچ سرحدوں پر سینہ تانے کھڑے ہیں۔ جہاں ان کو اپنے بچوں کے ساتھ عید کی مسرتیں منانے کا حق نہیں، لیکن وہ پاکستان کو اور ہماری عید پرامن بنانے کے لئے سینہ تانے کھڑے ہیں۔


ای پیپر