مشتبہ فہرست: ایک امریکی سفارتی چال
15 جون 2018 2018-06-15

پاکستان کو عالمی سطح پر دو تشویشناک الزامات کا سامنا ہے پہلا یہ ہے کہ ریاستی قوانین منی لانڈرنگ روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہے اس کی ایک مثال پوری دنیا نے پانامہ آف شور کمپنیوں کے معاملے میں دیکھ لی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ تعداد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دوسرے نمبر پر دہشت گردی کی مالی معاونت یعنی Terror Financing ہے۔ پاکستان میں پانامہ معاملے کو جتنی شہرت ملی اس سے پاکستان کے مخالفین کو ریاستی نظام کا مالیات پر کھلے عام تنقید کا موقع ملا۔ انڈیا نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کو لے کر پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں زبردست لابنگ کا آغاز کیا۔ اگلے مرحلے پر انڈیا نے امریکہ پاکستان کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھا کر امریکہ کو قائل کر لیا ہے کہ وہ پاکستان پر لگائے گئے ان دونوں الزامات کو own کرے بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر سپانسر کرے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فروری 2018ء میں امریکی دباؤ پر پیرس میں قائم بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے ان دو الزامات کی روشنی میں پاکستان کا نام اُن ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی جہاں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے قوانین میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا سدباب کر سکیں۔ اس فہرست کو FATF کی Grey List یعنی مشتبہ فہرست کا نام دیا گیا۔ پاکستان کو کہا گیا کہ اگر وہ جوان 2018ء تک تنظیم کو ان قوانین کے بارے میں اعتماد میں نہیں لینا تو اس کا نام ان ممالک میں شامل کر دیا جائے گا۔
FATF کا قیام 1989ء میں عمل میں آیا تھا اس کے پاس کوئی Binding authority نہیں ہے کہ یہ پاکستان یا کسی ملک کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے لیکن ان کے اس عمل سے عالمی سطح پر پاکستان پر اخلاقی دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس سلسلے میں مذکورہ گرے لسٹ میں جن ممالک کے نام شامل کیے گئے ہیں جس میں ایران شمالی کوریا سری لنکا اور باقی افریقہ کے کچھ غیر اہم ممالک شامل ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کا نام شامل کروانے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کو اپنے ساتھ ملایا اور انڈیا کے دیئے ہوئے ایجنڈے کے عین مطابق اس سازش کو لانچ کیا گیا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ شروع میں چائنا سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی حمایت میں کھڑے ہو گئے لیکن اگلی میٹنگ میں پوری دنیا میں صرف ایک ترکی ایسا ملک تھا جس نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ یاد رہے کہ FATF میں پاکستان کو شامل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی 2012ء سے 2015ء تک پاکستان کو اس میں رکھا گیا تھا بعد ازاں کلیئر کر دیا گیا یہ محض پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی ایک سازش ہے۔ اس کے دو قسم کے منفی اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ پہلے تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ بینک جیسے مالی ادارے پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیں گے یا شرائط کو مزید سخت
کر دیا جائے گا۔ دوسرا اور زیادہ نقصان دہ نتیجہ یہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی پرائیویٹ سیکٹر اور ایکسپورٹر کے ساتھ کاروبار کرنے میں زیادہ محتاط ہو جائے گی جس سے ہماری ایکسپورٹ جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہے مزید بحران کا شکار ہو گی۔ پاکستان میں اپنا آپریشن بند یا محدود کر سکتے ہیں۔ پاکستانی تاجروں کی عالمی منڈی میں مشکلات بڑھ جائیں گی اور مزید یہ کہ فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ (FDI) جو پہلے ہی پست ترین سطح پر ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہو جائے گی۔ اس سے انڈیا کو سفارتی سطح پر جو فائدہ ہو گا، وہ اپنی جگہ پر لیکن ٹیکسٹائل اور اجناس کی ایکسپورٹ میں پاکستان جو بزنس کھو دے گا وہ سارا انڈیا کو ملے گا یعنی انڈیا کو اس کا تجارتی فائدہ ہو گا کہ اس کو کاروباری حریف پر سبقت مل جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ایک سازش ہے جس کا سب سے بڑا سرغنہ امریکہ اور انڈیا ہیں۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا کہ غلطی کہاں پر ہے۔ FATF کو گرے لسٹ کے پیچھے اصل محرکات امریکہ کے پاکستان کے خلاف بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔یہ دنیا اس وقت ایک Global Villageیعنی بہت بڑا گاؤں ہے اور اس بڑے گاؤں کی روایات بھی اسی چھوٹے سے گاؤں والی ہیں جہاں چوہدری کے منہ سے نکلی ہوئی بات حکم اور قانون اک درجہ رکھتی ہے۔ اس وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو FATF دراصل گاؤں کے چوہدری کا بھیجا ہوا وہ تھانیدار ہے جس کا مقصد پاکستان کو ڈرا دھمکا کر واپس امریکی عمل داری میں لانا ہے۔
یہ ساری صورت حال ہماری سفارت کاری کے لیے ایک چیلنج کا درجہ رکھتی ہے۔ سابق وزیراعظم نوا زشریف ہمارے ملک کے وزیراعظم بھی تھے جن کے غیر ملکی دوروں پر ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ ہوئے مگر اس سے ہمیں فائدہ کیا ہوا۔ امریکہ سے تعلقات خراب ہوئے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوئے ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی سطح پہلے سے گر گئی حتیٰ کہ انڈیا جس کے بارے میں ان پر مودی کا پار ہونے کا الزام لگتا رہا۔ اس نے سارک کانفرنس اسلام آباد میں شرکت سے انکار کر دیا اور پاکستان کا پانی بند کر کے ملک کو معاشی بحران سے دو چار کر دیا سعودی عرب اور چائنہ جیسے قریب ترین ممالک نے FATF میں پاکستان کی حمایت سے انکار کر دیا۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہماری سفارتی کارکردگی کس قدر ابتر ہو چکی ہے۔ اس وقت ہمیں ایک متوازن اور جامع خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں پیشہ ورانہ سفارتکاری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ملک کی قابل ترین شخصیت کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر لگایا جاتا تھا وہ کیریئر ڈویلپمنٹ ہو یا جرنیل ہو یا سیاسی شخصیت ہو لیکن افسوس کا مقام ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ملک کی سفارتی تباہی میں بھرپور حصہ ڈالتے ہوئے ایک ایسے شخص کو امریکہ میں سفیر بنا کر بھیجا جو ان کی ایئر لائن کمپنی کا ملازم تھا اور جسے سفارت کی ABC سے بھی دور دور کا واسطہ نہ تھا اور جس کی عمر اور تجربہ مطلوبہ معیار کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سفارت کاری اور ہوائی جہاز کی ٹکٹیں بیچنے میں بڑا فرق ہے۔
پاکستان میں جو بھی نئی حکومت آئے اس کے لیے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو غیر ملکی پوسٹنگ سے لطف اندوز کروانے کے لیے انہیں سفیر لگانے کی بجائے پیشہ ور اور تجربہ کار ماہرین کو اس کام پر لگائیں تا کہ ملک کا امیج بہتر بنایا جا سکے۔ FATF کی گرے لسٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتی یہ سب پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا ایک ناجائز امریکی ہتھکنڈا ہے آج آپ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کر لیں یہ فہرست آج ہی پاکستان کو بری کر دے گی ہمیں اپنی سیاسی و سفارتی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ سفارت کاری سیکھنی ہو تو مودی سے سبق سیکھیں جس نے متحدہ عرب امارات جیے ملک میں امارات حکومت کی طرف سے سرکاری خرچے پر وہاں اتنا بڑا عالیشان مندر تعمیر کروا لیا ہے۔ دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی سب سے زیادہ مدد کرنے والے ملک پاکستان کے سفارتی عملے پر امریکہ میں Movement کی پابندیاں ہیں وہ اپنی مرضی سے کہیں آ جا نہیں سکتے۔


ای پیپر