صحافت میں زوال
15 جون 2018 2018-06-15

پاکستان کی سیاست اور صحافت میں بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن جب ان دونوں شعبوں کا جائزہ لیا جائے تو معاملہ اس قدر شان دار نہیں جس قدر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست اور صحافت کے ایک دوسرے پر گہرے اثرات بھی ہیں اور یہ متصادم بھی ہیں۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے، اگر اس کو جانتے جانتے ان تعلقات اور تصادم کی گہرائی تک جایا جائے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہماری صحافت کا زیادہ انحصار سیاست، سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتوں کی قیادتیں، حتیٰ کہ اُن سیاسی جماعتوں کے خاندان کے معاملات پر ہے۔ پرنٹ میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا پر زیادہ وقت انہی کو دیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہبروں کے بیانات سے لے کر اُن کے خلاف دئیے گئے بیانات کو پیش کرنا، اور دیگر سیاسی خبریں۔ اخبارات کے صفح�ۂ اوّل سے لے کر آخر تک سیاست کاروں اور سیاسی خبریں ہی زیادہ جگہ لیتی ہیں اور اسی طرح الیکٹرانک میڈیا کی خبروں سے لے کر ٹاک شوز تک، حتیٰ کہ انفرمیشن کے ساتھ مزاح کی چاشنی لگاکر انفوٹینمنٹ، سب سیاست اور سیاسی لوگوں کے گرد پروگرام ہیں۔ ریاست میں فوج، عدلیہ، سیاست، سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادتیں اور صحافت طاقتور ادارے ہیں، لیکن ذرا نوٹ کریں، جس قدر آسان سیاسی جماعت اور اُن کے لیڈروں کے خلاف لکھنا، بولنا، جھوٹا سیاسی الزام لگانا، داستان گھڑنا، اُن کے بیڈرومز تک کی کہانیاں گھڑنا یا بیان کردینا ہے، کیا دیگر کسی شعبے کے لوگوں کے متعلق ایسا کرنا ممکن ہے۔ بشمول صحافت کیا کسی صحافی کے خلاف کوئی ایسی خبر یا داستان بیان کرنا ممکن ہے جیسی کسی سیاسی لیڈر کے بارے لکھا جائے یا کسی ٹیلی ویژن پر بیان کر دی جائے؟ ہرگز نہیں! اس لیے کہ سیاست دانوں پر الزام لگانا آسان ہے،اور دیگر شعبے کے شخص کے بارے میں لب کھولنا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ ہماری صحافت زوال کے جس پاتال میں گری پڑی ہے، شاید سیاست کا زوال اس قدر نہیں۔ ذرا خبریں پڑھنے والوں کے بولنے کا انداز دیکھیں، خبریں ایسے پڑھتے ہیں جیسے کسی زمانے میں طبل جنگ بجنے پر دشمن پر حملے کا اعلان کیا جاتا تھا۔ اگر ایک اور مثال دوں تو غلط نہ ہوگا، جیسے فوجی پریڈ کے آغاز یا مارچ پاسٹ پر فوجی دستے کا صوبیدار Shout کرتا ہے، بالکل یہی انداز ہے ہمارے نیوز کاسٹرز کا، لڑکے یا لڑکیاں، جو اونچا بولے، Shoutکرے اور جنگ کا اعلان کرنے کی طرز پر خبریں پڑھے، وہ اتنا ہی بڑا نیوزکاسٹر، اس کی اتنی زیادہ تنخواہ۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر خبر کسی سیاست دان کو رگڑنے کے بارے میں ہوئی، ٹیلی ویژن چینل اور نیوزکاسٹرز کے وارے نیارے، اونچی سے اونچی آواز میں خبر پڑھ کر خبر سننے والوں میں ’’تھرتھلی‘‘ مچا دی جاتی ہے۔ کیا ایسے انداز میں کسی جرنیل، جج یا صحافی کے بارے خبر پیش کی جاسکتی ہے؟
ایک عجیب تعلق اور تصادم ہے ہماری سیاست اور صحافت کا۔ اور اسی طرح ہمارے سیاست دان محتاج ہیں ایسی صحافت کے، متعدد تو جنم ہی اخباروں میں لیتے ہیں، حالاں کہ سیاسی رہبر کا جنم تو عوام کے اندر جدوجہد کے بطن سے ہوتا ہے۔ میں ایسے لاتعداد لیڈروں کو جانتا ہوں جنہوں نے سیاسی جدوجہد عوام میں کرنے کی بجائے صحافیوں کے ساتھ تعلقات بنا کراور اخباری مالکان کے ساتھ مسلسل رابطے کرکے اپنا آپ دکھلانے میں کامیابی حاصل کی۔ ’’لفافہ‘‘ صحافت کی اصطلاح اس کارروائی سے بنی اور اسی کارروائی سے کئی اہم لیڈروں نے جنم لیا۔ جن لوگوں نے 2002ء میں پرائیویٹ چینلز کے ظہور کے بعد پاکستان میں عوامی شعور کا خواب دیکھا تھا، یقیناًاُن کے خواب بکھر گئے۔ افسوس، الیکٹرانک میڈیا نے شعور بیدار کرنے کی بجائے سماج میں موجود جہالت، انتہا پسندی، انتشار اور دیگر منفی رحجانات کو بڑھایا ہے۔ ذرا غور کریں اس شعبے پر، 2013ء سے آج تک چھے خواتین کے معاملات الیکٹرانک میڈیا کا اہم ترین موضوع رہا ہے۔ ریحام خان، آیان علی، گُلالئی، پنکی پیرنی اور عائشہ احد۔ الیکٹرانک میڈیا کے یہ پسندیدہ ترین موضوع تھے۔ افسوس زوال کا عمل سیاست سے زیادہ صحافت میں ہے، جہاں شادیوں، طلاقوں، سکینڈلز اور سونے والے کمروں کی داستانیں (جھوٹی یا سچی) سرخیوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ میں نے ایک بڑے دانشور کو ریحام کی شادی کی خبر پرلکھتے پایا اور جب محترمہ نے طلاق لے لی، اسی دانشور کو ٹی وی پر انٹرویو کرتے اور یہ کمنٹ کرتے پایا، ’’آپ جیسی دانشور اور مدبر...‘‘ جو کل ایک ولن تھی، وہ طلاق کے بعد ہیروئن ہوگئی۔ اور نام نہاد کتاب لکھنے کی خبروں کے بعد ادیبہ قرار دے دی گئیں۔ ابھی کتاب شائع ہی نہیں ہوئی اور وہ اہل کتاب قرار دے دی گئیں۔ یہاں پر میں کتاب اور مصنف کے حوالے سے ایک قانونی اور پروفیشنل نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مغرب جہاں پر ایسی کتابیں لکھی اور شائع کی جاتی ہیں جن سے انقلاب برپا ہو جاتے ہیں، وہاں کسی ترقی یافتہ دنیا میں کتاب اور مصنف کی کیا تعریف ہے۔ کوئی شخص جب ایک مواد لکھ لیتا ہے تو وہ مسوّدہ ہے، مسودّہ کتاب تب بنتا اور کہلاتا ہے جب وہ ایک پروفیشنل پبلیکیشن ہاؤس یا اشاعتی ادارے میں جاتا ہے جہاں اس کو ایڈیٹوریل عمل سے گزار کر شائع کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پبلشر کے پاس مسودّے کو ایڈٹ کرنے کا مکمل حق ہوتا ہے۔ اور جب مسودّہ اس ایڈیٹوریل عمل سے گزرنے کے بعد شائع ہوجائے تو یہ کتاب کہلاتا ہے اور اسے لکھنے والارائٹر۔ یعنی لکھنے والے
کو رائٹر بنانے کے لیے پبلشنگ کے عمل سے گزرنا ہوتا ہے، بصورتِ دیگر وہ رائٹر نہیں۔ ایسے لاتعداد لوگوں کی کتابیں میں پڑھ چکا ہوں جن کو پبلشر نے اُن کی زندگی میں شائع کرنے سے انکار کردیا اور وہ مرتے دم تک لکھاری نہ بن سکے۔ اور جب اُن کی موت کے بعد وہ مسودّے شائع ہوئے تو وہ لکھاری کہلائے۔ اس حوالے سے محترمہ ریحام خان ابھی نہ تو لکھاری ہیں اور نہ ہی کوئی مسودّہ کتاب کہلا سکتا ہے۔ مگر ذرا زوال دیکھیں کہ الیکٹرانک میڈیا کیسے ’’بڑھ چڑھ‘‘ کراس معاملے کی خبرنگاری کرنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ خبریں پڑھنے والوں سے لے کر اس پر تجزیہ کرنے والوں تک۔ کیا اس ملک کے حقیقی مسائل یہی چند لوگ ہیں۔ پاکستان میں جہاں پینے کو پانی نہیں، تعلیم کے لیے سکول نہیں، تقریباً آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہی ہے، وہاں کا میڈیا کس کو فوکس کرتا ہے۔ سکینڈلز اور سیاست دانوں کے بیانات۔ اُن کے علاج معالجے کی خبریں۔ دراصل صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے بلکہ ہمارے ہاں تو جمہوریت کے علمبردار صحافی، اینکرز اب تو خبریں پڑھنے والے بھی جمہوریت کی تعریف اپنی کسی سیاسی وابستگی کے فریم میں کرتے ہیں۔ آپ آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فلاں کالم نگار، خبرنگار، تجزیہ نگار اور ٹی وی اینکر یا اینکری کسی لیڈر کے فریم میں جمہوریت کی تعریف کررہا ہے، اس لیے کہ وہ کسی نہ کسی طرح جانب دار ہوچکا ہے۔ کئی لفافہ لیے بغیر بھی اپنے ’’عشقِ رہبر‘‘ میں گوندھ کر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ کاش ہماری صحافت ، پاکستان کے عوام اور اُن کے معاملات کو موضوع بنائے ۔ ذرا ایک اس نکتہ پر بھی غور کریں کہ صحافت کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دنیا میں علاقہ ممنوع کون سا ہے۔ کیا ریٹائرڈ جج، عدلیہ اور ریٹائرڈ جرنیل، فوج ہے؟ ہرگز نہیں، وہ فرد ہے، مگر کیا ہمارا میڈیا اُن پر لب کشائی کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے ہی شعبے کے لوگوں یعنی صحافیوں پر۔ وہ بھی مقدس گائے تصور کیے جاتے ہیں۔ جہاں سیاست اور صحافت میں ایک جگہ پر تعلق ہے، وہاں تصادم بھی ، یہ ایک دلچسپ تضاد ہے۔ بس سیاست اور سیاست دان مقدس گائے نہیں۔


ای پیپر