امریکی مسلط کردہ غیر اعلانیہ تیسری عالمگیر جنگ
15 جون 2018 2018-06-15

امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ اور مختلف تھنک ٹینکس گزشتہ ڈیڑھ دو عشروں سے ایک تسلسل کے ساتھ ساتھ’’ انتہا پسندی‘‘ ،’’ شدت پسندی ‘‘، ’’ غیر یقینی سیاسی حالات ‘‘ اور ’’سیاسی بحران ‘‘کو جواز بنا کر پاکستان کے جوہری اثاثوں اورآزاد قبائلی علاقوں کے حوالے سے جارحانہ ، اشتعال انگیزانہ ، غیر ذمہ دارانہ اور غیر متوازن افکار و نظریات کا پرچار کر رہے ہیں۔ ان ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کے ڈس انفارمیشن پر مبنی خیالات دراصل محض اُن کے ما فی الضمیر میں چھپے مذموم عزائم اور خبث باطن کے آئینہ دار ہیں۔اس ضمن میں بعض امریکی حکام کا رویہ بھی عاقبت نا اندیشی کا مظہر ہے۔ جہاں تک پاکستان کے آزاد قبائلی علاقوں اور اُن کے شہریوں کا تعلق ہے تو اُن کی اکثریت امن پسند، اسلام دوست اور اعلیٰ انسانی اقداروروایات کی امین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 9/11 کے ’’خود کاشتہ سانحہ‘‘ کے بعد امریکی حکام نیو ورلڈ آرڈر کے تحت طے شدہ ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عالم اسلام کے اُن تمام ممالک کو جارحیت، پیشگی حملے، لشکر کشی اور ایسے جدید اور مہلک ترین کیمیاوی، جوہری اور جراثیمی ہتھیاروں کی تباہ کاری کا ہدف بنانا چاہتے ہیں، جن کے شہریوں کی اکثریت عالمی طاقت اور اُس کے حلیف مغربی ممالک کے تمام تر دباؤ اور ترغیب کے باوجود اسلام کی ابدی، آفاقی ، دائمی اور انسانیت نواز اقدار سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں۔20 ویں صدی کے آخری عشرے کے آخری 8 سالوں میں عالمی طاقت نے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عالم اسلام کے مذکورہ ممالک کے خلاف ’’ غیر اعلانیہ تیسری عالمگیر جنگ ‘‘کا آغاز کررکھا ہے۔ ان ممالک میں سے اکثر کو انتہا پسند، قدامت پسند ، عسکریت پسند، دہشت گرد اور مذہبی جنونی قرار دیکر انہیں عالمی طاقت کی حساس اور خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ’’بدمعاش ریاستیں‘‘ ڈکلیئر کر دیا تھا۔ ان ممالک کی سرحدوں کو باقاعدہ طور پر’’روگ بارڈرز‘‘ کی غلیظ ترین اصطلاح سے معنون کیاگیا۔ امریکا کی بعض ایجنسیوں نے عالم اسلام کے کئی ممالک کو اپنی ویب سائٹس پر ببانگِ دہل (Heavens of terrorists) قرار دیا۔ ان میں سوڈان، افغانستان ، ایران،عراق، شام،
لیبیا، صومالیہ ، یمناور پاکستان تک کا نام شامل تھا لیکن 9/11 کے بعد جب حکومتِ پاکستان نے مبینہ’’ دہشت گردی کیخلاف بین الاقوامی جنگ ‘‘ میں غیر مشروط طور پر امریکا کا حلیف بننا قبول کر لیا تو پاکستان کا نام مذکورہ امریکی ایجنسیوں کی ویب سائٹس سے حذف (Delete) کر دیا گیا۔نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کا نام حذف کر چکنے کے باوجود امریکی ومغربی میڈیا اندر خانہ پاکستان کیخلاف گاہے ماہے مختلف شوشے چھوڑ تا رہا۔
پاک امریکا دوستی کی تاریخ پر گہری نگاہ رکھنے والے اربابِ دانش واشگاف الفاظ میں انتباہ کر رہے تھے کہ امریکا کبھی کسی ملک کا مخلص اور ایثار پیشہ دوست نہیں بن سکتا کیونکہ اُس کی دوستی ہمیشہ اپنے اغراض اور مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے اوائل ہی سے امریکا کا حلیف رہا ہے۔ 1946ء میں امریکا نے سرد جنگ کا آغاز کیا۔1947ء میں قیام پاکستان عمل میں آیا۔ان ابتدائی برسوں ہی میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے امریکا کا دورہ کر کے یونائیٹڈسوویت سوشلسٹ ری پبلک آف رشیا کو اپنا حریف بنا لیا۔ یوں سرد جنگ میں 1950 ء سے 1989 ء تک پاکستان نے ہر آڑے موقع پر امریکی اقدامات و موقفات کی تائید و حمایت کی۔ اس کے برعکس 1965ء اور 1970 ء کی جنگ میں امریکا نے اپنے حلیف ملک پاکستان کاکسی بھی سطح پر کوئی ساتھ نہ دیا جبکہ سوویت روس نے کھلم کھلا بھارت کی حمایت کی۔ 20 ویں صدی کے چھٹے عشرہ کے نصف وسط کے بعد اُس دور کے صدرِ پاکستان جنرل ایوب خان نے اپنی سوانح عمری (Freids not masters) لکھی۔ جس میں انہوں نے صراحت کے ساتھ اس امر کا اعلان کیا کہ حکومت پاکستان اور پاکستان کے شہری امریکا کو محض اپنا دوست سمجھتے ہیں نہ کہ اپنا آقا۔ 20 ویں صدی کے ساتویں عشرے کے اواخر میں سوویت روس نے جب افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کرنے کیلئے جارحیت کے جرم کا ارتکاب کیااور اُس کی افواج نے وہاں بد ترین قسم کے جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے شہری آبادیوں اور شہریوں کو تختہ مشق ستم بنانا شروع کیا تو برادراسلامی ملک کی حیثیت سے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے افغان عوام کی تحریک مزاحمت میں اُن کا ساتھ دیا۔ یہ ہمہ جہتی تعاون تھا۔ یہ تعاون قطعاً امریکا کے ایما پر نہیں تھا۔امریکا تو حکومت پاکستان اور افغان عوام کی تحریک مزاحمت کی امداد کیلئے اُس وقت میدان عمل میں اُترا جب افغان عوام دنیا کی دوسری بڑی طاقت کی افواج سے لڑتے ہوئے 4 برس بیت چکے تھے۔ اس دوران امریکیوں کو خدشہ پیدا ہوا کہ اگر سوویت روس کی افواج کی جارحانہ پیش قدمی نہ روکی گئی تو وہ گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر لے گا۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ابتدائی 4 برسوں میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے سوویت روس کی ظالم اور غاصب افواج کے خلاف نہتے افغان عوام کی تحریک مزاحمت کا ساتھ اس لئے دیا کہ اس امر کا قوی امکان تھا کہ اگر سوویت روس کی جارح اور غاصب افواج کا راستہ نہ روکا گیا تو وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سمندری علاقوں کی تسخیر کو اپنا ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں۔ آخر پاکستان کے بھر پور تعاون کے جب مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو امریکا اور مغربی دنیا بھی افغان عوام کی تحریک مزاحمت کی ہمہ جہتی امداد کیلئے آمادہ ہوئی ۔ ایک عشرے پر محیط اس جنگ نے سوویت روس کی داخلی معیشت کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیا۔افغان عوام اور مجاہدین کی تحریک مزاحمت کے اثرات اُن وسط ایشیائی مسلم ریاستوں پر بھی مرتب ہوئے، جن پر روس بتدریج 4 سے 5 عشروں تک قابض رہا۔ امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ نے ابلاغیاتی توانائی اور طاقت کے بل بوتے پر یہ تاثر عالمی برادری کے اذہان و قلوب میں راسخ کر دیا کہ 20 ویں صدی کے 9 ویں عشرے کے آخری برسوں میں امریکی و مغربی امداد کے بل بوتے پر افغان مجاہدین اور پاکستان روسی افواج کو پس قدمی اور پسپائی پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے دوران دنیا کی دوسری بڑی طاقت سے پاکستان کی کوئی ذاتی مخاصمت نہ تھی۔ یہ تو پاکستان کی رولنگ کلاس کی امریکا نوازی تھی ، جس نے روس کو بھارت کی طرح پاکستان کا بد ترین دشمن بناکر رکھ دیا تھا۔ امریکیوں کا وتیرہ ہے کہ وہ اپنا کام نکال چکنے کے بعد آلہ کار کے طور پر استعمال ہونیوالے ملک کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔


ای پیپر