’’نشانِ امتیاز۔۔۔!
15 جون 2018 2018-06-15

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ’’نشانِ امتیا ز‘‘ پاکستان کا اپنی کیٹگری کا سب سے بڑا سول (صدارتی )ایوارڈ ہے جو نمایاں اور عدیم المثال قومی خدمات سرانجام دینے والی قابلِ فخر شخصیات کو اُن کی قابلِ قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔تاہم یہاں میرے کالم کا عنوان ’’نشانِ امتیاز ‘‘ معروف مصنف ، شاعر اور کالم نویس جناب جبار مرزا کی تصنیف’’ نشانِ امتیاز ‘‘سے متعلق ہے جو جناب جبار مرزا کی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق چونتیس برسوں پر مشتمل یاداشتوں کی طویل اور انکشافات سے لبریز کسی حد تک حیرت انگیز داستان ہے جس میں بہت سارے اہم قومی معاملات سے متعلقہ سر بستہ رازوں سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ جناب جبار مرزا جہاں ایک خوبصورت نثر نگار اور شاعر ہیں وہاں وہ ایک باخبر اور سینئیر صحافی اورایک کالم نگا رہونے کے ساتھ ایک ایسے محقق اور مؤرخ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں جنہیں بہت سارے قومی معاملات و واقعات سے آگاہی حاصل رہی ہے اور وہ انہیں اپنے صحیح تناظر اور تاریخی پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جناب جبار مرزا نے محسنِ پاکستان سے متعلق اپنی یادداشتوں پر مبنی تصنیف کا نام یا عنوان ’’ نشانِ امتیاز ‘‘رکھا ہے تو اسکی وجہ ہے کہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخصیت ہیں جنہیں دو بار اپنی کیٹگری کا سب بڑا سول ایوارڈ ’’ نشانِ امتیاز ‘‘حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ’’ نشانِ امتیاز ‘‘کی ذیل میں درجہ بدرجہ ہلال امتیاز ، ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز کے اعزازات بھی آتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے لیکن ’’ نشانِ امتیاز ‘‘جس کا درجہ سب سے بلند ہے اُس کا حاصل کرنا اور ایک بار نہیں دو بار حاصل کرنا بلا شبہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کے پا لینے کاتصور ہی کیا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ اعزاز حاصل کرنے کا شرف پہلی بار 23 مارچ 1997 ء کو صدر مملکت فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں سے اور دوسری بار 23 مارچ 1999 ء کو صدر مملکت جناب رفیق احمد تارڑ کے ہاتھوں سے حاصل ہوا۔ یقیناًیہ محسن پاکستان کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کروانے میں اُن کی بے پایاں خدمات کا اعتراف تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز جسے بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر خان ریسرچ لیبارٹری کا نام دیا گیا کے بانی سربراہ کے طور پر یورنیم کو جوہری ہتھیار بنانے
کے معیار کی حد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت کا حامل بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مرکزی اور اہم ترین کردار رہا ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ بلا شبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں سینٹری فیوج مشینوں کے ذریعے یورنیم کو جوہری ہتھیار وں کے بنانے کے معیار تک آفزودہ کرنے کے اہم ترین اور مشکل ترین چیلنج سے عہدہ برآ ہونے میں کامیابی حاصل کی اور اس ضمن میں اُن کا کردار ایک پیش رو اور قومی ہیرو کا رہاہے۔ اس ضمن میں کتاب ’’ نشانِ امتیاز ‘‘میں سابقہ صدرِ مملکت غلام اسحق خان مرحوم جو پاکستان کے جوہری پروگرام سے کم و بیش دو عشروں تک سرگرمی سے وابستہ رہے ہیں کی گواہی موجود ہے۔ انہوں نے مشہور صحافی مرحوم زاہد ملک کے نام اپنے خط میں جو کتاب کے صفحات 22تا27 پر چھپا ہوا ہے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے جوہری منصوبے کو ترقی دینے کا چیلنج قبول کیا۔ انہوں نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں یورینم کو جوہری ہتھیار بنانے کے معیار کی حد تک آفزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس مقصد کے لیے سینٹری فیوج مشینوں کی تیاری اور تنصیب کے انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل کو کامیابی سے تکمیل تک پہنچایا گیا بلکہ 1984 ء کے نصف ثانی تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہتھیار بنانے کی یورینم جو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی پیدا کردہ تھی کو ایندھن کے طور پر استعمال کر کے ایک ایسا جوہری آلہ تیار کر لیا تھا جو مختصر عرصے میں جوڑا جا سکتا تھا اور اس سے دھماکہ کیا جاسکتا تھا۔
غلام اسحق خان مرحوم جو سیکریٹری مالیات، وزیرِ خزانہ اور صدرِ مملکت کی حیثیت سے پاکستان کے جوہری پروگرام سے شروع سے وابستہ رہے کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں یہ خیالات ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاکستان کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں اُن کی بے پناہ خدمات اور اُن کی مرکزی حیثیت کو تسلیم کرنا ہے۔ یقیناًڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس ضمن میں بہت بڑا کردار ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے ساتھ یہ المیہ بھی ہے کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں سینٹری فیوج مشینوں کے ذریعے یورنیم کی جوہری ہتھیاروں کے بنانے کے معیار کی حد تک افزودگی کا کریڈٹ جہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جاتا ہے وہاں اُن پر یہ الزام بھی موجود ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دوسرے ممالک بالخصوص ایران اور لیبیا تک پھیلانے یا منتقل کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔ اسے عرفِ عام میں ایٹمی پھیلاؤ (Nuclear Proliferation ) کہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایٹمی پھیلاؤ کے اس گھناؤنے کام میں کس حد تک ملوث ہیں یا نہیں ہیں یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مورخہ 04 فروری 2004 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے اعترافی بیان میں ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے الزام کو تسلیم کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی۔ جناب جبار مرزا نے اپنی تصنیف میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اس اعترافی بیان کو اپنے پورے پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ سامنے لا کر اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ بیان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو سے زیرو بنانے کی اُس مہم کا حصہ تھا جو اُس وقت کے صدرِ مملکت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر شروع کی گئی۔ جناب جبار مرزا نے کتاب کے صفحات 32سے 37 پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو سے زیرو بنانے کی مہم کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ انہوں نے بطورِ خاص اس بات کا ذکر کیا ہے کے یہ مہم جنرل پرویز مشرف کی خصوصی ہدایات پر شروع کی گئی اور اُس وقت کے سیکریٹری اطلاعات سید انور محمود نے اپنی ذاتی منفعت اور پرویز مشرف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس میں اہم کردار اد ا کیا۔
272صفحات پر مشتمل خوبصورت گیٹ اَپ ، مضبوط جلد ، انتہائی پُر کشش اور خوبصورت سر ورق کی حامل اور سفید آف سیٹ پیپر پر چھپی ہوئی کتاب ’’ نشانِ امتیاز ‘‘کو شہریار پبلیکیشنزاسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ اس قیمتی اور نادر کتاب میں کیا کچھ ہے ایک کالم میں اُس کی تفصیل بیان کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ کتاب کے سات باب ہیں جو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت، پاکستان کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے حوالے سے مرکزی اور بانی شخصیت کے طور پر اُن کے کردار اور خدمات ، شمالی کوریا کی معاونت سے غوری سیریز کے میزائلوں کی کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں کامیاب تیاری ، محسنِ پاکستان کے مختلف اوقات میں دئیے گئے انٹر ویوز ، اُن کی ادبی اور صحافتی خدمات، محسن پاکستان کے ساتھیوں کے تذکرے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر حکومتی اورعسکری سربراہوں کی طرف سے محسنِ پاکستان کے نام لکھے گئے تاریخی خطوط ، اسناد اور پیغامات کو احاطہ میں لیے ہوئے ہیں اس کے علاوہ کتابیات اور اشارات کے ساتھ محسنِ پاکستان اور اُن کے خاندان کے افراد کی بعض نادر تصاویر بھی دی گئی ہیں۔ ’’ نشانِ امتیاز ‘‘بلا شبہ جناب جبار مرزا کی ایسی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تحقیق ، جستجو، تاریخ سے رہنمائی اور تہذیب کے شعور سے آگاہی کے اپنے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا ہے بلکہ اپنی خوبصورت نثر نگاری کے جوہر بھی دیکھائے ہیں ۔ جناب جبار مرزا اپنی اس تصنیف پر بلا شبہ فخر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر