عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے
15 جون 2018 2018-06-15

انتخابات کی گہما گہمی نے تمام عوامی مسائل کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ خود انتخابی مہم میں بھی کہیں عوامی مسائل نہیں جھلکتے۔ سیاسی جماعتوں کے بیانیے میں نہیں لگتا کہ پاکستان کے عوام کن معاشی، سماجی و ثقافتی مسائل کا شکار ہیں۔ ملکی آئین کے مطابق انتخابات سے پہلے قائم ہونے والی نگراں حکومت کا مینڈیٹ بہت ہی محدود ہے۔ اس لئے اس کو سیاسی اصطلاح میں کام چلاؤ حکومت کہا جاتا ہے۔ لیکن عملا دیکھا جائے ، اگر صحیح حکمرانی ہو تو بہت سارے مسائل جو صرف حکمرانی کے دائرے میں آتے ہیں حل ہو سکتے ہیں سندھ کی نگراں حکومت نے دو اہم مسائل کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ایک صوبے میں زراعت کے لئے پانی کی تقسیم اور دورا ٹرانسپورٹ۔ سندھ میں ایک عرصے سے پانی پر سیاست ہوتی رہی۔ جو زمیندار حکومت کا ساتھ نہیں دیتے تھے ان کو اپنے حصے کا پانی نہیں ملتا تھا۔ اب پانی چوروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ سندھ میں کاشتکاروں کے پانی کی فراہمی نہ ہونے پر گزشتہ ڈھائی ماہ سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ کوبھی ماہ مارچ سے شکایت ہے سندھ کو اپنے حصے کا پانی نہیں فراہم کیا جارہا ہے۔
پنجاب پانی کی قلت شیئر کرنے کو تیار نہیں۔ نہروں اور شاخوں پر رینجرز تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ رینجرز کی تعینات اگرچہ نئی بات نہیں۔ دوسرا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے ۔ یہ شکایت عام رہی ہے کہ ٹرانسپورٹرز مقررہ کرایوں سے زیادہ وصولی کرتے رہے ہیں۔حکومتی سطح پر مسافروں کی اس لوٹ مار کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ مسافروں سے کرایوں کے نام پر یہ لوٹ مار عید کے موقع پر اور ہی بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر عید کے موقع پر ٹرانسپورٹر کراچی خواہ دیگر شہروں سے باہر جانے والی بسوں اور ویگنوں کے کرایے دوگنا تین گنا کر لیتے تھے۔ شکایات کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا تھا۔ ابھی موٹر وے پولیس نے کراچی سے لیکر قومی شاہراہ اور انڈس ہائی وے پر چلنے والی بسوں پر چھاپے مارے اور زیادہ کرایہ وصول کرنے پر 278 بسوں اور 116 ویگنوں پر چھاپے مارے اور مسافروں کو 32 لاکھ روپے زائد رقم لوٹائی جو ان سے زیادہ کرایے کی مد میں وصول کی گئی تھی۔ تعجب کی بات ہے کہ مسافروں کو یہ رقم لوٹادی گئی، اس رقم سے لگتا ہے کہ عید کے موقع پر ہر مرتبہ کروڑوں روپے مسافروں سے غیر قانونی طور پر وصول ہوتے رہے ہیں۔ صوبائی پولیس، ٹرانسپوڑت اتھارٹی، ہائی وے پولیس ان سب کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس غیرقانونی وصولی کو روکتے۔ایسا نہیں کیا گیا، جس سے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ متعلقہ محکموں کے علم میں ہوتے ہوئے رونما ہو رہا تھا۔ بلاشبہ یہ محسن اقدام ہے۔ ایک پہلو ضرور رہتا ہے کہ رقم تو واپس کردی گئی لیکن قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
’’لوڈشیڈنگ: عوام سے حقائق کیوں چھپائے جارہے ہیں؟ ‘‘ کے عنوان سے ’’روزنامہ کاوش‘‘ لکھتا ہے کہ رواں موسم میں جب سورج آگ برسا رہا ہے۔ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے عام لوگوں کی زندگی کو مزید اذیت ناک بنا دیا ہے۔ لوڈشیڈنگ بھگتنے ولاوں پر یہ خبر بجلی کی طرح گری کہ جولائی اور اگست میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔ قوم کو یہ نوید نیپرا کی جانب سے دی گئی ہے۔ نیپرا نے لوڈ شیڈنگ کی تما تر ذمہ داری نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کمپنی کے گرڈ اسٹیشن درست نہیں لہٰذا بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں لوڈشیڈنگ پر مجبور ہیں۔ نیپرا نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن نظام کو مستحکم کرنے کے لئے 96 ارب 63 کروڑ روپے لگانے کی منظوری دی گئی تھی، لیکن ٹرانسمیشن کے لئے ذمہ دار یہ ادارہ اپنے نیٹ وک میں بہتری نہ لاسکا۔ نیپرا کے مطابق مسلسل بریک ڈاؤن ، این ٹی ڈی سی گرڈ اسٹیشنوں پر اضافی لوڈ، ٹرانسمیشن اور گرڈ اسٹیشنوں کے منصوبوں میں دیر، پاور پلانٹس سے بجلی کی منتقلی کے مسائل این ٹی ڈی سی خراب کارکردگی کی مثال ہیں۔
مسلم لیگ نون نے 2013 کے انتخابات میں لوڈژیڈنگ کے خاتمے کے نعرہ سے حصہ لیا تھا۔ وفاق میں حکومت کی تشکیل کے بعد لوڈژیڈنگ کے خاتمے کے لئے مختلف شنوائیاں ملتی رہی۔ جب نواز حکومت کو پتہ چلا کہ معاملہ بہت ہی بھاری ہے، اس نے اپنی حکومت کی مدت ختم ہونے والے سال یعنی 2018 میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی ڈیڈلائن دے دی۔ 2017 کے آخر میں لوڈشیڈنگ کی ایورسٹ چوٹی سر کرنے کی تشہیر شروع کردی گئی۔ لیکن لوڈشیڈنگ ختم نہ ہو سکی۔ اس کمزوری اور لوڈشیڈنگ کو ان بیانوں کے ذریعے چھپایا گیا کہ’’ جہاں جہاں سے وصولی نہیں ہوگی، وہاں لوڈشیڈنگ ہوگی۔‘‘ سندھ میں اتنی لوگ شیڈنگ کی گئی کہ لوگ تڑپ اٹھے۔ اس صوبے کے لوگوں کو یقین ہوچلا کہ ان سے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کا بدلہ لیا جارہا ہے۔ اب نیپرا نے جو انکشافات کئے ہیں اس کے بعد نیپرا کو کیوں تحفظ دیا جارہا ہے؟ میڈیا مسلسل یہ سوالات اٹھاتا رہا کہ اچانک 2018میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کسیے ممکن ہے؟ یہ ایک مرحلیوار عمل ہے۔ تب وزیر بجلی اور پانی عابد شیر علی الٹے سیدھے اعدادو شمارکے ذریعے قوم کو الجھاتے رہے۔ اگر این ڈی سی کی کارکردگی اتنی ہی خراب تھی ، تو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے عوام کو سچ کیوں نہیں بتایا گیا؟ گزشتہ سال اپریل میں نیپرا نے اسپیشل وزٹ کی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں این ٹی ڈی سی کے پاور پروجیکٹس، ٹرانسمیشن لائنوں، لوڈشیڈنگ کی صورتحال سسٹم کی توسیع کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ این ٹی ڈی سی کے منصوبوں میں دیر کی وجہ سے 2018 میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ وہ بات جو عوام کے مفاد میں ہے وہ عوام سے کیونکر چھپائی جارہی ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران بجلی سے متعلق منصوبوں پر ایک کھرب روپے سے زائد سرمایہ کاری کے باوجود مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے؟
دوسرے صوبوں کے مقابلے میں لوڈشیڈنگ سندھ کے حصے میں زیادہ آتی رہی ہے۔ اس کے اثرات عام لوگوں کی معمول کی زندگی پر ہی نہیں بلکہ پانی وغیرہ کے فراہمی کے ساتھ ساتھ معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ زراعت ہو یا صنعت اور تجارت سب کا پہیہ بجلی سے ہی چلتا ہے۔ مسئلے کی صحیح نشاندہی کے ساتھ ساتھ اس کا صحیح حل تلاش کرنے اور اوراس پر بروقت موثر طور پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس اور عبرت نے کالاباغ ڈیم کا معاملہ سپریم کورٹ میں آنے پر اداریے لکھے ہیں۔’’کالاباغ ڈیم اور سپریم کورٹ کا موقف ‘‘کے عنوان سے روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے چند روز ہوئے کہ کالاباغ ڈیم پر سپریم کورٹ بھی بیچ میں آگئی ہے۔ چونکہ یہ ایسا منصوبہ ہے جس کو تین صوبائی اسمبلیاں مسترد کر چکی ہیں لہٰذا یہ سپریم کورٹ کے لئے بھاری پتھر ثابت ہوا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کا متبادل تلاش کیا جائے ۔ اب عید کے بعد اس موضوع پر سیمینار کئے جائیں گے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے 1991 کا معاہدہ موجود ہے۔ جب تک اس معاہدے پر اصل جوہر کے مطابق عمل نہیں ہوتا تب تک اپنی سے متعلق کسی منصوبے پر اتفاق رائے تلاش کرنا کارآمد نہیں ہوگا۔


ای پیپر