ٹرانسمیشن لائنز اور بجلی کی پیداوار
15 جون 2018 2018-06-15

چلیں یہ تو مان لیا۔ ن لیگ حکومت نے پانچ سال میں 11k میگاواٹ بجلی بنائی۔ اور اس وقت ہم 21/22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ جبکہ گنجائش 28 ہزار میگاواٹ کی ہے۔ اور طلب 23/24 ہزار میگاواٹ کی ہے۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں۔ پانچ سال میں یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ اب اعتراض یہ آیا ہے۔ کہ ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر نہیں کیا۔ پہلے تو یہ سن لیں کہ اس وقت جس 21/22 ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل جاری ہے۔ وہ تبھی ممکن ہوئی ہے کہ ٹرانسمیشن کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔ اور اس میں پچھلے چند سالوں سے 500kv اور 220kv کی 203 کلومیٹر لائنز کا اضافہ کیا گیا۔ جس کے تحت نئے بننے والے پاور پلانٹس مثلا 1200 میگاواٹ کا بھکی پروجیکٹ ، 1320 میگاواٹ کا ساہیوال کول پروجیکٹ اور نیلم جہلم کا 969 میگاواٹ کا ہائیڈل پروجیکٹ شامل ہیں۔ صرف نیلم جہلم کو روات پر نیشنل گرڈ سے ملانے کے لیے 145 کلومیٹر 500 kv کی لائن تعمیر کی گئی۔ یاد رہے۔ ابھی نیلم جہلم کی تقریباً 500 میگاواٹ کی دو ٹنلز نے فنکشنل ہونا ہے۔ اس کے علاوہ ابھی ایسے پاور پروجیکٹس عنقریب مکمل ہونے والے ہیں۔ جن کے بعد بجلی کی پیداوار میں دس سے بارہ ہزار میگاواٹ کا مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ان میں حب 1320 میگاواٹ ، اینگرو تھر 660 میگاواٹ ، بلو کی 1223 میگاواٹ ، حویلی بہادر شاہ 1200 میگاواٹ ،قاسم پاور فیز تھری 950 میگاواٹ ، پنجاب پاور پلانٹ 950 میگاواٹ ، مہمند ڈیم 800 میگاواٹ ، سکی کناری 870 میگاواٹ ، کروٹ 720 میگاواٹ ، کے الیکٹرک 700 میگاواٹ ، ایٹمی پلانٹ کینپ 2 ، 1100 میگاواٹ اور ایٹمی پلانٹ کینپ 3، 1100 میگاواٹ جیسے پروجیکٹس شامل ہیں۔ جو اگلے چند ماہ سے لے کر تین سال میں مکمل ہو جائیں گے۔ تھرمل ، کول ، ہائیڈل میں بیشمار چھوٹے بڑے پروجیکٹس بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سولر اور ونڈ میں بننے والے پاور پلانٹس الگ سے ہیں۔ ان سب کی تفصیل یہاں لکھنا مشکل ہے۔ ان میں پرائیویٹ اور این ٹی ڈی سی ایل اور چائنہ کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ان پروجیکٹس میں ڈیمز بھی شامل ہیں۔ جن سے پانی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
آپ کو ان پاور پلانٹس کی تعمیر پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے ان کا بننا ایک قومی ضرورت تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2025 تک ملک میں بجلی کی طلب 49000 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ ابھی سسٹم میں 11 ہزار میگاواٹ نئی بجلی داخل ہو چکی ہے۔ اور 22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود یہ بجلی طلب سے دو ہزار میگاواٹ کم ہے۔ ذرا سوچیں۔ پچھلے چند سالوں میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی رہی تھی۔ اور ہمارے کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی تھیں۔ اگر یہ بجلی نہ بنائی جاتی تو اس وقت ملک کا کیا حال ہوتا۔ ابھی ہماری بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 28 ہزار میگاواٹ ہے۔ لیکن ٹرانسمیشن لائنز اس کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا۔ چند ہفتے قبل پنجاب اور کے پی کے میں مکمل بجلی چلی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی۔ جب بجلی زیادہ پیدا کی گئی تو سسٹم ٹرپ کر گیا تھا۔ جیسا میں نے اوپر لکھا۔ نئی ٹرانسمیشن لائنز بچھائی جا رہی ہیں۔
اور ان لائنز میں جو سب سے بڑا پروجیکٹ ہے۔ وہ 660kv کی ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ لائن ہے۔ جو مٹیاری سندھ سے ننکانہ صاحب لاہور تک تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس کی لمبائی 878 کلومیٹر ہے۔ اور یہ ہمارے بجلی ترسیل کے سسٹم پر پڑنے والے بوجھ کو اٹھا لے گی۔ اور پورٹ قاسم ،حب اور اینگرو تھر کے پاور پلانٹس کی بجلی کو ملک کے بالائی علاقوں تک پہنچانے کے کام آئے گی۔ یاد رہے۔ پاکستان میں پہلی بار 660kv کی ھائی وولٹیج لائن تعمیر ہو رہی ہے۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے ایک پاکستانی انجینئر نے بہت فخر اور جذبات میں رندھے لہجے میں یہ بات کہی۔ وہ جب دوسرے ملکوں میں ایسے عظیم منصوبوں پر کام کرتا تھا۔ تو سوچا کرتا تھا۔ کاش میرے اپنے ملک میں کبھی ایسا ترقی یافتہ منصوبہ لگے۔ خدا کا شکر ہے۔ اس کا خواب مکمل ہوا اور وہ آج اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہا ہے۔ ایسے بیشمار ڈاکٹرز اور انجینئرز غیرملکوں میں اپنی پر کشش نوکریاں چھوڑ کر پاکستان آ چکے ہیں۔ اور ملک کی تعمیر نو میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ تعمیر و ترقی جس کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کی حکومت اور نواز شریف کے ویژن کو جاتا ہے۔ اور جسے آج قوم کی اکثریت تسلیم کر رہی ہے۔


ای پیپر