عید الفطر اجتماعی خوشی کا دن
15 جون 2018 2018-06-15

مسلمان رمضان المبارک کا پورا مہینہ خواہشات کی قربانی، مجاہدے اور ہر طرح کی عبادات کی کثرت سے گزارتے ہیں اور اس مہینے کے خاتمے پر ایمانی و روحانی برکتوں اور عنایتووں کے منتظر ہوتے ہیں، چنانچہ عید الفطر امت کو مسرت کا تہوار عطا ہوا۔ عید الفطر کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ عمومی خوشی کا دن ہے اسی لئے اس مہینے میں صدقہ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خوشحال، مالدار اور صاحبِ ثروت پر واجب قرار دیا گیا ہے کہ وہ گھر کے ہر فرد کی طرف سے فطرانہ ادا کریں۔ غریبوں، محتاجوں، ضرورت مندوں کو دیں تا کہ وہ لوگ اپنے لئے نئے جوڑے تیار کر سکیں، نئے کپڑے پہن سکیں، اچھا کھانا کھا سکیں اور عید کی خوشی میں برابر کے شریک ہوں۔ گو اس طرح عید کا دن پورے سماج کے لئے عمومی خوشی کا دن بن جاتا ہے،
ہمیں غریبوں سے ہمدردی اور دوستوں سے محبت کا پیغام دیتی ہے، مساوات و غم خواری اور اجتماعیت و وحدت کا درس دیتی ہے، حسنِ سلوک اور رواداری کا سبق پڑھاتی ہے۔ عید مناتے وقت ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ہم اپنے بھائیوں کے لئے ایثار کریں گے۔ غریبوں کے دکھ درد کو محسوس کریں گے اور عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ یاد رکھئے خوشی کے اس مبارک دن میں اللہ کے نزدیک اس خوشی کی کوئی اہمیت نہیں جس میں ضرورت مندوں، بے کسوں، ناداروں اور مظلوموں کو بھلا دیا جائے اور ان کو اپنی خوشی میں شامل نہ کیا جائے۔ عید کے پر مسرت موقع پرہماری ایمانی ذمہ داری ہے کہ ہم ان بے قصور اور مظلوم بھائیوں کو نہ بھولیں جو ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔
دنیا میں مسلمانوں کے علاوہ بھی دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف تہوار مناتے ہیں۔ ان تہواروں میں جہاں وہ ایک جانب اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو وہیں دوسری جانب ان کے عقائد و افکار کی عکاسی بھی ہوتی ہے اور یہی تہوار مذہب کے ترجمان بھی بنتے ہیں۔ تہواروں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں یا تو اس مذہب اور اس کی فکر سے قربت پیدا ہوتی ہے، دل اس کی جانب مائل ہوتا ہے یا ان طور طریقوں کو دیکھ کر کراہیت محسوس ہوتی ہے اور دوری اختیار کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو قیامت تک تمام اقوامِ عالم کو کامیابی و فلاح کا پیغام دیتا رہے گا۔ اللہ کے رسول محمدؐ فرماتے ہیں کہ جب نیکی کر کے خوشی ہو اور برائی کرنے سے رنج ہو ، تو تو مومن ہے۔ بندہ مومن ہر کام کرنے سے قبل اور بعد میں اپنے دل کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کے بعد یا تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے یا پھر توبہ و استغفار کا رویہ اختیار کرتا ہے یہی اطمینان اور توبہ و استغفار کا رویہ جہاں ایک جانب بندۂ مومن کے لئے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے وہیں دیگر لوگوں کے لئے اس کی زندگی اسلام سے متعارف ہونے اور اس سے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے اورا سلام بھی یہی چاہتا ہے کہ دنیا میں موجود خدا کے تمام بندے اس خالق بر حق کے احکام کی جملہ مسائل میں تعمیل کریں جس نے انہیں تخلیق کیا ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں سے اسلام کو مکمل طور پر پیش کریں ورنہ وعظ و تذکیر کی مجلسیں سجتی رہیں گی اس کے باوجود نہ مسلمانوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی بندگانِ خدا کے افکار و اعمال میں کوئی تبدیلی ممکن ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عید الفطر کا دن مومنین کو پورے ایک ماہِ رمضان المبارک کی عبادت
کے بعد نصیب ہوتا ہے ۔ رمضان المبارک میں وہ اپنے آپ کو ظاہری اور باطنی طور پر پاک کرتے ہیں اور اللہ کی احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوتا ہے۔ جب لوگ عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے ۔ اے لوگو تمھارے رب نے تمھاری بخشش فرما دی ہے پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹو یہ عید کا دن انعام کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا کرم ہی ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں بھی خوشیاں مہیا کراتا ہے ان اعمال کے بدلہ جو ہم نے خالص اس کی رضا کے لئے انجام دئے ہیں اور آخرت کا اجر تو اس سے زائد ہے اور وہی اجرِ عظیم ہے۔ ہم نے رمضان میں روزے رکھے اور عبادات انجام دی ہی تھیں کہ اللہ پاک نے بغیر دیر کئے ہمیں ہماری مزدوری اور اجرت عطا فرما دی۔ یہی اللہ کی سنت ہے اور اسی طریقہ کو مسلمانوں کو بھی اختیار کرنا چاہئے۔
آج عید الفطر ہے مجھے پاکستان کی پہلی عید بھی یاد آ رہی ہے 14اگست 1947کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا اور 29اگست 1947کو عید الفطر تھی مگر پاکستانیوں نے عید رنج و الم میں گزاری تھی اس موقع پر قائد اعظم نے مسلمانوں کو آزاد وطن کی مبارک باد دی اور عید کے خصوصی پیغام میں انہیں منظم اور صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ میں اس مبارک موقع پر تمام مسلمانوں کو تہہ دل سے عید مبارک کا ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور ان کی عظمتِ اقبال مندی کے لئے دستِ دعا ہوں رمضان کا پاکیزہ مہینہ جسے تمام مسلمانوں نے کمال استقلال اور خود اعتمادی کے ساتھ گزارہ اور ختم ہو گاے ہے یہ مبارک مہینہ علم ومعارف کا سرچشمہ ہے اور مسلمانوں کو ایک بصیرت افروز پیغام دیتا ہے کہ سخت صعوبتوں اور قربانیوں کے بغیر کوئی شخص اپنی مزلِ مقصود پر نہیں پہنچ سکتا ہے۔
آج کے روز ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ امتِ مسلمہ مسائل و مشکلات کا شکار کیوں ہے اتحاد و اتفاق کا فقدان کیوں ہے بد قسمتی سے ہمارے ہاں مسلکی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر نفرتوں کے ایسے بیج بوئے گئے ہیں کہ ان کی فصل اب بالکل تیار ہے۔ دشمن نے لڑاؤ اور حکومت کرو پالیسی کے تحت ہمیں یوں آپس میں دست و گریباں کیا کہ ہمارے مابین دوریوں کی خلیج حائل ہو گئی اور امت کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔


ای پیپر