کبھی خنجر بدل گئے کبھی قاتل بدل گئے
15 جون 2018 2018-06-15

معقول خاندان تھا۔ برادری میں عزت تھی۔ چار پیسے بھی تھے۔ لوگ بات بھی مانتے تھے۔ چوپال میں فیصلے کو اہمیت بھی دی جاتی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ گھر میں ایک شخص ایسا تھا کہ عین وقت پر ایسا گُل کھلا دیتا کہ بات بگڑ جاتی۔ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ عزت جانے کا خطرہ بھی سر پر منڈلانے لگتا۔ طے یہ ہوا کہ آئندہ اس شخص کو گھریلو معاملات تک ہی محدود رکھا جائے۔ بیرونی معاملات اور چوپال کے معاملات کے لیے اس پر قدغن لگا دی گئی۔ اسی اثنا میں برادری کے کسی کے بڑے کی شادی طے ہو گئی۔ فیصلہ ہوا کہ اس شخص کو برأت کے ساتھ نہیں لے کر جایا جائے گا۔ مگر اس شخص نے تو طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا۔ الٹا لینے کے دینے پڑ گئے ۔ بزرگوں نے مل کر طے کیا ہے کہ ہماری ایک شرط ہے کہ تم
سارا دن بالکل خاموش رہو گے اور برأت کا کھانا سب سے آخر میں آپ کو کھلایا جائے گا۔ اس شخص نے ان تمام شرائط کو قبول کر لیا۔ مقررہ تاریخ کو برأت پہنچی۔ نکاح ہوا اور دلہا سمیت تمام برأت کھانے کو چلے گئے ۔ ایک بزرگ نے اس شخص کو سامان کی رکھوالی سپرد کر دی اور کہا کہ ہمارا انتظار کرے اور بعد میں کھانا کھائے۔ ابھی کھانا شروع ہوا ہی تھا۔ تو اس شخص نے ساتھ بیٹھے شخص کو گھورا اور مونچھوں کو تاؤ دے کر کچھ پوچھا ! مگر وہ شخص پھر بھی خاموش رہا۔ پھر موصوف نے اشارے کنائے میں اس کو گالی بکی۔ گالی بکنا ہی تھا تو اگلے شخص نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ہنگامہ شروع کر دیا۔ لڑائی کی آواز سن کر براتیے پنڈال میں واپس آئے اور لڑائی ختم کروائی۔ بزرگوں نے اپنے لاڈلے، کو ڈانٹا کہ تم نے پھر ہنگامہ کیا۔ ہم آ پ کو اسی لیے ساتھ نہیں لارہے تھے۔ اس نے کہا کہ پہلے آپ میری بات سنیں۔ میری غلطی ہو تو میں سزا کا مستحق ہوں۔ میں نے اس شخص سے اشارے کنائے یعنی مونچھوں پر ہاتھ پھر کر پوچھا ! کہ آپ دلہے والوں کی طرف سے ہو۔ یہ خاموش رہا۔ پھر میں نے انگلی ناک پر رکھ کر یعنی ( کو کے والی جگہ ) ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ دلہن کی طرف سے ہو۔ یہ پھر خاموش رہا۔ پھر میں نے کہا کہ اگر تم دونوں خاندانوں کے عزیز و اقارب نہیں ہو تو تمہارا یہاں کیا کام ہے۔ فضول میں یہاں کیا کر رہے ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ آپ میرا قصور بتائیں۔
عمران خان جب بھی اٹھنے لگتے ہیں تو کوئی نہ کوئی مسئلہ آڑے آ جاتا ہے۔ ریحام خان سے شادی ہوئی ۔ چند مہینوں بعد علیحدگی ہو گئی۔ ریحام ابھی تک عمران کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ ریحام کا مسئلہ بیچ میں تھا کہ عائشہ گلالئی نے عمران کو ناکوں چنے چبوانے کی کوشش کی۔ سب کا مسئلہ نقطۂ نظر عمران کی کردار کشی تھا۔ عائشہ گلالئی درمیان میں ہی تھی تو عمران نے اپنی پیرنی سے شادی رچالی۔ عمران کے اس عمل نے عمران کا سیاسی اور کرداری گراف ہر چند گرایا۔ ابھی عمران اس عمل سے نکلنے والے ہی تھے تو بے شمار سیاسی لوٹوں نے تحریک انصاف کا رخ کیا۔ عمران نے ان تمام لوگوں کو وسیع القلبی سے قبول کیا۔ ابھی یہ معاملات پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچے تھے کہ بخاری کا معاملہ کھڑا ہو گیا۔ حالانکہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں تھا۔ زلفی بخاری صرف بلیک لسٹ تھا۔ جب عمران خان کو اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ زلفی بخاری بلیک لسٹڈ سے تو ان کو فوراً زلفی بخاری کو ایئر پورٹ پر ہی چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ مگر عمران خان کو اس بات کا بخوبی علم ہے۔ کہ عمران واحد لیڈر ہے جس کی حمایت صرف عوام کرتی ہے کوئی اور سیاسی لیڈر نہیں کرتا۔ جتنے اینکر اور جتنے تجزیہ نگار ہیں سب ایک دوسرے کی طرف کبھی مونچھوں پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ آپ کس طرف ہو ؟ اور کبھی ناک پر ہاتھ رکھ کر پوچھتے ہیں آپ کس طرف ہو۔ اور ایک عمران خان سے جس نے انگلی منہ پر رکھی ہوئی ہے۔
اگر عمران چاہتے کہ انہیں اس ملک کے قوانین کی پابندی کرنی ہے۔ ان لوگوں کو انصاف دینا ہے۔ اس قوم کی حالت بدلنی ہے۔ تو خود کو بدلنا ہو گا۔ اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہو گا۔ خود کو قوانین کا پابند بنانا ہو گا۔ زلفی بخاری ہو یا کوئی ریڑھی بان سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہو گا۔ ریحام خان ہو یا عائشہ گلاٹی جیسے لوگو ں سے بچنا ہو گا ۔ ووٹ کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ پارٹی ورکرز کو عزت دینا ہو گی۔ ورکرز کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو خنجر وہی ہونگے صرف قاتل بدل جائیں۔اور غریب اور مفلوک الحال عوام کے ارمانوں کا خون عمران خان کی گردن پر ہو گا۔ اور برأت میں لڑائی صرف اشارے کنایوں سے ہو گی۔ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ عمران کو اب کسی نئے گل کھلانے کی اجازت نہیں ہے۔


ای پیپر