عید: محروم طبقوں کی محرومیاں دور کرنے کا دن
15 جون 2018 2018-06-15



یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خوشی کا تہوار عید الفطر مسلمانان عالم کو اتحاد، محبت، یک جہتی، قربانی اور ایثارکا پیغام دیتا ہے۔ اسلامی تہواروں کا طرۂ امتیاز پیروکاروں میں اللہ کی بندگی کے جذبات کو بیدار کرناہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس روز پانچ نمازوں کے بجائے چھ نمازیں ادا کرنا اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اللہ اکبر ،اللہ اکبر لا الٰہ الااللہ و اللہ اکبر وللہ الحمد کی تکرار کا مقصد دنیا میں صرف اللہ کی کبریائی کے نظام کو نافذ کرنا ہے۔ اسلامی تہوار محض ہاؤ ہو، رقص و سرود اور عیش و نشاط کی محفلیں آراستہ کرنے کا پیغام نہیں دیتے بلکہ آس پاس موجود اپنے تمام اسلامی بھائیوں اور بہنوں میں خوشیاں بانٹنے کی تحریک بھی دیتے ہیں۔ ان تہواروں کا پیغام محروم طبقات کو بھی حقیقی خوشی کا سندیسہ عملی مدد کے ذریعے دینا ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہمیں ان کے اہل و عیال
کی بھرپور مدد کرنا چاہیے۔ عید الفطر کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام دنیا کا بہترین دین ہے۔ اگر اُمہ اس کی روشن تعلیمات اور روایات کو اس فانی زندگی کا شیوہ بنا لے تو سامراج کی کوئی قوت بھی اُسے للکارنے کی جرأت نہ کر سکے۔ بد قسمتی سے وہ بکھرے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کا لہو لہانے میں مصروف ہے ۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تمام تر خامیوں، کمزوریوں اور دین سے دوری کے باوجود آج بھی اسلام دشمن قوتیں اسلام اور مسلمانون ہی کو اپنے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھتی ہیں۔ افسوس کے کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ آج ہمیں اپنے قول و فعل میں پائے جانے والے تضادات کو دور کرنا چاہیے۔ جب ایسا ہو جائے گا تو ہر دن روز عید اور ہر رات شب برات ہوگی۔
بدقسمتی سے1439ہجری کی عید الفطر عالم اسلام کے شہریوں کیلئے کئی نئے متوقع بحرانوں اور طوفانوں کا پیغام لے کر آئی ہے۔ بدقسمتی سے یہ عید عالم اسلام کے شہری عدم تحفظ کے گھمبیر ہوتے اور پھیلتے ہوئے جان لیوا احساس کے سائے میں منا رہے ہیں۔ یمن، شام ،عراق ،لیبیا، فلسطین،مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں مسلح تنظیموں کی خونریزی ایک لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کشمیر، فلسطین، چیچنیا ، برما میں مسلمانوں پر قیامتیں ٹوٹ رہی ہیں۔ کسی قوم کیلئے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے خوشی کے تہوار بھی اس کیلئے مسرت اور شادمانی کا حقیقی پیغام لانے سے قاصر رہیں۔
وطن عزیزکے شہریوں نے ایک منتخب حکومت کے دور میں پانچ چھوٹی عیدیں منائیں ۔ اس دوران شہریوں کی خواہش رہی کہ منتخب حکومت کے دور میں ارباب حکومت انہیں عملی ریلیف دینے کیلئے مفید اور مثبت اقدامات کرتے۔ انہیں خوش گمانی تھی کہ یہ حکومت انہیں سہولیات و مراعات فراہم کرنے کیلئے نتائج خیز آئین سازی اور اقدامات کرے گی اور ان کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی آ ئے گی ۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ منتخب ارباب حکومت کا فریضہ تھا کہ وہ اپنے رائے دہندگان کی توقعات اور امنگوں پر پورا اترتے ۔ انہیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنا چاہئے تھی کہ کسی خوشی کے تہوار کے موقع پر ارب پتی اور امیر ترین حکمرانوں کی جانب سے جاری ہونے والے تہنیتی پیغامات غریب شہریوں کے درد کا درماں نہیں بن سکتے اور نہ ہی ان کی زندگیوں کو حقیقی خوشیوں سے ہم کنار کرسکتے ہیں ۔ عوام لفظی بیانات نہیں، عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ا یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ عام شہری اس وقت تک عید کی خوشی نہیں مناسکتا جب تک کوئی حکومت بیروزگاری، غربت، ظلم، بیماری اور جہالت کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات کر کے عوام کو بنیادی حقوق، امن، انصاف، روزگار، علاج اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کیلئے مناسب و موزوں سہولیات فراہم نہیں کرتی۔ عید الفطر کی پرمسرت تقریب کے چہرے پر نکھار لانے کیلئے ضروری تھا کہ جمہوری ہونے کے دعویدار حکمران انسدادِ بد عنوانی،جرائم کے خاتمے، گرانفروشوں کی سرکوبی،قومی خزانے کے لٹیروں کے محاسبے،بنیادی انسانی ضروریات کی بہم رسانی، روزگار کے مواقع کی دستیابی،آفت رسیدوں کی امداد،مظلوموں کی فریاد رسی اور آئی ڈی پیز کی مکمل بحالی کے لیے مطلوبہ اقدامات میں تاخیر نہ کر تے اور شہریوں کی زندگیوں کو آسودہ اور خوشحال بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کر تے تاکہ عوام عید کی حقیقی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ۔
گزشتہ کئی عیدوں سے عام شہری کو حکومتیں وعدوں کے باوجود کوئی بڑا اور قابلِ ذکرریلیف دینے میں کامیاب نہیں رہیں۔ محض مرکزی و صوبائی کابینہ کا حجم گھٹا دینے اور ارکان پارلیمان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کر دینے سے چند متمول اور آسودہ حال حضرات و خواتین کے گھروں میں تو گھی کے چراغ جل سکتے ہیں لیکن غریب کے گھر کا چولہا بجھاہی رہتا ہے۔ عام شہری اس وقت تک عید کی خوشی نہیں مناسکتا جب تک حکومت بد امنی، بیروزگاری، غربت، ظلم، بیماری اور جہالت کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات کر کے عوام کو بنیادی حقوق، امن، انصاف، روزگار، علاج اور تعلیم کی سہولیات کی ارزانی کیلئے مناسب و موزوں سہولیات فراہم نہیں کرتی۔


ای پیپر