پیامِ عید اور نمازوں میں رہنے والے اور جوہڑوں سے پانی پینے والے
15 جون 2018 2018-06-15

پڑوسیوں کے حقوق و فرائض سے ہم کچھ لاپرواہی کرنے کے مرتکب ہُو ہی نہیں سکتے، جبکہ آپ کا پڑوسی مُسلمان بھی ہو، مگر‘ اُمت مُسلمہ کی بدقسمتی دیکھئے ، کہ آج کل کے دورِ فتنہ میں بُہت سے مُسلمان ، اور مسلمان ریاستیں ہی آپس میں متحارب ، اور کشت وخون کرتی نظر آتی ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے، اور ایسے کیونکر ممکن بنایا جاسکتا ہے یہ کوئی ایسا مشکل سوال نہیں ہے، کہ جو ہماری سوچ سے بالا تر ہو۔

یہود و ہنود، آج سے نہیں چودہ سو سال سے ، مسلم دشمنی کی منصوبہ سازی، اور تخریبی سازشوں میں مصروف ہیں۔ حضور کے دور میں عبداللہ بن ابی نے منافقت کا دوہرا معیار اپنا کر آپ کو مرتے دم تک ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جس میں کبھی بھی کمی نہیں آئی، بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے، کہ اِس میں رُوز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے،

لیکن ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ پٹھانوں اور پختونوں کی سِرشت ، اور جبلت میں ایک بات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، کہ اُن کی دشمنیاں صدیوں پر محیط ہوتی ہیں، شاید افغان حکومت بھی اِسی اصول پہ عمل پیرا ہے، مگر جہاں تک طالبان حقیقی کا تعلق ہے ، تو اِس میں وقفہ اور تبدیلی اُس وقت ہوئی، جب جنرل ضیاءالحق مرحوم نے افغانستان کی خاطر اُس وقت کی، بلکہ آج کی بھی سب سے بڑی قوت سے ٹکرلے لی اور توڑے دار بندوقوں، اور ناکارہ اور فرسودہ اسلحہ سے نہ صِرف رُوس کو پسپائی پر مجبور کیا، بلکہ اُس بڑے مُلک کے حصے بخرے کرانے میں کامیاب رہے،

جنرل ضیاءالحق کی وفات پر افغان طالبان نے کہا تھا، کہ آج ہم اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوگئے ہیں، لیکن مقام افسوس ہے کہ افغانستان ہی سے خود کش بمباروں نے آکر پورے پاکستان کو لہو لہو کر دیا ہے، اور لاکھوں مسلمانوں کو اَپاہج بنا دیا، گو اِس کے پیچھے ایک منظم سازش تھی، اور امریکی پشتو سیکھ کر، اور عربی کی تعلیم حاصل کر کے ہمارے مدرسوں ، اور مکتب میں اِمامت کر رہے تھے، اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف کار ہو گئے تھے۔

اُن کی اِس سازش کو اللہ کے فضل سے محض ہمارے ایک اِدارے نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ناکام بنایا، سُوچنے کی بات ہے کہ خود کش حملے، صِرف جمعے کے متبرک دِن ہی کیوں وقوع پذیر ہوتے ہیں؟ کیا کوئی بھی مُسلمان ایسا کر سکتا ہے، یہ صرف اُس صورت میں ممکن ہے کہ اُس کے ذہن کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن کر دیا جائے۔

افغانستان اور پاکستان میں کئی باتیں سانجھی اور مشترکہ نوعیت کی ہیں، ابھی خبر آئی ہے پنجاب کے ضلعے راجن پور میں غالباً جوہڑ سے پانی پیتے کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اور کئیوں کی حالت نازک ہونے پر ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا ، تا کہ اُن ” انسانوں“ کی جو جنگلی جانوروں کے ساتھ مِل کر پانی پیتے ہیں، اور آج کی تاریخ میں جو جدید ترین دور کہلاتا ہے، انصاف کی نادر مثال قائم کر دی گئی ہے، ہمارے چیف جسٹس ” صاف “ پانی مہیا کرنے کا رُونا روتے رہے ہیں، مگر یہاں یہ عالم ہے کہ عوام کو پانی ہی دستیاب نہیں، کیا شہر اقتدار کے انسان ، اور جنوبی پنجاب کے انسانوں کی ساخت ، بناوٹ ، اور خون کی رنگت میں کوئی فرق ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اکابرین اور متعبیرن کا خون سفید ہوگیا ہے،

کوہ سلیمان ایک مشہور پہاڑی سلسلہ ہے، جس میں قدرت کی بے شمار نشانیوں کے علاوہ اللہ نے معدنیات کے بے شمار ذخائر، جن میں یورنیم جیسی قیمتی شے بھی شامل ہے، وافر مقدار میں مہیا کر رکھی ہے، کتنے افسوس کا مقام ہے ، کہ کوہ سلیمان پر بلوچ قبائل ، غاروں میں رہتے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اُن کے ذرائع آمدن اَب کیا ہیں، لیکن قیام پاکستان سے پہلے اور بعد تک بھی اُن کی عسرت کا یہ عالم تھا ، کہ کڑاکے کی سردیوں میں اُن کے پاس تن ڈھاپنے کے لئے گرم کپڑے نہیں ہوتے تھے، میرے والد مرحوم و مغفور نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنے آپ کو گرم کرنے کے لئے، راتوں میں پہاڑوں پر چڑھ کر اور دوڑ کر اپنے چسم کو گرم کرتے تھے،

بالکل یہی حال افغانیوں کا ہے، کہ جو سردیوں میں علاقہ یعنی وانا اور فاٹا میں آجاتے تھے، اور سردیاں گزار کر دوبارہ اپنے وطن واپس چلے جاتے ہیں، جب ہم چھوٹے تھے، تو ہم دیکھتے تھے، کہ یہ لوگ جِ سے مقامی زبان میں ” وزیرے “ ” وزیرستان“ کے رہنے والے بھی کہا جاتا ہے، ڈیرہ غازی خان آجاتے تھے، اور شہر میں آکر اور گھر گھر جا کر راشن اکٹھا کرتے تھے، جو آدمی چھ مہینے پاکستان میں ، اور چھ مہینے افغانستان میں گزارتا ہو.... اُس کے وطن کا کیا نام ہوگا پہلے سرحد اور بارڈر کا کوئی تصور ہی ناپید تھا، دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے رشتوں اور شادیوں کے بندھن میں مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے، اور تجارت عام تھی، خاص طور پر پاکستان سے اُن کو گندم ، سینکڑوں ہزاروں ٹرکوں کے ذریعے پاکستانی تاجر بہم پہنچاتے تھے، اور دوسری اجناس، حتیٰ کہ کپڑے، اور جوتیاں بھی ابھی تک پاکستان سے جاتی ہیں۔

پاکستان کے ہر شہر میں مہنگے ترین بازاروں اور سڑکوں پہ آپ کو یہی افغانی قابض نظر آتے ہیں، جہاں اُنہوں نے لکڑیوں کے ” ٹال “ بنائے ہوئے ہیں، اِس کے علاوہ وہ یہاں جائیدادوں کی خرید و فروخت ، اور پلاٹوں پہ قبضے کرنے، اور کرانے پر بھی بری طرح ملوث ہیں، لاہور میں گلبرگ مین بلیوارڈ کے مشہور پلازہ اوریگا سنٹر مکمل طور پر انہیں کے قبضے میں ہے، اور اب تو سوات سے آئے شخص نے نجانے کتنی دیر کیلئے ملک پہ قبضہ کر لیا ہے، اِن سے تو مرحوم سابق گورنر بہت بہتر تھے، جو گھر کی بجائے ہسپتال میں رہتے ، مگر دفتری امور باقائدگی سے نمٹاتے۔ افغانستان کے پہاڑوں میں ، جیسے تورا ، بورا، جو امریکی دہشت و وحشت کے بدترین ، مظالم ، جو نازی دور کے مظالم سے کئی گنا زیادہ مہلک پن لیے ہوئی تھی۔ تورا بُورا کے غاروں میں اُن کی رسائی بھی ناممکن تھی۔ پانی کے پینے کے وسائل اور مسائل بھی اُن کے بالکل ہم جیسے ہیں، ان تمام ترحقائق ، اور زمینی سچ کے باوجود یہ بھی سچ ہے، کہ اِن دونوں ممالک کے عوام منافقت کی منازل طے کرتے ہوئے، تاجروں اور سیاستدانوں کو اپنی من مرضی سے تجارت کرتے، اور سیاست کرتے دیکھتے ہیں، تو وہ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں،

اِس سال افغانستان کی برآمدات کا حُجم ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈاکر تک پہنچ گیا ہے، اور اِس حقیقت کے برقرار رہنے سے برآمدات کا ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے، حالانکہ افغان منڈیوں میں دُنیا بھر کی طرح چینی مصنوعات کی ایک سے دَس نمبر تک کی مصنوعات کی فراوانی کیوجہ سے ، اور خاص طور پر بھارتی اثرو رسوخ کی بدولت ایسا ہونا تقریباً ناممکن تھا، جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان سے تمام اجناس ، گندم، آٓٹا، چاول ، دالیں ،گوشت وغیرہ جاتا ہے، اور یہ عمل مدتوں سے قائم ہے، شاہ ظاہر شاہ بھی اِس عنایات خصوصی کے باوجود نجانے کیوں عیاشی و فحاشی کا دلدادہ، بھارت کے ساتھ ان تعلقاتِ اعتراضیہ کے باوجود اُنہیں فوقیت دیتا تھا، اب پاکستان کی ادویات، چونکہ خاصی مہنگی ہوچکی ہیں، حالانکہ اِس سے قبل ، افغانستان، بنگلا دیش ، اور افریقی ممالک میں ادویات برآمد کرنے کا زالا، اِس حقائق کے باوجود بھی کہ مثلاً اگر پاکستانی پنڈال کسی مریض کو دیں، اوربیرونی ممالک کی یہی دوائی کِسی مریض کو دے تو زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

پاکستان برآمد مصنوعات، اجناس دادویات کرنیوالا واحد مُلک تھا،

افغانستان پاکستان کی سرحد پہ باڑ لگانے ، اور اَب فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے پر کابل کو بڑی تکلیف ہوئی، کیونکہ سمگلنگ انسانی سے لیکر سمگلنگ اجناسی بند ہونے کا اُ سے شدید خدشہ ہے، مگر سابقہ دور میں جنرل راحیل شریف نے ، اِس دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا اور چند ہی دنوں میں جَب ، سینکڑوں ہزاروں سال سے لدے ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں تو پھر اشرف غنی، گھٹنے ٹیکنے سے لیکر چھونے پر تیار ہوگیا، جنرل راحیل شریف نے جس کام کی ابتداءکی تھی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُس کی انتہا کر دی، وہ ابتک کئی چکر کابل کے لگا چُکے ہیں اور عبداللہ عبداللہ سے لیکر اشرف غنی سے متعدد ملاقاتیں کر چُکے ہیں، مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اشیاءخوردنی ، جو بیرونی مُلک کو برآمد کر دی جاتی ہیں، اپنے مطالبات منوانے تک پابندی لگا دیں، جس کے نتائج کے حصول کے لئے اُنہیں محض چند دن انتظار کرنا پڑے گا، پاکستان میں سر عام سود کا کاروبار کرنے والے ، یہ ایمان فروش جن کا مُلا عمر مرحوم و مغفور نے نظریات و و افکار اسلامی سے دُور ، دُور تک کوئی تعلق و واسطہ نظر نہیں آتا، اُن کی بھی فہرست مرتب کرلی جائے تو اُس کے فوائد بھی دُور اس نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں۔ مگر معذرت کیساتھ ہمارا وطن کونسا قانون پسند مُلک ہے، یہاں تو نمازوں کی ، روزہ کھولنے کی ، حرم شریف میں ننگے پاﺅں پھرنے کی ، بلیک لِسٹ دوستوں کو پاسپورٹ کے بغیر باہر لے جانے کی، اور تین دن تک چارٹرڈ طیارے کو سعودیہ کے ایئر پورٹ پہ کھڑا رکھنے کی ، مسجد نبوی پہ عبادت کرنے کی ویڈیو، سوشل میڈیا پر قمر جاوید باجوہ کی بجائے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کے ساتھ ، انتخابات پر اثر انداز ہونیکے گھر گھر پہنچا دی جاتی ہیں، جبکہ خصوصاً عورتوں کو حکم ہے کہ وہ اپنے گھر میں بھی بالکل وعلیحدگی میں ، اور خفیہ جگہ پر عبادت و ریاضت کریں، اللہ تو نیتوں کے بھید جانتا ہے، اس لیے نماز سے پہلے بھی ہم نیت کرتے ہیں، جبکہ عربی سنت نہیں کرتے کہ اللہ سنت جانتا ہے، اللہ ہمیں اور حکمرانوں کو ریا کاری سے بچائے ، عبوری حکومت میں کونسی تبدیلی آگئی ہے، جسٹس عسکری صاحب نے اپنے پروٹوکول میں ایک گاڑی کی کمی نہیں کی نہ ہی وزیر اعظم نے کوئی ٹکے کا کام کیا ہے۔


ای پیپر