تم جس سے ملو آج اسے عید مبارک
15 جون 2018 2018-06-15

ایسے ہی دن تھے یعنی عام انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا ، ایسے ایام میں امیدواران انتخابات اپنے حلقوں کا ” طواف “ کرتے نظر آتے ہیں ۔ان امید واروں کو اپنے حلقے کی غمی خوشی انہی ایام میں یاد آتی ہے۔حلقے میں پرانے مرنے والوں کی فاتحہ پڑھنے کے لئے بھی ممبران باقاعدہ وقت نکال لیتے ہیں۔ گاﺅں کے ایسے ہی ایک اکٹھ کو دیکھ کر ایک امیدوار نے سا تھیوں سے پوچھا تو پتہ چلا علاقے کے ایک کاشتکار احمدبخش کے ہاں چند روز قبل فوتیدگی ہوئی ہے ۔امید وار اپنے چند ساتھیوں سمیت اسی اکٹھ میں جا پہنچا اور جاتے ہی ہاتھ فاتحہ کے لئے بلند کر دئےے۔ آمین کے بعد مرنے والے کی خوبیاں بیان کرنے لگے: ” مرحوم بہت اچھا آدمی تھا، بہت ہی بھلا مانس اور بیبا بندہ تھا ،کافی عرصہ پہلے ملاقات ہوئی تھی“

ابھی بات جاری تھی کہ کسی نے آواز لگائی : ” چودھری صاحب ! کیابات کر رہے ہیں ،مرحومہ خدا بخش کی پھوپھی تھی جسے مرے ہوئے پندرہ روز ہو چکے ہیں۔“ مت پوچھئے امیدوار صاحب کی اس وقت کیا حالت ہوئی،وہ فوراََ ہی ساتھیوں سمیت رفو چکر ہوگئے۔

اِن دنوں سارے اسمبلیوں کے امید وار،اپنے اپنے حلقوں میں ووٹروں کو عزت دیتے ہوئے ،کارنر میٹنگوں میں مصروف ہیں۔ اور تو اور کسی کی بکری یا بھینس بھی مرگئی ہو تو اس کے افسوس کے لئے امیدوار ووٹرز کے ڈیرے پرپہنچ رہے ہیں ۔ ہر کوئی علاقے کے عوام سے اپنی محبت جتلارہا ہے۔ غریب مسکین افراد کے ہاں تو باقاعدہ ” عیدی “ بھجوائی جا رہی ہے ۔کسی کو بیٹی کا جہیز بھجوایا جاتا ہے تو کسی کو بیٹے کی شادی کی مبارک باد کا( نقدلفافہ) دیا جارہا ہے ۔ ہر امید وارعلاقے کا ”سپوت “ بنا ہوا ہے ،علاقے کی شان ، آن اور آبرو بن چکا ہے۔ وہ ہر غریب سے غریب کو بھی گلے لگا کر ملتا ہے ،اور اسے کہتا ہے کہ : ” میں آپ کا بھائی ہوں ، آپ کی قوم میں سے ہوں ، اب قوم کی لاج آپ نے رکھنی ہے، ووٹ حسبِ روایت مجھے دینا ہے ۔نشان یاد رکھیں ۔“

بعض علاقوں سے تو ان امیدواروں کا ٹماٹروں اور جوتوں سے بھی استقبال ہوا ہے ۔ کہیں نعرے بازی بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ لوگ بجلی پانی اور گیس کو ترسے ہوئے ہیں ،ظاہر ہے ہر علاقے میں ترقی کے کام نہیں ہوئے،کئی علاقوں کی حالت بے حد نا گفتہ بہ ہے۔ عوام امید واروں کو جوتے نہ دکھائیںاور ان کے خلاف نعرے بازی نہ کریں تو اور کیا کریں ؟

یہ وہ انتخابی مخلوق ہے جو صرف انہی ایام میں ان کچی پکی آبادیوں میں نظر آتی ہے۔یہ امید وار ایک بار پھر ان غریب لوگوں کو سبز خواب دکھا رہے ہیں ،کسی کو نوکری کا جھانسہ دیا جارہا ہے، کسی کو تبادلے کا لارا لگایا جارہا ہے،بعض امید وار سے اپنے گلی محلے کے مسائل مثلاََ گلی ،سڑک ،سکول بنانے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پر دکھائی دینے والے سٹار قسم کے سابق وزیر ،مشیر ، بھی اپنے ، اپنے علاقے میں مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ کل ایک وٹس اَپ پر ایک شخص نے ہمیں اپنے علاقے کا ایک ویڈیو کلپ ارسال کیا ہے جس میں کسی فیضو موچی کی اپنے امیدوار سے گفتگودکھائی گئی ہے۔فیضو اپنے علاقے کے سابق وزیر سے الجھ رہاہے،اور کسی حد تک امید وار کو ذلیل کرنے کی کوشش کر تا نظر آتا ہے۔

” چودھری صاحب! اب تو ہر امید وار کو ہم سے ہمدردی یاد آگئی ہے ۔ سارا عرصہ تو بس آپ لوگ صرف ٹی وی سکرینوں پر ہی نظر آتے رہے ہو،اب سب کو عوام کا خیال آگیا ہے ، اصل میں ہم عوام میں غیرت ہی نہیں ہے ،ہم سب پھر آپ کے جھانسے اور باتوں میں آجاتے ہیں۔ اس بار ہم آپ کے بریانی کے ڈبے اور ”کلچے نان کے ناشتے “آپ کے منہ پر مار دیں گے ۔آپ کو تو اپنی پارٹی بھی ٹکٹ نہیں دے رہی ۔عوام کے لئے آپ نے کیا کیا ہے ۔اس علاقے میں کالج تک تو آپ نے بننے نہیں دیا کہیں عوام پڑھ لکھ کر آپ کے مقابلے میں نہ آجائیں ،یا آپ سے اپنے حقوق کا نہ پوچھ لیں ۔وغیرہ وغیرہ۔“

یہ ساری باتین سن کر ہمیں ہمارے آبائی علاقے کے چودھری نثار علی خان یا د آگئے ہیں ،ان کا بھی یہی حال ہے ،ان کا ایک غیر مشروط حمایتی کہتا ہے کچھ بھی ہے ،ہمیں اپنے راجپوت بھائی کو اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے،بھلے مسلم لیگ نے اسے ٹکٹ نہیں دی ،وہ آزاد کھڑاہے اور ہمیشہ کی طرح انشاءاللہ اس بار بھی اپنے مد مقابل امید واروں کو ہرا ئے گا ۔ یہ تو خیر علاقائی سیاست کی بات ہے اور اس طرح کی باتیں اب ہر حلقے میں ہو رہی ہیں، مگر جہاں تک چودھری نثار کا تعلق ہے ،چودھری صاحب کو آزاد کھڑا ہونے کی بجائے پی ٹی آئی میں شامل ہو جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس بار پہلے جیسے حالات نہیں ،اور ان کی آبائی سیٹ کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ چودھری نثار علی ایک شفاف اور محب وطن سیاست دان ہیں مگر اب اُن کی باتوں کا مذاق اڑایا جانے لگا ہے اور ان کی پریس کانفرنسیں اور بیانات ،ڈان لیکس سے لے کر ،اگلے روز کے بیان تک، محض ایک ” دھمکی “ بن کر رہ گئے ہیں ۔اگلے روز بھی جب انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تو چودھری صاحب نے بیان داغا ہے کہ وہ منہ کھول دیں تو شریف کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں ۔ آج انہوں نے پرویز رشید کے بارے میںبھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔چودھری صاحب آپ کو بہت پہلے اگر آپ کے پاس کچھ ہے تو اسے قوم کے سامنے رکھنا چاہئے تھا،کب آپ ان رازوں سے پردہ اٹھائیں گے؟ آپ کے پاس تو ایان علی ،ڈاکٹر عاصم سے لے کر ڈان لیکس اور پانامہ کے علاوہ شریف خاندان کے بارے میں بھی اہم انکشافات ہونگے ۔۔ اگر ایسا کچھ ہے تو ایک پریس کانفرنس ایسی کر ڈالیں جس میں واقعتاکوئی انکشاف بھی ہو۔ آخراس کا وقت کب آئے گا ۔اپنی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکے جانے سے قبل ہی کچھ کہہ ڈالیں ۔ ورنہ یہ عید آپ کے لئے کوئی خوشی نہیں لائے گی۔ عید اب کے دبے پاﺅں نہیں گزرے گی کچھ نہ کچھ واقعات بھی ساتھ لائے گی ۔ہم یہ سطریں لکھ رہے تھے کہ باہر ڈھول کی آواز آنے لگی ہے۔لگتا ہے یہ سحری میں روزہ داروں کو نیند سے بیدار کرنے والا ڈھولی ہے ۔ ہم نے باہر جا کر اسے عید سے قبل ہی عید دیتے ہوئے ایک شعر بھی اس کی نذر کر دیا ہے قارئین اسے اپنے ساتھ بھی منسوب کر سکتے ہیں ۔ بھلے عید کل ہو یا پرسوں۔

اپنا تو کسی طور سے کٹ جائے گا یہ دن

تم جس سے ملو آج اسے عید مبارک


ای پیپر