آسمان پر بننے والے رشتے زمین پر بکنے لگے ،میرج بیور و،ہولناک انکشافات
15 جولائی 2020 (18:55) 2020-07-15

بھلے وقتوں میں کسی بھی بچی اور بچے کا رشتہ کروانے کیلئے آج کے دور کی طرح کمرشل ازم نہیں ہوتا تھا گھر کا بڑا یا خاندان کا کوئی بڑا بخوبی یہ کام انجام دیتا تھا اور کسی کو جرآت نہیں ہو تی تھی کہ اف بھی کرے مکانوں کی چھتوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ دل بھی جڑے ہوتے تھے کچے مکانوں میں رہنے والوں کے دل پکے ہوتے تھے جبکہ آج مکان پکے ہیں لیکن دل کچے ہیں جن میں نفرتیں اور کدورتیں بھری ہیں جب سے ہر کام میں جدت آئی ہے خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے ہیں پہلے وقتوں میں کسی بچی کوہونے والے سسرال دیکھنے جاتے تو پوچھتے تھے کہ بچی قرآن پڑھی ہے جواب ہاں میں ہوتا تھا اور مہمان بہت خوش ہوتے تھے آج کوئی نہیں پوچھتا کہ بچی قرآن پڑھی ہے آج پوچھا جاتا ہے کہ بھی نے کونسی ڈگری لی ہے اس کے باوجود بچیوں کے رشتے کرنا اور کروانا بہت مشکل مرحلہ بن گیا ہے اچھی بھلی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی ہیں اور والدین ان کے ہاتھ پیلے کرنے کی خواہش لئے کئی بار قبر میں اتر جاتے ہیں کئی لڑکیوں کے سروں میں سفیدی آ جاتی ہے اچھے رشتے نہ ملنے کی وجہ سے جبکہ متعدد سٹینڈرکے چکر میں بوڑھی ہو جاتی ہیں اب وہ وقت بھی گیا کہ رشتہ خاندان میں ہی کرنا ہے اب تو خاص کر لڑکی والے کوشش کرتے ہیں کہ جہاں اچھا لڑکا ملے شادی کر دی جائے، جدید دور میں رشتے پیسے کی ہوس کے سامنے ماند پڑگئے ہیں، وطن کی زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں صدیوں سے لوگوں کا رہن سہن ایک خاندانی نظام کے تحت برادری سسٹم سے منسلک ہے حتکہ گھر کاسار نظام بڑوں کے زریعے چل رہا ہے گھر کا ایک بڑا ،بزرگ یا سربراہ ہوتا تھا رشتے ناطے کرنے کا اختیار بھی بزرگوں کی دسترس میں ہوتا تھا،نانیوں،دادیوں کی رائے بھی حتمی جانی جاتی تھی آج بھی ہے،ماضی میں لوگ اپنے خاندان میں اپنے بچوں کی شادیاں کرتے تھے ،لڑکی یا لڑکے کے سسرال اس کے اپنے ہوتے تھے ،لڑکی کا سسر اس کا ماما ،چاچا ،تایا وغیرہ ہوتا تھا۔ ساس ممانی ،پھوپھی یا خالہ ہوتی تھی اس طرح لڑکے اور لڑکی کا بھی اپنے سسر اور ساس سے کوئی نہ کوئی قریبی رشتہ ہوتا تھا جس سے رشتوں کا تقدس قائم رہتاتھا ،لڑکی کی طرف سے کوئی بات ہوتی تو بڑے رشتوں کی لاج رکھنے کی خاطر کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے تھے ، اس طرح خاندان میں آنے والی دراڑ کا راستہ روک لیا جاتا تھا،اسی طرح اگر لڑکے کی طرف سے کوئی نامناسب رویہ سامنے آتا تو خاندان کے بڑے بیٹھ کر اسے حل کرنے میں دیر نہ لگاتے مگر حالات کی تبدیلی نے نیا رخ اختیار کیا، رشتے خاندان سے باہر کرنا ایک رواج بن گیاہے ،رویوں کی بنا پر رشتے خاندان سے باہر کرنا بھی مجبوری بن گیا اس طرح خاندانی سسٹم جو صدیوں سے ایک زنجیر کی مانند ہوتاتھا بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے ،لڑکی اپنے میکے والوں کو ترجیح دیتی ہے لڑکا اپنے خاندان کی بات کرتا ہے یوں خاندانی نظام قائم نہ رہا،رشتہ کی تلاش ایسا مسئلہ بن کر رہ گیاہے جو بیٹی کے پیدا ہوتے ہی والدین کو غمگین کر دیتا ہے، عرب ممالک کی جہالت کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے کہ وہ لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا کرتے تھے، اب وہ دور نہیں رہا لیکن جوان بیٹیوںکے والدین اور سرپرست آئے روز کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے زمین میں ہی گڑھے چلے جاتے ہیں،آج اگر کوئی لڑکا کسی جگہ پر صرف بیس ہزار پر ملازم ہو اور اگر آپ اُس کی والدہ سے صرف یہ پوچھ لیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے کے لئے کیسی بہوچاہیے توجواب سن کر پائوں تلے سے زمین نکل جاتی ہے اور جواب ملتا ہے ایسی لڑکی چاہیے جس کا قدلمبا ،رنگ گورا ،تعلیم اچھی ہوے ،والد صاحبِ حیثیت ہو وغیرہ وغیر ہ ،ڈیمانڈ کرتے وقت لڑکے کی ماں یہ نہیں سوچتی کہ آخر ان کے گھر میں بھی لڑکی ہے اور جب اپنے اوپریہ بات آئے تو تب وہ کیا کریں گے ان ساری باتوں کے باوجود اپنا لڑکا پاویں انھا،لولا، لنگڑا بھی ہوتو اسے چاند کا ٹکڑا کہا جائے گا، لڑکیوں کا قد عام طور پر چھوٹا ہی ہوتا ہے،اچھی تعلیم کا حصول اب ہر کسی کے لئے ممکن نہیںمگراسکے باوجود تمام والدین اپنی اولاد کو اچھی سے اچھی تعلیم دلوانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جہاں تک بات فیشن کی ہے تو فیشن اگر کسی اور کی بچی کرتی ہو تو وہ بے غیرتی ہوتی ہے اور اگر اپنی بچی کرے تو خوبصورتی کہلاتی ہے،اپنا بیٹا جیسا بھی ہو بہو فرشتہ چاہئے ،بلا وجہ کی شرائط کئی باررشتوں میں بگاڑپیدا کرتی ہیں،ہمارے معاشرے کے خودساختہ معیارزمانے کو زمانہ جہالت میں پھینک دیتے ہیں اسی لئے تو آج ہم ڈیمانڈزکے نام پرسودی بازی کرتی ہیںجبکہ لڑکی اور لڑکے والے بے جافرمائشوں کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ظلم کرتے ہیں،دیا بھر میں کالے رنگ کواہمیت نہیں دی جاتی جبکہ گورا رنگ ہو اور کرتوت کوئی بھی نہ ہو توایسی لڑکی اور لڑکے کوترجیح دی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کالے رنگ سے نفرت امریکی گوروں کو تھی اب وہ بھی لائن پر آ گئے ہیں اور اس نفرت کو آہستہ آہستہ کم کرتے چلے جارہے ہیں۔مگر ایشیائی ملکوں خصوصا پاکستان اور بھرت میںابھی تک یہ جاہلیت قائم ہے، بلاوجہ کے نزاکتوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ والدین پر دبائو بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر جلد بازی میں ایسا فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے جوبالکل بھی مناسب نہیں ہوتا،رشتوں کی تلاش کے لئے لڑکی کے ماں باپ کی نیندیں اڑی ہوتی ہیں،معاشرے میں رشتوں کا خلا آیا تو اسے پر کرنے کے لیے کاروباری ذہن کے لوگ میرج بیورو کے تصور کے ساتھ سامنے جھک گئے جہاں ایسا دھوکہ دہی کا بازارگرم ہوتا ہے کہ کانوں کوہاتھ لگانے کو دی کرتا ہے رشتے کروانے والیوں سے لے کر ہر میرج بیورو نے اپنی حیثیت کے مطابق رجسٹریشن فیس رکھی ہوئی ہوتی ہے،رشتے کے امیدواروں سے رجسٹریش فیس وصول کی جاتی ہے،یہ میرج بیوروز اخبارات میں بھی اشتہارات شائع کراتے ہیں جن میں لڑکے اور لڑکے کے سٹیٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،جیسا کہ لڑکی عمر بائیس سال امریکن نیشنیلٹی ہولڈر،رنگ گورا،قد چھ فٹ،فیملی بھی بیرونِ ملک رہتی ہے،ساتھ یہ بھی لکھا ہوگاکہ ایسے لڑکے کو ترجیح دی جائے گی جوبیرونِ ملک شفٹ ہوسکے اس طرح کے اشتہارات کو دیکھ کرسینکڑوں لوگ میرج بیورو کی فیس اداکرتے ہیںاور سہانے سپنے آنکھوں میں بسائے جواب کا انتظار کرنے لگتے ہیں،کچھ دن بعد جواب موصول ہو گا کہ آپ ان لوگوں کو پسند نہیں آئے، ظاہر ی طور پر ان مسائل کا کوئی حل دیکھائی نہیں دیتا کیونکہ جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے کچھ بدل نہیں سکتا پھر بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی رشتے طرے کرتے وقت لڑکے والے ایسی شرائط رکھ دیتے ہیں کہ لڑکی والے سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں،مثلا ٓجہیز میں کیا کیا دو گے، لڑکے اور لڑکی کو صرف دولہا دلہن کا کردار نبھانا ہوتا ہے۔ لڑکی رشتے سے انکار کرنے کا سوچے بھی تو اسے طرح طرح سے دھمکایا جاتا ہے،ہمارے معاشرے میں یہ عام رواج ہے کہ کبھی غلطی سے کوئی لو میرج کر بھی لے تو ساری عمر عدالتوں میں پیشیاں بھگتے ہی گزر جاتی ہے،ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پسند کو ناقابل معاف عمل سمجھا جاتا ہے اس کے بدلے لڑکا چاہے جو مرضی گل کھلاتا پھرے، ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پسند کے اظہار کو والدین اور بھائی اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں، جس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں، قانون کے مطابق ریاست پاکستان شہری کو کورٹ میرج کی اجازت دیتی ہے، وہ ایک الگ بات ہے کہ اس عمل کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے،مگر کورٹ میرج ایک لیگل طریقہ کار ہے جسے کسی صورت غلط نہیں کہا جا سکتا اور ہمارے معاشرے میں شادی پر آنے والے اخراجات کو دیکھا جائے تو بھی کورٹ میرج انتہاء سستی شادی ہے،میرا ہز گر مقصد نہیں کہ کورٹ میرج کو پروان چڑھایا جائے کسی مجبوری کی بات کی گئی ضرورت اس امر کی ہے کہ آج بھی خاندانوں کو ایک ہی ویہڑے میں سما لیا جائے تو نوے فیصد مسائل ہو سکتے ہیں ۔

٭٭٭


ای پیپر