شاہی قلعہ ،،،دولت خانہ خاص وعام
15 جولائی 2020 (18:52) 2020-07-15

محمد احسن عارف

قارئین کرام! ہم نے مغلیہ دور کے عظیم شاہکار ’’ شاہی قلعہ‘‘ لاہور کی تاریخ کا سلسلہ گزشتہ شمارے میں (دولت خانہ خاص وعام) اکبری محل پر ختم کیا تھا جو آج وہیں سے شروع اور آپ کی نظر ہے۔

(دولت خانہ خاص وعام) اکبری محل

دیوان عام میں سے ایک زینہ جھروکہ درشن میں جاتا ہے۔ اس جھروکے کے پیچھے اکبری عہد کے دولت خانہ خاص وعام کی عمارت ہے۔ یہ ایک دو منزلہ عمارت چار گوشہ عمارت، دولت خانہ خاص وعام، اکبری محل کے نام سے مشہور ہے جو کہ اکبر کے حکم پر 1687ء کو تعمیر ہونا شروع ہوئی اور 1617-18ء میں عہد جہانگیری میں پایہ تکمیل کو پہنچی، اس پر 7لاکھ روپیہ خرچ ہوا، وسیع علاقے پر مشتمل یہ محل 116 کمروں پر مشتمل تھا جس کا کافی حصہ بالکل ختم ہو چکا ہے، صرف بنیادوں کے آثار باقی ہیں۔ اس وقت جو حصہ بچا ہوا ہے اس میں دولت خانہ خاص، جھروکہ اور کچھ رہائشی کمرے ہیں۔ دولت خانہ چار کمروں پر مشتمل ہے جن میں ایک مستطیل، ایک ہشت پہلو اور 2 شش پہلو ہیں جبکہ ان کی شمال اور مغربی جانب برآمدے ہیں، 2ہرے سنگ مرمر کے ستون ہیں جبکہ دیواروں اور چھتوں کو چونے کی رنگین گلکاری اور منقبت کاری سے سجایا گیا ہے۔ اس دولت خانے کے جنوبی جانب جھروکہ ہے جو سنگ مرمر سے تعمیرکردہ ہے۔ اس میں بیٹھ کر بادشاہ لوگوں کو درشن دیا کرتا تھا۔ اس محل کا مشرقی حصہ ابھی تک محفوظ ہے۔

کھڑک سنگھ کا محل

دولت خانہ خاص وعام کی مشرقی جانب اور احاطہ جہانگیری کے جنوب مشرقی جانب ایک 2منزلہ عمارت ہے۔ اس عمارت کا زیریں حصہ عہد اکبری کا ہے۔ اومر والی عمارت راجہ رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ کے لیے بنوائی تھی، اسی لیے یہ کھڑک سنگھ کی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔ کھڑک سنگھ کا یہ محل 8کمروں اور ایک بڑے ہال پر مشتمل تھا جس کی چھت لکڑی اور دیواروں پر چونے کا پلستر کیا گیا تھا جو اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس حویلی کی نچلی منزل دراصل عہد اکبری کے دولت خانہ خاص وعام کا ایک حصہ ہے، اس میں محکمہ آثار قدیمہ کی آج کل خوبصورت لائبریری ہے جو تقریباً 15ہزار کتابوں پر مشتمل ہے۔

مسجدی یا مستی دروازہ

جہانگیر کی والدہ مریم زمانی نے 1614ء کو قلعہ کے مشرقی دروازے کے باہر ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کروائی جو اسی کے نام سے موسوم ہوئی، قلعے کا یہ دروازہ مسجد کے قریب ہونے کی وجہ سے مسجد دروازہ کہلایا جو بعد میں بگڑی کر مستی دروازہ بن گیا۔ یہ دروازہ قلعہ کی مشرقی دیوار کے وسط میں واقع ہے جو ایک مضبوط اور پائیدار دروازہ ہے جو اپنی خوبصورتی اور جاہ وجلال بکھیرے عہداکبری کے عظیم فنِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دروازہ 1566ء میں تعمیر ہوا جس کے دونوں جانب مثمن برج ہیں اور مدافعت کے لیے دندانے دار فصیل ہے جن میں مستطیل نُما سوراخ ہیں۔ اس قسم کی سوراخ دار فصیل قلعے کے کسی اور حصے میں نہیں ملتی، اس دروازے کا اندرونی حصہ گنبد نُما ہے جن کے دونوں جانب بڑے بڑے 2منزلہ کمرے ہیں۔ یہ کمرے محافظوں کے لیے مخصوص تھے۔ اس دروازے کے اندرونی جانب شمال اور بجانب جنوب عہداکبری کی عمارات منسلک تھیں جو اب ختم ہو چکی ہیں اور اب صرف ان کی بنیادیں ہی باقی ہیں۔

احاطہ جہانگیری

اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر (1615-1627ء) نے عنان حکومت سنبھالا تو اس کے خلاف بے شمار شورشیں اُٹھ کھڑی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے بیٹے خسرو نے باپ کے خلاف بغاوت کردی اور قلعہ لاہور کا محاصرہ کرلیا مگر صوبے دار لاہور دلاور خان نے اس کی ایک نہ چلنے دی تو اس نے راہ فرار اختیار کی۔

دریں اثناء خود اپنے 700 ساتھیوں کے ساتھ دریائے چناب کے قریب پکڑا گیا۔ اس دوران جہانگیر لاہور آیا اور تقریباً ایک سال تک یہیں شاہی قلعے میں قیام کیا اور اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شاہی قلعہ لاہور میں نہایت عمدہ عمارت تعمیر کروائیں اور ساتھ ساتھ ان عمارتوں کی تکمیل بھی کروائی جن کی بنیادیں اس کے باپ اکبر نے رکھی تھی۔

دیوان عام کی شمالی جانب ایک وسیع اور خوبصورت سبزہ زار ہے۔ مغلیہ طرز کا یہ باغ برطانوی دورحکومت میں ختم کردیا گیا اور یہاں ٹینس کھیلنے کے لیے جگہ بنا دی گئی جسے بعد میں دوبارہ اصل حالت میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی لمبائی 123 میٹر اور چوڑائی 82 میٹر ہے۔ باغ کی روشیں چھوٹی اینٹ کی بنی ہوئی ہیں۔ یہ روشیں سبزہ زار کی مختلف حصوں میں تقسیم کیے ہوئے ہیں، جسے چہارباغ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس سبزہ زار کے وسط میں مربع شکل کا حوض ہے جس میں 32 فوارے لگے ہیں، حوض کے درمیان میں سنگ مرمر کا چبوترہ (مہتالی) اور مشرقاً غرباً راہداری ہے۔ اس سبزہ زار کے شمال میں خواب گاہ جہانگیری جبکہ مشرق اور مغرب کی جانب دو ایوان سنگ سرخ ہیں۔ ان ایوانوں کے اکثر کمروں کی تقسیم اس طرح ہے کہ ایک ایک کمرے کے سامنے ایک ایک برآمدہ ہے جو سنگ سرخ کے تراشے ہوئے ستونوں، موروں اور ہاتھیوں کے خوبصورت مجسموں سے مزین ہیں۔ ان کمروں میں غلام اور خواجہ سرا کھڑے ہوتے تھے۔

خوابگاہ جہانگیری وعجائب گھر

اکبری محل کے شمال جانب ایک بہت بڑی عمارت ہے جسے خواب گاہ جہانگیری کہتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں یہاں پر جہانگیر بادشاہ آرام کرتا تھا۔ یہ عمارت 2چھوٹے کمروں اور ایک درمیانی بڑے ہال پر مشتمل ہے جبکہ سامنے جنوب کی طرف برآمدہ ہے۔ یہ عمارت 46میٹر لمبی اور 18میٹر چوڑی ہے۔ اس عمارت کا اندرونی حصہ پچی کاری، غالب کاری، منبت کاری اور جیومیٹریکل نقش ونگار سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس عمارت کا ایک میں دروازہ ہے جو درمیانی ہال سے برآمدے میں کھلتا ہے۔ آج کل اس عمارت کو ایک چھوٹے سے عجائب گھر میں تبدیل کر کے مغل آرٹ گیلری کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں مغل بادشاہوں کے سکے۔ کتب، قلمی مخطوطات، بادشاہوں اور کنیزوں کی تصاویر اور مختلف خطوط، مچلکے، خط طغرا، خطِ نسخ اور خطِ کوفی وغیرہ کی نمائش کی گئی ہے۔ اس عجائب گھر کے مرکزی ہال میں تاج محل کا ماڈل رکھا ہوا جو کہ مکمل طور پر ہاتھی دانت کا بنا ہوا ہے اور اپنی خوبصورتی، نفاست اور عمدگی کے لحاظ سے بے حد جاذب نظر ہے۔

سرحدیاں

خواب گاہ جہانگیری کے مشرقی اور مغربی جانب 2سرحدیاں تھیں جن میں اس وقت مشرقی سرحدی باقی ہے۔ یہ سرحدی ایک کمان دار چھت والا (برج) چھوٹا سا کمرہ ہے جو جہانگیری دور کی تعمیر ہے۔ اس کی مشرقی جانب عہد مغلیہ کی عمارات کو انگریزی دور میں چرچ کی حیثیت حاصل تھی جو بعد میں ختم کردی گئی۔ اس عمارت سے ایک زینہ منزل زیریں طرف جاتا ہے جہاں آج کل لیبارٹری ہے۔ اس سرحدی کے سامنے ایک چھوٹا سا حوض ہے جس میں فوارہ لگا ہوا ہے۔ اس عمارت کے 3دروازے اور 2چھتری نُما گنبدیاں ہیں۔ درمیان میں کمان دار چھت اور چاروں طرف چھجہ ہے۔ یہ فنِ مصوری کے مختلف نمونوں میں سے مزین تھی جن کے نقوش اب تقریباً مٹ چکے ہیں۔

زنانہ شاہی حمام

احاطہ جہانگیری کے جنوب مغربی کونے پر کمروں کی ایک بڑی قطار ہے جن کے آخر میں شمال کی جانب ایک خوبصورت کمرہ ہے جو شاہی حمام کے نام سے موسوم ہے جس کا تعلق عہد اکبری سے ہے۔ اس حمام میں خوبصورت مصوری کی گئی ہے جس میں اکثر خواتین اور پریوں کی تصویریں ہیں۔ اس کمرے کے عین وسط میں ایک چھوٹا سا حوض ہے جس میں ایک فوارہ لگا ہوا تھا۔

محل رانی جنداں

احاطہ جہانگیری کے جنوب مغربی طرف ایک بلند وبالا عمارت رانی جنداں کے محل کے نام سے مشہور ہے۔ رانی جنداں راجہ رنجیت سنگھ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیوی تھی۔ راجہ نے اس کے لیے مغل بادشاہ جہانگیری کی تعمیرکردہ عمارت کے اوپر ایک اور منزل تعمیر کروائی اور اس عمارت کو اپنی بیوی کا محل قرار دیا۔ کافی عرصہ تک یہ عمارت رانی جنداں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ عجائب گھر، آرمری گیلری اور اس عمارت کا نچلا حصہ جو کہ عہد جہانگیری کی تعمیر ہے، مختلف کمروں پر مشتمل ہے۔ اس کا مشرقی حصہ عہداکبری کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس وقت یہ پوری عمارت محکمہ آثار قدیمہ نے عجائب گھر میں تبدیل کررکھی ہے جسے آرمری گیلری کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیلری 4کمروں پر مشتمل ہے جو کہ سکھ دورِحکومت میں استعمال ہونے والے اسلحہ جات کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ اس گیلری کے ایک چھوٹے سے کمرے میں مختلف سکھ سرداروں کی تصاویر، رنجیت سنگھ کی بیوی کے سنگ مرمر کے ہاتھ وغیرہ نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جب کہ اس کے ساتھ بڑے ہال میں پستول، تلواریں، توپیں، ڈھالیں، تیرکمان، لوہے کے گولے، فوجی سازوسامان اور بینڈباجے وغیرہ کی نمائش کی گئی ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر