جب شیخ مجیب الرحمن نے منعم خان کو کہا ،،،خود مختاری کا اعلان کریں
15 جولائی 2020 (18:46) 2020-07-15

فروری 1969ء کو جب اس کیس کا ملزم سارجنٹ ظہورالحق ڈھاکہ میں فوجی حراست سے فرار ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو گیا تو مشرقی پاکستان میں زبردست ہنگامے شروع ہو گئے۔ ان ہنگاموں کی وجہ سے ایوب خان کی حکومت کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی۔ ایوب خان کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ ایوب خان نے امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات، بھٹو کی ایوب حکومت کے خلاف تحریک کی وجہ سے گول میز کانفرنس کے انعقاد کا بندوبست کیا۔ مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت نے شیخ مجیب کی رہائی اور گول میز کانفرنس میں شرکت کا مطالبہ کردیا۔ مغربی پاکستان کے چند رہنمائوں نے بھی اس مطالبہ کی تائید کردی۔ ایوب خان کو مطالبہ ماننا پڑا۔ مجیب الرحمان نے پیرول پر رہائی قبول کرلی مگر بعد میں حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مجیب کو غیر مشروط طور پر رہا کردیا گیا اور مجیب الرحمان کا یہ مطالبہ بھی ماننا پڑا کہ راولپنڈی جانے سے پہلے ڈھاکہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس اجتماع میں پانچ لاکھ سے زائد افراد موجود تھے جو زوردار نعرے لگاتے اور اگرتلہ سازش کیس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پورے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی حمایت میں اور اگرتلہ سازش کیس کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ مولانا عبدالحمید خاں بھاشانی نے گھرائو جلائو کے مظاہرے شروع کروا دیئے۔ ایک رات بپھرے ہوئے بنگالیوں نے اگرتلہ کیس کے ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ایس اے رحمان کی رہائش گاہ پر حملہ کردیا جس کی وجہ سے ایوب خان کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچا اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ یہاں یہ تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ بعد میں 26مارچ 1972ء کو اگرتلہ کیس کے ایک اہم ملزم کمانڈر معظم کی بیوی نے ڈھاکہ کے روزنامہ ’’پوربودیش‘‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اگرتلہ سازش ایک حقیقت تھی۔

چودھری محمدعلی، میاں طفیل محمد اور میاں ممتاز دولتانہ ڈھاکہ پہنچ گئے۔ کئی روز کی بحث وتمحیص کے بعد 30اپریل 1967ء کو پانچ جماعتوں کا اشتراک معرض وجود میں آیا۔ یہ پانچ جماعتیں تھیں مسلم لیگ، جماعت اسلامی، نظام اسلام، آٹھ نکاتی عوامی لیگ اور نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ۔ اس کا نام پاکستان تحریک جمہوریت (پی۔ ڈی۔ ایم ’’PDM‘‘) رکھا گیا۔ پی۔ ڈی۔ ایم کا آٹھ نکاتی پروگرام طے کیا گیا۔ یہ کم وبیش وہی پروگرام تھا جسے ہم نے چھ نکات کے مقابلے کے لیے آٹھ نکات کی صورت میں مرتب کیا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ دوسرا اجتماع لاہور میں ہو جس میں جماعت کے باضابطہ عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ سی۔ او۔ پی کے تجربے کی وجہ سے ہم پر واضح ہوا کہ سٹرینگ کمیٹی کی صدارت کی ماہ بہ ماہ منتقلی سے عوام میں اتحاد کا وہ نفسیاتی اثر مرتب نہیں ہوتا جس کا مظاہرہ ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس تنظیم کے باقاعدہ عہدیدار اور ان کا سالانہ انتخاب عمل میں لایا جائے۔

لاہور میں چودھری محمد علی صاحب کی اقامت گاہ پر انتخابات منعقد ہونے سے پہلے میں نے دوبارہ بھٹو صاحب سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ معلوم ہوا کراچی سے لاڑکانہ جاچکے ہیں۔ لاڑکانہ میں ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے کہا وہ ذہنی طور پر بے حد پریشان ہیں۔ ٹیلی فون پر تفصیلات نہیں بتاسکتے۔ اپنا ایک خاص آدمی بھیج رہے ہیں جو مفصل خط پہنچائے گا۔ بھٹو صاحب نے اپنے خط میں تحریر کیا تھا کہ انہیں ڈپٹی کمشنر کی طرف سے اسلحہ واپس کرنے کا نوٹس مل چکا ہے۔ انہیں اور ان کے دوستوں، عزیزوں کے خلاف مقدمات قائم کئے جارہے ہیں، اس لیے ان دنوں ذہنی طور پر اس قدر پریشان ہیں کہ اس قسم کے مذاکرات میں حصہ لینے کے قابل نہیں۔

اس میٹنگ میں عہدیداروں کا انتخاب عمل میں آیا۔ مجھے تنظیم کا صدر، مسٹر محمود علی کو جنرل سیکرٹری، خواجہ خیرالدین اور مولوی فرید احمد کو نائب صدر اور ایم انور کو خزانچی منتخب کیا گیا۔

اس کے بعد میں ڈھاکہ گیا۔ وہاں پی۔ ڈی۔ ایم کی صوبائی تنظیم کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ میری پارٹی کے عبدالسلام خاں صدر منتخب ہوئے اور جماعت اسلامی کے پروفیسر غلام اعظم جنرل سیکرٹری، میں نے نومنتخب صوبائی عہدیداروں اور پی ڈی ایم کے مشرقی پاکستانی رہنمائوں جن میں سابق وزیراعلیٰ مشرقی پاکستان ابوحسین سرکار بھی شامل تھے، کے ہمراہ پورے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ اہم شہروں میں جلسے منعقد کیے۔ مجیب الرحمن کے حامیوں نے کومیلا اور دوسرے مقامات پر مخالفانہ مظاہرے کیے، جلسوں پر پتھرائو کیا اور غنڈہ گردی سے جلسے درہم برہم کرنے کی کوشش کی۔ اس تمام مخالفت کے باوجود یہ جلسے کامیاب رہے اور ہمارے مشرقی پاکستانی بھائیوں کو احساس ہوا کہ مغربی پاکستان کے لوگ بھی ایوب خاں کی آمریت سے اسی طرح پریشان اور مضطرب ہیں جس طرح مغربی پاکستان کے منتخب نمائندوں کو بھی اسی طرح شریک نہیں کیا گیا۔ جس طرح مشرقی پاکستان کے نمائندوں کو محروم رکھا گیا۔ وہاں کے تعلیم یافتہ اور دانشور طبقے کو بھی اس حقیقت کا احساس ہوا کہ مشرقی پاکستان سیاسی اور اقتصادی مفادات کی حفاظت کی تحریک علاقائی بنیاد پر چلانے کی بجائے قومی سطح پر چلائی جائے تو اس کے مفید نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس دورے میں میں نے اکثر وبیشتر بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کیا۔ ہر جگہ وکلاء کی بھاری اکثریت نے پی ڈیم ایم کے پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان دنوں مشرقی پاکستان میں سیاسی اجتماعات پر دفعہ 144 کی پابندیاں عائد نہیں کی گئی تھیں۔ اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تحریک جمہوریت مشرقی پاکستان میں اپنے کام کا آغاز موثر طریقے سے کرسکی۔

خواجہ محمد صفدر مغربی پاکستان کی صوبائی تنظیم کے صدر اور سیّد محمد صابر جعفری، نظام اسلام، جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ دونوں صوبوں میں ضلعی سطح پر ہی نہیں تحصیل اور تھانے کی حد تک بھی تحریک کی شاخیں قائم کی گئیں۔ تحریک کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ تحریک میں شامل کوئی سیاسی جماعت اپنے الگ جلسے منعقد نہیں کرے گی اور تحریک کے رہنما صرف اسی ایک پلیٹ فارم سے لوگوں کو تحریک کے مقاصد سے روشناس کرائیں گے۔

یہ بھی طے کیا گیا کہ تحریک کے فیصلے کثرت رائے سے ہوں گے۔ تحریک کا ایک پرچم بھی منظور ہوا۔ اس سے عملاً تحریک جمہوریت ایک سیاسی تنظیم کی صورت اختیار کر گئی۔ 1967ء سے 1969ء (رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے انعقاد) تک تحریک کے رہنمائوں میں یک دلی اور یک زبانی کی صورت کار فرما رہی۔ تحریک کے قائدین میں چودھری محمد علی، مولانا مودودی، نورالامین، میاں ممتاز دولتانہ، عطاء الرحمن خاں، عبدالسلام خاں، مولوی فرید احمد، پروفیسر غلام اعظم اور خواجہ خیرالدین وغیرہ شامل تھے جو قومی مسائل کو سمجھنے اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے۔ انہیں ایک دوسرے کی سیاسی بصیرت پر کافی حد تک اعتماد تھا۔ اسی وجہ سے تمام مشکلات اور جبروتشدد کی کارروائیوں کے باوجود یہ قیادت متحد رہی اور بالآخر اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوئی۔

مغربی پاکستان میں تحریک جمہوریت کے مرکزی قائدین نے اپنے دوروں کا آغاز کراچی سے کیا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، راولپنڈی، لائلپور، پشاور اور دوسرے مقامات پر تحریک کے زیراہتمام عظیم الشان جلسے منعقد ہوئے۔ ان میں تحریک کے تمام مرکزی قائدین 1956ء کے آئین کی بحالی اور ملک میں اسلامی وجمہوری اقدار کی ترویج کا مطالبہ کرتے رہے۔ حکومت نے بے بس ہو کر مغربی پاکستان کے طول وعرض میں دفعہ 144 نافذ کی۔ مجھے یاد ہے میں سیالکوٹ میں ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہا تھا تو وہاں کے ایک مجسٹریٹ نے میرے سامنے سے لائوڈ سپیکر اُٹھالیا۔ اسی طرح ضلع ہزارہ میں ہمیں جلسے کرنے سے روک دیا گیا۔ ہمارے رُفقاء کا داخلہ بند کردیا گیا۔ اس کے باوجود ہم مکانوں کی چار دیواریوں میں جلسے منعقد کرتے رہے۔

مغربی پاکستان کے تفصیلی دورے کے بعد تحریک کے رہنما مشرقی پاکستان گئے۔ ان میں مولانا مودودی، چودھری محمد علی اور ممتاز دولتانہ شامل تھے۔ ہم نے مشرقی پاکستانی رفقاء کے ہمراہ ڈھاکہ، چٹاگانگ، سلہٹ، جیسور، کھلنا، راج شاہی، دیناج پور، رنگ پور اور دوسرے مقامات کے دورے کیے۔ مشرقی پاکستانی عوام کو ایوبی آمریت کے خلاف منظم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مجیب الرحمن کے چھ نکاتی پروگرام کے خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس فتنے کا سیاسی سطح پر کامیاب مقابلہ کیا۔ مشرقی پاکستان کے طول وعرض میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ سیاسی عمل کی محدود اور ختم کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ حکومت اس بات کا بھی خاص اہتمام کرتی کہ مشرقی پاکستان کی کوئی خبر مغربی پاکستان اور مغربی پاکستان کی خبر مشرقی پاکستان نہ پہنچ سکے۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں کے درمیان مغائرت کی خلیج حائل ہو گئی۔ کمیونسٹ، ہندو اور علاقائی تعصبات کے شکار افراد روزبروز اسے وسیع تر کرتے چلے گئے۔ تحریک جمہوریت نے اسے پاٹنے کی حتی الامکان کوشش کی۔

آگ بھڑک اُٹھی

اس دوران ایوب خان پر دل کا دورہ پڑا۔ ان کی بیماری کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن ایک طرف ملک کے سنجیدہ طبقوں میں یہ سوال بڑی شدت سے اُبھر رہا تھا کہ ایوب خان کے بعد جو خلاء پیدا ہوگا اسے آئین کے تحت کیسے پُر کیا جائے گا، دوسری جانب جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کی مثال سامنے رکھ کر جی ایچ کیو میں اپنے ہم خیال جرنیلوں مثلاً جنرل عبدالحمید، جنرل گل حسن، جنرل پیرزادہ اور جنرل غلام عمر کو اکٹھا کیا۔ وہ سمجھتے تھے ایوب خاں کے بعد کُرسی اقتدار پر متمکن ہونے کا حق انہیں ہی ملنا چاہیے۔ مجھے رانا عبدالحمید مرحوم (ایوب خاں کی کابینہ میں وزیر) بھی رہ چکے تھے اور علی گڑھ میں صدر ایوب خاں کے ساتھ پڑھتے بھی رہے تھے) نے بتایا کہ وہ جب ایوب خاں کی عیادت کے لیے پنڈی گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ جس روز ایوب خاں بیمار ہوئے جنرل یحییٰ خاں نے اپنا بستر ایوان صدر میں لگوا لیا تھا۔ ان کا ارادہ تھا جونہی صدر ایوب کا انتقال ہو، ایوان صدر پر قابض ہو جائیں اور ملک پر مارشل لاء حکومت مسلط کردیں۔

ایوب خاں شفایاب ہو گئے تو ان طالع آزما جرنیلوں نے خود برسراقتدار آنے کی سازشیں شروع کردیں۔ اس کے لیے انہوں نے بعض سیاسی رہنمائوں سے بھی رابطہ قائم کیا اور انہیں اپنا آلہ کار بنالیا۔ ایوب خاں نے جس طرح سیاسی عمل کو ختم کرنے کی کوششیں کیں، غیرملکی قرضوں کے ذریعے معیشت کو تباہ کیا، افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ ملک کی دولت چند خاندانوں میں سمٹ کر رہ گئی، ان حالات میں انہوں نے عشرہ ترقی منا کر عوام کی بیزاری اور تلخی میں اور زیادہ اضافہ کردیا۔ تحریک جمہوریت نے 6اکتوبر 1968ء کو ملک بھر میں یوم جمہوریت منایا کہ 6اکتوبر 1968ء ملک میں جمہوریت کا آخری روز تھا۔ (جاری ہے)


ای پیپر