مشکل فیصلے کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں،وزیراعظم
15 جولائی 2020 (18:09) 2020-07-15

چلاس: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دیامر بھاشاڈیم چلاس اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی تقدیر بدل دے گا، جیسے جیسے ڈیم مکمل ہوگا تجارت کے مواقع بھی بڑھیں گے، مشکل فیصلے کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں،جو قومیں مشکل فیصلے سے کرنے سے کتراتی ہیں، وہ ترقی نہیں کر سکتیں،چین کی ترقی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

وزیر اعظم نے کہا بدقسمتی سے ہم نے ماضی میں قلیل مدتی فیصلے کیے، نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کیے گئے، دریاوں سے بجلی بنانے کے بجائے تیل پر بجلی بنانے کو ترجیح دی گئی، ہماری حکومت آئی تو پاکستان کا خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا، دیامر بھاشا ڈیم ملک کا تیسرا بڑا ڈیم ہو گا، ہم نے ملک میں 10 ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے، کورونا کہ وجہ سے شٹ ڈاون کرنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا، وزیر اعلیٰ کو کہتا ہوں کہ ایس او پیز کے تحت سیاحت کو کھولیں، سیاحت کیلئے ایس او پیز مرتب کیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق چلاس میں وزیراعظم عمران خان نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین واپڈا نے جنون کی حد تک کام کیا، فیصل واوڈا اور علی امین گنڈا پور کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قومیں ترقی اس وقت کرتی ہیں جب آگے کا سوچتی ہیں، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو مشکل فیصلے کرتی ہیں، بڑے فیصلے ہی بڑی قومیں بناتی ہیں، انسانوں کی قدر ،سرمایہ کاری کرنیوالی قومیں ترقی کرتی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب انصاف ہوتا ہے تو قومیں ظلم سے آزادہوجاتی ہیں، قانون کی بالادستی ،تعلیم پر زور دینیوالی قومیں ہمیشہ اوپر گئیں، فیصل واوڈا نے ایسے تقریرکی جیسے الیکشن ہونے لگا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چین ترقی میں تیزی سے آگے جارہاہے، ہماری بدقسمتی رہی کہ ہم نے قلیل مدتی فیصلے کئے ، الیکشن میں ووٹ کے مدنظررکھ کر پراجیکٹس بنائے ، چین نے 30سال کی منصوبہ بندی کررکھی ہے آج سب سے آگے نکل گیا اور 90کی دہائی میں امپورٹڈ فیول پر بجلی بنانے کے فیصلے کئے گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خسارہ بڑھتا جاتا ہے تو روپیہ گرتاجاتا ہے ،ہماری حکومت آئی تو 20ارب ڈالر کاتاریخی خسارہ تھا ، باہر سے تیل امپورٹ کرکے بجلی بنانے سے دباؤ ہماری کرنسی پرپڑا ، باہر سے چیزیں امپورٹ کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، مہنگائی سے غریب آدمی پر اثر پڑتا ہے ، غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے دریاؤں سے بجلی بنانے کے بجائے امپورٹڈ فیول پر انحصار کیا، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دیامر بھاشا ڈیم بنانے جارہے ہیں، چین نے 5ہزار بڑے ڈیم بنا رکھے ہیں، ہمارے پاس صرف دو ڈیم ہیں تیسرا بننے جارہاہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بڑے ڈیم نہ بنا کر ہم نے اپنے لوگوں پر ظلم کیا ، دیامر بھاشاڈیم بنانے کا فیصلہ 40سال پہلے ہوا تھا، پاکستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، وقفے کے بعد نیا ڈیم بنائیں گے، ہم نے مزید ڈیمز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پانی پر بجلی بنانے سے قدرتی ماحول پر اثر نہیں ہوتا، فرنس آئل اور کوئلے سے بجلی بنانے سے گرمی بڑھتی ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے پاکستان متاثر ہوسکتا ہے، جس کے باعث ملک میں 10ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کورونا کی وجہ سے ہونیوالیشٹ ڈاؤن سے بہت نقصان ہوا ، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایس اوپیز کیساتھ سیاحت کھولنے کی تیاری کریں، ایس اوپیز کیساتھ آہستہ آہستہ سیاحت کھول سکتے ہیں ، سیاحت کھولنے کیلئے این سی اوسی کے ذریعے اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ڈیم مکمل ہوگا تجارت کے مواقع بھی بڑھیں گے، گلگت بلتستان اور چلاس کے عوام کیلئے کیڈٹ کالج اہم موقع ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کا بجٹ بڑھے، جو علاقے پیچھے رہے گئے ان پر پیسہ خرچ کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑاصوبہ ہے، بلوچستان بھی بہت پیچھے رہ گیاہیوہاں کی ترقی کیلئے کام کریں گے ، دیامربھاشا ڈیم چلاس اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی زندگیاں بدل دے گا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کو دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم باجوہ بھی موجود تھے۔


ای پیپر