حکومت ،اپوزیشن محاذ کہاں تک جائیگا؟
15 جولائی 2019 (20:28) 2019-07-15

فریقین کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی کی دلچسپی نہیں، ہر کوئی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے

ہمایوں سلیم

جمہوریت میں ایوان سجتے ہیں، ملکی مسائل پر مدبرانہ انداز میں بحث ہوتی، اور مسائل کا حل تلاش کرنے اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسا طرز عمل ملک و قوم کی خوشحالی کا سبب بنتا ہے، عوام میں شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے لیڈرز کی پیروی میں ملکی خوشحالی میں ساجھے دار بن جاتے ہیں۔ وہ ٹیکس دیتے، قانون کا احترام کرتے اور ملک کا خیال بالکل اپنے گھر جیسا رکھتے ہیں۔ جی ہاں، ایسا ہوتا ہے اُن خطوں میں جہاں ایوان سجتے اور مباحث چھڑتے ہیں.... لیکن ہمارے ہاں، ایوان خالی اور پریس ریلیزوں کے لئے کونے کھدرے اور ایئر کنڈیشنڈ ہالز سجتے ہیں، جہاں اپنے سیاسی مخالفین پر ہر طرح کاکیچڑ اچھالنا سیاسی تدبر اور کردار کشی کرنا بہادری اور سیاسی بصیرت سمجھا جاتا ہے، وہاں ہر بات ہوتی ہے، اگر کوئی چیز نظر انداز ہوتی ہے تو وہ ہیں بیچارے عوام۔ جن کی نفسیات کو اس طرح ڈھال دیا گیا ہے کہ وہ جذبات میں ان کے لئے نعرے لگاتے، ایک دوسرے کے لئے غلیظ زبان استعمال کرتے اور آخر کار فاقوں مرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے ایک ایسا ہی ’ایوان‘ سجا تھا جس میں ویڈیو سامنے آئی بلکہ لائی گئی، اس کی تردید ہوئی، وہ مسترد ہوئی، اور اب اس کی صداقت یا جھوٹ کا تعین کرنے کے لئے فرانزک آڈٹ ہو گا۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اس میں عام آدمی کہاں کھڑا ہے، اس واقعہ سے کتنے مسائل حل ہوئے اور ویڈیو ویڈیو کھیلنے والوں کے اس سے کیا اور کیسے مفادات وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی آڈیوز اور ویڈیوز لیک ہوتی رہی ہیں، اُن سے عوام کا کتنا بھلا ہوا.... اور اس وڈیو سے کتنا ہو گا؟ اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ سیاسی پینترا کوئی نیا نہیں ہے، ملکی تاریخ میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے ”خوشگوار حادثات“ ہوتے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دورے حکومت میں احتساب کرنے والے ادارے کے سربراہ سینیٹر سیف الرحمان کی وہ آڈیو کافی مشہور ہوئی جس میں احتساب عدالت کے جج مسلم لیگ ن کے رہنما سیف الرحمان سے مشورہ مانگ رہے ہیں کہ وہ بے نظیر اور زرداری کو کتنی سزا دیں؟ آڈیو میں سیف الرحمان ملک محمد قیوم سے، جو اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے، سے ناراضی سے کہتے ہیں کہ مجھے تم سے لڑائی کرنی ہے، جس کے جواب میں ملک قیوم کہتے ہیں کہ آج آپ کے سارے گلے دور ہو جائیں اور نواز شریف بھی خوش ہو جائیں گے۔ اس آڈیو لیک نے اس وقت کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی اور اس کی وجہ سے آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمات بنانے کا تاثر بھی قائم ہوا تھا۔ اس کے علاوہ نواز شریف کے ہی دوسرے دورے حکومت میں ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں وہ آڈیو چلائی تھی، جس میں سینیٹر سیف الرحمان ان کو حکومت کی حمایت کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں 2014ءکے دھرنے کے دوران پی ٹی آئی رہنما عارف علوی اور پارٹی چیئرمین عمران خان کے درمیان ہونے والی ایک فون کال کی آڈیو سامنے آئی تھی، جس میں نواز شریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے جیسی باتیں تھیں۔ پی ٹی آئی نے پہلے اس آڈیو کو جعلی کہہ کر مسترد کیا اور بعد میں کہا کہ کسی کے فون ٹیپ کرنا اچھی بات نہیں اور یہ غیر قانونی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں پنجاب کے وزیرِ تعلم رانا مشہود کی وڈیو چینل پر چلائی گئی جس میں وہ مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے کی بھی بہت زیادہ انکوائری نہیں ہوئی۔ حالیہ ہفتوں میں نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی بھی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی۔

اب آتے ہیں مریم نواز کی متنازعہ پریس کانفرنس کی طرف جس میں انہوں نے جج ارشد ملک کی خفیہ وڈیو سنوائی۔ مریم نواز کے نزدیک ان کی چال ٹرمپ کارڈ کی حثیت کی حامل تھی،جو ساری گیم کا پانسہ پلٹ سکتی تھی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد، الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا کے مصادق، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے پریس ریلیز کے ذریعے اس کا جواب دے دیا۔ جج محمد ارشد ملک نے رجسٹرار احتساب عدالت کے دستخط سے وضاحتی بیان جاری کیا جس میں فاضل جج نے مریم نواز کی پریس کانفرنس اور اس میں دکھائی جانے والی ویڈیو پر ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران ان کے نمائندوں کی طرف سے بارہا نہ صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جنہیں سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ اگر دباو¿ یا رشوت کی لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمے میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا، انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنا پر نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا۔ جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباو¿ نہیں تھا، مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ویڈیو جعلی، مفروضی اور جھوٹی ہے، اس ویڈیو میں ملوث افراد کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ میں نے مریم صفدر کی پریس کانفرنس اور مجھ سے منسوب ویڈیو دیکھی، اس پریس کانفرنس میں مجھ پر سنگین الزامات لگائے گئے اور میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو میں گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جو فیصلے کیے وہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر کیے ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں کی پریس کانفرنس محض ان کے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

ان تمام حالات کا پس منظر کیا ہے، وہ تو سب جانتے ہیں لیکن ممکنہ پیش منظر کیا ہو سکتا ہے، اس کے بارے کچھ کہا نہیں جا سکتا کیوں کہ یہ سیاست ہے اور سیاست میں کب دوست دشمن اور دشمن دوست بن جائے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہاں! اس سے مستقبل کے سیاسی دنگل کی طرف خفیف سا اشارہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔

بعض سیاسی مبصرین کے مطابق حالات اور بگڑنے والے ہیں، اپوزیشن اس کی تیاری کر رہی ہے، انہوں نے کچھ بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات، تاجر طبقہ، کچھ وکلاءاور میڈیا سے منسلک کچھ شخصیات کو اپنے ساتھ ملا کر آخری جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے کسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہو سکے گا کہ ان کی کوئی چال کام آئے کیونکہ کہ حکومت کے بقول یہ جو مرضی کر لیں کسی کو معافی نہیں ملے گی۔ یہاں تک شنید ہے کہ پی ٹی آئی کی بعض شخصیات بھی گرفتاری کے لئے تیار رہیں۔

علاوہ ازیں اپوزیشن کی رائے یہ ہے کہ حکومت معاشی صلاحیت و مہارت سے بے بہرہ ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ حکومت کے پاس معیشت کو درست سمت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں اس لئے وہ ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے اور الزام تراشی کر رہی ہے۔ جبکہ حکومت کا کہنا یہ ہے کہ پچھلی دونوں حکومتیں خزانہ خالی کر گئی ہیں اس لئے وہ جو قرضہ لیتے ہیں وہ سود کی ادائیگی میں خرچ کر دیتے ہیں۔

جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اس کے رویے سے یوں لگتا ہے کہ احتساب کے علاوہ اس قوم کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، مانا کہ احتساب ہونا چاہئے، کسی کو بھی معافی نہیں ملنی چاہیے۔ لیکن یہ بات ہرگز نظر انداز نہیں کی جانی چاہئے کہ احستاب جیسے معاملات طویل المدتی ہوتے ہیں جن پر مہنیوں بلکہ سالوں بھی لگ جاتے ہیں لیکن عوام کے فوری مسائل نظر انداز کرنے سے دیگر کئی مسائل جنم لے لیتے ہیں، اپوزیشن عوام کو بہکا کر سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

برسر اقتدار آکر چاہیے تو یہ تھا کہ عمران خان اپنے اقتصادی‘ جمہوری‘ سماجی اور تعلیمی وژن کے نفاذ اور لوگوں کی زندگی میں خوش حالی لانے کے لئے محو عمل ہو جاتے۔ خان صاحب سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ صرف حزب اقتدار ہی نہیں حزب اختلاف کو بھی ساتھ لے کر پارلیمنٹ کی پوری دانش و فراست اور قوت کوکام میں لا کر پاکستان میں وہ تبدیلیاں لے کر آئیں گے جن کا وہ دعویٰ اور وعدہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ایساہرگزنہیں ہوا اور وزیر اعظم نے نہ صرف بنفس نفیس بلکہ ان کے وزیروں اور مشیروں نے اپوزیشن پر تیر اندازی اور سابقہ حکمرانوں کے بارے میں الزام تراشی کو اپنا وتیرہ بنا لیا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اور کسی نہیں، نقصان ہو گا تو عوام کا اور پاکستان کا۔ ہمیں ذاتی سطح پر آکر سوچنے اور عمل کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ مضبوط۔ کیونکہ جب ایسا ہو جائے تو پھر حکومتوں کا آنا جانا معمول کی بات ہوتا ہے۔

لیکن جب تیسری دنیا میں جمہوریت کا پودا ابھی تناور شجر نہ بنا ہو تو اسے غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے ہر لمحے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ پاکستان میں جتنے بھی مارشل لاءلگے ان کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہر بار جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا موقع سیاست دانوں کی باہمی چپقلش سے فراہم ہوا، خاکم بدہن لگ اب بھی ایسا ہی رہا ہے۔ ان حالات میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو جمہوریت کی حقیقی قدر پہچان کرنا ہو گی۔ خدانخواستہ کسی باد صر صرکے تھپیڑے سے اگر جمہوریت کا گلستان اجڑ جاتا ہے اور یہاں پھر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے تو جہاں یہ آئین شکنی اور اقوال قائد کی خلاف ورزی ہو گی وہاں یہ ملک و قوم کی بد قسمتی بھی ہو گی۔ اور اس کے ذمہ دار ہوں گے، ویڈیوز پیش کرنے اور ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ جیسے نعرے لگانے والے۔

٭٭٭


ای پیپر