نیب کے بعد اب ایف بی آر کا محاصرہ
15 جولائی 2019 2019-07-15

لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک روز اچانک قاہرہ پہنچے اور مصر کے صدر جمال ناصر سے کہا کہ مجھے ایٹم بم دیدو۔ جمال ناصر نے کہا کہ وہ بہت مہنگا ہوتا ہے۔ جوابا قزافی نے کہا کہ میں جہاز میں دولت کے سوٹ کیس بھر کر آیا ہوں۔بڑی مشکل سے مصری صدر ان کو سمجھا پائے کہ ایٹم بم ایک مکمل ٹیکنالاجی ہوتی ہے۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ بازار سے خرید کر کے آپ اٹھا کر لے جائیں۔ ویسے کرنل قذافی اور عمران خان کا کوئی مقابلہ نہیں اور تشبیہ دینا بھی تقریبا جرم سمجھتا ہوں۔ لیکن بات کو سمجھنے کے لئے لکھ رہا ہوں۔ عمران خان بھی یہ خیال تھا کہ بس وہ حکومت میں آئیں گے تو بیرون ملک بھیجی ہوئی لوٹی ہوئی دولت کی صندوق بھر کر لے آئیں گے۔ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ ایک پیچیدہ اور طویل ہی نہیں بلکہ تقریبا ناممکن ہے۔ملک بھر میں ہر شعبے میں افرا تفری مچی ہوئی ہے۔ماضی کے حکمرانوں کو نیب اور عدلیہ کی مدد سے گھیر تو لیا مگر جس لوٹی ہوئی دولت اور کرپشن کا انہوں نے بیانیہ عوام میں بیچا تھا وہ نہیں نکلوا سکے۔پہلے یہ کہا گیا کہ کرپشن ہوئی ہے، دوسرے مرحلے میں بیرون ملک پیسے بھیجنے اور منی لانڈرنگ کے معاملات آئے۔ معیشت کی ڈرائونی تصویر بنائی گئی، جس نے لوگوں میں خوف وہیجان کی کیفیت طاری کردی۔ اس کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس تقریبا رہن رکھ لیادیا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم کما کے آئی ایم ایف کے لئے ہیں اور زندہ بھی اس کیلئے ہیں۔آئی ایم ایف تو سود خور بنیئے کی طرح ہوتا ہے جس کو سود پر پیسے دینے اور سود کما کر اپنا کاروبار کرنا ہے۔ اس کو اپنی رقم اور سودپیسے چاہئیں۔ اب تان آکر عام صنعتکاروں،تاجروں، دکانداروں، انجینئروں، ڈاکٹروں پر ٹوٹی ہے۔ یعنی بڑے سے لیکر جھوٹے کاروباری تک جو بھی نان فائلر ہوسکتا ہے۔یہ باور کرایا گیا ہے کہ سب نان فائلر حضرات کو فائلر بنانے کا وقت آگیا ہے۔عجیب مسئلہ ہے پہلے سیاستدان یا حکمران چور تھے اب عام صنعتکار، تاجر، دکاندار، انجینئر، ڈاکٹر وغیرہ سب چور ہیں۔ اگر یہ سب چور ہیں تو پھر شریف لوگ کون ہیں؟ پہلے سیاستدانوں اور تاجروں کے پیچھے نیب تھا اب ایف بی آر کو لگا دیا گیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ کراچی میں تاجروں سے وزیراعظم کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعدوہ ہڑتال پر چلے گئے ۔ ہڑتال رکوانے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے دس رکنی ٹیم بنائی تھی جو اس کو روکنے میں ناکام ہوگئی۔پورا پاکستان اب احتجاج اور میدان میں نکلنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ تاجر حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں اور ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔ تاجر کہتے ہیں کہ ٹیکس پہلے بھی دیتے تھے اب بھی دینگے، لیکن شب خوں مارنے یا معیشت کو تباہ کرنے کی شرط منظور نہیں۔ خواہ حکومت کچھ بھی کہے تاجروں کی حالیہ ہڑتال سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے دکانیں بند کرا کے نہیں کی۔آخر عوام سے کی کیا ٹیکس لوگے؟ کتنا ٹیکس لوگے؟ اس کے بدلے عوام کو دے کیا رہے ہو؟پاکستان میں سیلز ٹیکس فیکٹری سے مال نکلنے سے پہلے ہی 17فیصد وصول کر لیا جاتا ہے ۔یہ سیلز نہیں پیشگی ٹیکس ہے یعنی سیل ہونے سے پہلے سیلز ٹیکس۔جو عوام سے صنعتکار وصول کرتا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں سیلز ٹیکس صوبائی معاملہ ہے، وفاقی حکومت وصول نہیں کرتی۔ امریکہ اور کینیڈا وغیرہ میںجب صارفین کوئی چیز خرید تے ہیں تو ان سے اڑھائی سیے8فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میںعوام آئی ایم ایف کی فرمائش پر 17فیصد ادا کرتے ہیں تاکہ اس عالمی ادارے کا سود ادا کیا جا سکے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق سیلز ٹیکس متنازع ہے کیونکہ اس کا بوجھ کم آمدنی والوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ یعنی کم آمدنی والے زیادہ ٹیکس بھریں۔ آئیے ایک نظر ڈالیں کہ ہم کیا کیا ٹیکس ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ آغاز یہاں سے کرتے ہیں کہ جب خام مال سمندر یا ہوائی راستے سے ملک میں اترتاہے تو سیلز ٹیکس کے علاوہ ایکسائز ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے حالانکہ پوری دنیا سے یہ ٹیکس ختم ہو رہا ہے۔ جہاں ہے وہاں صرف صحت سے منسلک چند اشیاء پر ہے۔ انکم ٹیکس ایڈوانس مال کی درآمد کے ساتھ ہی وصول کر لیا جاتا ہے ، پھر اگر درآمد کرنے والے کی آمدنی اس سے کم ہوتو واپس بھی نہیں ہوتا ۔یہ شرط بھی آئی ایم ایف نے رکھی ہے۔ شاید دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا۔ موبائیل فون ہمارے معاشرے میں عام تصرف کا حال ہو گیا ہے۔ موبائل پر رقم لوڈ کراتے ہی30فیصد ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔یعنی اس رقم کا استعمال سے پہلے ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے۔ ٹیلی وژن دیکھیں نہ دیکھیں آپ کے بجلی بل میں ہر ماہ 25روپے لگ کر آتے ہیں۔جو آپ کو بل کے حصے کے طور پر ادا کرنے ہیں۔ آپ کوئی چیز بنائیں، خرید کریں یا بیچیں، سب پر ٹیکس ہے۔ یہ وہ ٹیکس ہے جس کوبلواسطہ یعنی Indirectٹیکس کہا جاتا ہے، پوری دنیا میں یہ نظام رائج ہے کہ جب کوئی بھی Indirectٹیکس ادا کرتا ہے تو سالانہ گوشوارے میں ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسا کوئی نظام نہیں۔ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد سال2018 میں 14 لاکھ تھی۔ اس کے بعد بقول حکومت کے اس تعداد میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔جبکہ ایکٹو ٹیکس دہندگان کی تعداد تقریبا 18 لاکھ ہے۔ 50ہزارکی شرط ان سے وصول کریں جو نان فائلر ہیںجو خود ہی ٹیکس جمع کراکر ہلکان ہوچکے ہیں ان پر یہ مزید بوجھ ڈالاگیا ہے ۔ابھی بازار ویران ہیں۔ سبزی یا فروٹ فروش اور عام دکاندارتک حالیہ ٹیکسوں اور ڈالرکی آڑ میں قیمتوں میںاضافہ کر چکے ہیں، ٹرانسپورٹ کرایوں کو کوئی چیک کرنے والا نہیں۔قیمتیں ایک مرتبہ بڑھتی ہیں تو کبھی بھی نیچے آنے کا نام نہیں لیتی۔

موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ ملکی معیشت کا 73 فیصد غیر رسمی یا انفارمل معیشت ہے جو بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس میں ہولسیل، ریٹیل کاروبار، مینیوفیکچرنگ، سماجی اور ذاتی خدمات، ٹرانسپورٹ اور تعمیرات کا شعبہ شامل ہے۔ ملک کی جی ڈی پی میں پینتیس فیصد ہے۔ آج سے پندرہ سال پہلے پاکستان کاروبار دوست ماحول کے حوالے سے دنیا کے190 ممالک میں 60 نمبر پر تھا۔ لیکن گزشتہ دس سال کے دوران اس میں مشکلاتیں بڑھی ہیں۔ اگر آپ کاروبار دوست ماحول نہیں بناتے، تو کتنے لوگوں کو سرکاری شعبے میں روزگار دیں گے؟ آپ اگر غیر رسمی معیشت کو کلی طور پر ختم کریں گے تو آپ کے پاس کونسی بڑی صنعتیں یا کارپوریشن ہیں جہاں لوگوں کو روزگار ملے گا؟ ہنڈا کمپنی نے ٹیکس کی نئی شرح اور شرائط کے بعد گاڑیاں بنانا بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے اور سوزوکی گاڑیاں بنانے والے بھی ایسا کرنے جارہے ہیں۔لگتا ہے کہ غلط فیصلوں کو واپس نہیں لیا گیاتو صنعتیں چند ماہ میں ہی بند ہوجائیں گی۔غیر ملکی سرمایہ کاری کیا خاک ہوگی؟ ملکی سرمایہ کاری بھی بند ہوگئی ہے۔ صنعتی دماغ پاکستان سے دبئی،امریکہ یا یورپ جا چکے ہیں۔ جو بچے کھچے ہیں ان کو بھی حکومت برداشت نہیں کر رہی۔ آپ اور آپ کی پارٹی اور ٹیم چاہے کچھ بھی کر لے، کتنا عرصہ حکومت میں رہیں گے؟ یا اس عہدے پر رہیں گے؟ دو سال، پانچ سال، دس سال؟ جو ہمیشہ رہیں گے ان کا کیا ہوگا؟ اصل اسٹیک ہولڈر تو وہ ہیں۔


ای پیپر