جج ملک ارشد سے ڈیلی میل کی رپورٹ تک
15 جولائی 2019 2019-07-15

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ ’ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ پاک فوج، حکومت کے ایجنڈے اور منشور کے ساتھ کھڑی ہے‘‘ مگر ایسا پہلی بار نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں تو کئی بار ایسا ہو چکا ہے ۔ ہماری بہادر پاک فوج ملک نے ہر مشکل گھڑی میں اپنا کردار ادا کیا مگر غلطیاں تب ہوئیں جب ٹریک غلط ہوا۔ پرویز مشرف جواب دے دیں کہ غیروں کی جنگ میں جو بلین ڈالر لیے وہ کہاں خرچ گئے،اور ضیا دور میں اوجڑی کیمپ کا سانحہ کیوں ہوا اس کے پیچھے کیا کہانی تھی ۔ اب تبدیلی سرکار نے سپہ سالار قمر جا وید باجوہ کو تمغہ جمہور یت ‘‘ سے نوازنے کا جو اعلان کیا ہے ۔ اپوزیشن کو اس پر معترض نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ سپہ سالار حکومت کے نہیں بلکہ پاکستان کے 22 کروڑ عوا م کے لیڈر ہیں یہ کام پہلے بھی ہو چکا ہے ۔ سپہ سالار کو ایسے اعزازات یا تمغے متاثر نہیں کرتے۔ مگر یہاں تو سیاست جڑی نظر آتی ہے ۔ مریم نواز تو ہمارے کپتان کے بارے میں بار بار کہہ رہی ہیں ’’تم سلیکٹ ہو اور تمیں سلیکٹ ہی کہا جائے گا‘‘۔ ہمیں تو ماضی کی ایسی ساری کہانیاں یاد ہیں ،جب بے نظیر بھٹو نے انیس سو نوے کے انتخاب میں دھاندلی کے بارے میں نام لے کر بتایا کہ اس وقت کے آرمی چیف ملوث ہیں اور بے نظیر بھٹو ادارے کا نام کھل کر لیا کرتیں تھیں ۔بے نظیر بھٹو نے قومی اسمبلی میں ان پانچ درجن ارکان کا نام لے کر بتایا کہ تم سلیکٹ ہو آج سپیکر نے سیلکٹ لفظ پر ہی پابندی لگا دی ہے۔ ۔ اس بار بھی الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا ہے۔ رات کو کیا ہوا کس نے کیا اور کیوں کیا۔ ایک مفروضہ تو یہ بھی ہے ۔

ایک شخص نے بائیس سال سے شور و غوغا مچا رکھا تھا کہ وہی قوم کے آخری مسیحا ہیں۔ اس میں شک کی بات نہیں جو کچھ ہوا وہ سب دیکھ چکے ہیں۔ ایک الزام تو یہ بھی ہے ۔ لاڈلے کو صادق اور امین بنایا گیا اور انہیں اقتدار میں لایا گیا۔

نواز شریف کو سیاست سے مائنس کرنے کا منصوبہ ایک وقت کے لیے تو کامیاب ہو گیا۔ ان کو ملنے والی سزا کے پیچھے کافی کہانیاں ہیں۔ الیکشن کی رات با با رحمتا بھی بولا تھا ۔ ۔ ۔مریم نواز تو نواز شریف کو ملنے مالی سزا کو سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ قرار دیتی ہے۔ ۔ تمغہ جموریت مرزا اسلم بیگ کے زمانے میں بے نظیر نے فوج کو دیا تھا۔ پھر ایک وقت آیا انہی بے نظیر کو سیکورٹی رسک قرار دے کر نکالا گیا۔ آج مرزا اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کہاں کھڑے ہیں؟،آج ان پر 1990 کے انتخاب چرانے کا الزام ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں یہ جرم ثابت ہوچکا ہے۔ الیکشن چرانا ہی مسئلہ نہیں کسی جمہوری حکومت کو چلنے نہ دینا بھی اس ملک کی جمہوریت کے سامنے اہم سوال ہے ۔ ہم نے ایسٹ پاکستان کے عوام کے فیصلے کو نہیں مانا انہوں نے آپ کو ہی ماننے سے انکار کر دیا۔3 مارچ 1971 کو ہم نے انتقال اقتدار کو ملتوی کرنے کی سازش کی ۔ پھر کیا ہوا یہ کہانی لکھتے ہوئے کچھ لوگ برا مانتے ہیں۔ ہمارے کپتان کی حکومت کی طرح بھٹو کا یہ دعوی نہیں تھا کہ ضیا الحق اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ مگر تھی یہ حقیقت۔ ضیا الحق تو بھٹو کی خوشامد میں سب سے آگے تھا اس کے گواہ جنرل (ر) فیض علی چشتی آج بھی زندہ ہیں۔ پھر ایک تحریک چلی عوام کے موڈ کو دیکھتے ہوئے ایک پیج پر ہونے کا قصہ تمام ہوا۔ عوام سڑکوں پر آئے تو بھٹو اور ضیا ایک پیج پر نہ رہے۔ بلکہ بھٹو کو سپہ سالارضیا کی طرف سے خبردار کیا گیا سیاسی بحران کو حل کرو۔ فوج سڑکوں پر عوام پر تشدد کو برداشت نہیں کرتی۔ ملک کے اقتصادی حالات درست کرنا کپتان کے بس کی بات نہیں۔ حکومت کا رویہ تو اپوزیشن والا ہے۔ ۔13 جولائی لمحہ فکر کا دن تھا حکومت کاکہنا ہے تاجروں کی ہڑتال ناکام رہی۔ یہ پہیہ جام نہیں تھا ملک اور ملکی میڈیا اس کو نہیں مانتا ۔ دانش ور نفیس صدیقی لکھتے ہیں

’’پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہفتہ 13جولائی کو تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کے سیاسی اثرات کا درست اندازہ نہ لگانے والے خود کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 1977کے بعد یہ پہلی ملک گیر ہڑتال تھی۔ ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی بڑی مارکیٹیں احتجاجاً بند رہیں۔ ایسی ہی ایک دو ہڑتالیں ہم نے پاکستان قومی اتحاد(پی این اے) کی تحریک کے دوران دیکھی تھیں‘‘ ۔ دوسری جانب اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہیں۔ خاص طور پر مریم نواز کی جارحانہ مہم نے نے تو گزرے گیارہ دنوں میں حکومت اور ان کے ترجمانوں کو بے بس کررکھا ہے ۔نواز شریف کے گھر کا کھانا بند ہو گیا۔ سابق صدر آصف زرداری کے انٹرویو کو آن ائر نہیں ہونے دیا گیا مریم نواز کے انٹرویو کو بھی نہیں چلنے دیا اس کے رد عمل میں لندن میں شاہ محمود قریشی کے ساتھ کیا ہوا۔ ۔ایسے ماحول میں 6 جولائی کا دن بھی بھاری ثابت ہوا۔جب مسلم لیگ ن کے صدر شہبا ز شریف اور پوری قیادت کی موجودگی میں مریم نواز نے ایسی آتش فشاں وڈیو جاری کی جس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک خوشی خوشی اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ اس نے نواز شریف کو غلط سزا سنائی۔اب اس معاملے سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ جج پر الزام تھا اس کا قانون میں طریقہ کا رہے۔ حکومت اور اس کی وزارت قانون کو اپنا موقف دینا بنتا تھا مگر حکومت کے ترجمان ٹی وی سکرینوں پر ٹوٹ پڑے کہ رہے خدا کا نام۔ کوئی ان سے پوچھے کی آپ کیوں بول رہے ہیں۔ ؟ شہبا زشریف کا اس پریس کانفرنس میں شریک ہونا کپتان اور پوری حکومت کو برا کیوں لگا؟ اس سارے کھیل میں حکومت کی قانونی ٹیم جو ویڈیو کو جعلی قرار دے رہی تھی۔ ۔ نیب بھی پیچھے رہنے والی نہیں تھی اس نے مریم نواز کے خلاف ایک اور ایسا کیس چلانے کا ارادہ کر ڈالا جس کے بارے میں جناب اعتزاز احسن کا کہنا ہے جج کو پہلے دن ہی مریم کے خلاف مقدمے کو مسترد کر دینا چاہیے۔ ۔ جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو وڈیو سکینڈل کے بارے میں اپنا حلفیہ بیان دیا۔جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے ارشد ملک کا بیان اپیل میں شامل کرکے ان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔ ۔ اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کیس کا نوٹس لے چکے ہیں آج سپریم کورٹ میں آج اس اہم مقدمے کی سماعت ہے ۔ سماعت سے ایک روز قبل حکومت نے مسلم لیگ ن کے خلاف ایک اور چھکا مارنے کی کوشش کی مگر یہ معاملہ بھی ریورس ہو گیا ہے ۔ برطانیہ کے اخبار ڈیلی میل نے شہباز شریف کے خلاف سٹوری شایع کی ہے ۔ ’’مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف نے برطانوی امداد میں سے پیسے چرا کر برطانیہ میں شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں بھیجے‘‘ ۔ رپورٹ میں وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا بیان بھی شامل کیا گیا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا: 'ہماری تحقیقاتی ٹیم نے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں برطانوی امدادی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (ڈیفڈ)نے برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع کی جانے والی شریف خاندان سے متعلق اتوار کی چھٹی کے باوجود برطانوی امدادی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ۔

ڈی ایف آئی ڈی کے مطابق برطانوی ٹیکس گزاروں کے پیسے سے ہولناک زلزلے کا نشانہ بننے والے افراد کی مدد کی گئی، ہمیں اعتماد ہے کہ ہمارے مضبوط نظام نے برطانوی ٹیکس گزاروں کے پیسے کو دھوکا دہی سے تحفظ فراہم کیا ہے ۔


ای پیپر