15 جولائی 2019 2019-07-15

جیسا میرے پچھلے کالم کے اختتام پر لکھا تھا کہ محترم مختار مسعود مرحوم نے "حرفِ شوق ـ"کے آخری مضمون ـ"باعث تحریر" کے گیارھوں باب جو صفحات 457 تا 469تک پھیلا ہوا ہے میں قیامِ پاکستان کے فوراً بعد منعقد ہونے والے مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے ٹریننگ لے کر پاکستان کی سول سروس میں شامل ہونے والے اپنے ساتھیوں کا ذکر کیا ہے۔ اس میں پاکستان کی تاریخ کے ایک زمانے (جو پچھلی صدی کی پچاس کی دہائی کے آخری تین سالوں ، 60 سے 70 کی دہائیوں اور 80 کی دہائی کے نصفِ اؤل کے تقریباً تیس برسوں پر محیط ہے) میں شہرت پانے والے نامی گرامی بیوروکریٹ کا تذکرہ موجود ہے۔ جناب الطاف گوہر اسی زمانے کے ایک نامی گرامی ، انتہائی طاقتور اور بااختیار بیوروکریٹ تھے۔ وہ صدر ایوب خان کے اقتدار کے آخری پانچ چھ برسوں میں ان کے انتہائی با عتماد مشیر ہی نہیں رہے تھے بلکہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دنوں میں اور بعد کے برسوں میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔6 ستمبر 1965 کو بھارت نے لاہور کی سرحد عبور کرکے پاکستان پر حملہ کیا تو صدر ایوب خان نے قوم سے جو ولولہ انگیز خطاب کیا وہ مرحوم الطاف گوہر کا ہی لکھا ہوا تھا۔ الطاف گوہر کئی کتابوں اور مضامین کے مصنف بھی ہیں۔ ان کی کتاب "ایوب خان فوجی راج کے دس سال" کو بڑی شہرت ملی ۔ اس میں ایوب خان کے دورِ حکومت کے اہم واقعات پر روشنی پڑتی ہے۔ ان میں اگست 1965 میں مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی طرف سے شروع کئے جانے والے " آپریشن جبرالٹر" کی ناکامی اور بعد میں ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک اور ہنگامے شروع ہوئے تو اس میں اپوزیشن کے بعض رہنماؤں اور ایوب خان کے بعض وزیروں اور مشیروں کے کردار ابالخصوص کمانڈر انچیف جنرل آغایحییٰ خان اور ان کے بعض عسکری ساتھیوں کے سازشی کردار اور 25 مارچ 1969 کو ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے حکومت سنبھالنے کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔

مرحوم الطاف گوہر کا لکھا ہوا ایک دلچسپ واقعہ جو ان کی کتاب (نام یاد نہیں آرہاہے) میں شامل ہے مجھے یاد آ رہا ہے۔ مرحوم الطاف گوہر وزیر اعظم ملک فروز خان نون مرحوم جو غالباً دسمبر 1957 سے 7اکتوبر 1958 (ملک میں پہلے مارشل لاء کے نفاذ سے قبل تک ) پاکستان کے وزیرِ اعظم رہے تھے کے سیکرٹری کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے تھے۔ اُس وقت کراچی پاکستان کا دارلحکومت تھا ۔ وزیرِ اعظم سفر کے دوران ضروری فائلیں جو ان کا سٹاف انہیں پیش کرتا تھا دیکھ لیا کرتے تھے۔ الطاف گوہر انہیں فائیلوں اور ان میں لکھی سمریوں وغیرہ کے بارے میں بریف کیا کرتے تھے۔ الطاف گوہر بیان کرتے ہیں کہ ایک فائل جو کسی اہم حکومتی معاملے یا کسی اعلیٰ سرکاری افسر کی ترقی / تعیناتی وغیر کے متعلق تھی، میں نے وزیرِ اعظم کو پیش کی اور ساتھ ہی پنجابی میں وزیرِ اعظم کو بتایا کہ بیگم وقارِ النساء نون بھی اس معاملے میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتی ہیں اور انھوں نے کچھ سفارش بھی کر رکھی ہے۔ وزیرِ اعظم نے میری یہ بات سن کر فوراً پنجابی میں جواب دیا ـ"بکنڑ دیوس"( بکنے دو یعنی جو وہ کہنا چاہتی ہے اُسے کہنے دو) میرٹ پر معاملے کو دیکھیں گے۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی کے سیاستدان جنہیں ہم بدعنوان ، کمزور اور سفارشیں مان کر فیصلے کرنے والے قرار دینے سے نہیں تھکتے وہ کس حد تک میرٹ اور قوائد و ضوابط کا خیال رکھا کرتے تھے۔

الطاف گوہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایوب خان کی انگریزی خود نوشت Friends Not Master (اُردو ترجمہ جس رزق سے پرواز میں آتی ہو کوتاہی ) بھی انہی کی لکھی ہوئی تھی۔ محترم مختار مسعود مرحوم الطاف گوہر کا تذکرہ ذرا تفصیل سے کرتے ہیں۔ کتاب کے صفحات 460 اور 461 پر اُن کے بارے میں لکھتے ہیں۔ "الطاف گوہر ہمارے گروپ کے سب سے زیادہ نمایاں فرد تھے۔ مالیاتی سروس سے اِدھر آئے تھے۔ عمر اور تجربہ زیادہ۔ ہمہ جہت شخصیت۔ صلاحیتیں اور خواہشات دونوں Irrepressible ۔ اردو لغت میں اس انگریزی لفظ کی شرح ملتی ہے، ترجمہ نہیں ملتا۔ بہترین لفظی ترجمہ سرکش ہوگا۔ سربلندی کے لیے بے تاب، صاحب صلاحیت ساتھی نے اپنے رہوارِ قلم کا رُخ شعر و ادب سے موڑ کر دوسری راہوں پر ڈال دیا۔ الطاف گوہر کی وہ غزل جو اکادمی میں ہم نے بار بار سنی تھی اس میں ابرِ بہار کا جو حال ہوا وہی حال اُبھرتے ہوئے ادیب اور غزل گو شاعر کا ہوا۔ ابر بہار چل دیا اب نہ کوئی کھنک نہ شور۔ کھنک اور شور کی آواز گا ہے آتی مگر ان میدانوں سے جنہیں ہم نے اکادمی میں کبھی الطاف گوہر سے منسوب بھی نہیں کیا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خاں کی خاطر وہ جناتی مصنیفین (Gost Writers) کی صف میں شامل ہو گئے۔ ملازمت سے قبل از وقت فراغت ملی تو ڈان اخبار کے مدیر ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیرِ اعظم بنے۔ کبھی دونوں میں دوستی ہوا کرتی ۔ پھر ایوب خاں کی قربت کی وجہ سے الطاف گوہر ان سے دور ہوتے چلے گئے۔ وزیرِ اعظم اور مدیر ڈان میں یہ بحث چل نکلی کہ سیاسی صورت حال کے ایسا ویسا ہونے پر سلسلہء کوہ ہمالیہ کے آنسو بہہ نکلیں گے یا اس کی آنکھیں خشک رہیں گی۔ وزیرِ اعظم کے دلائل ختم ہو گئے۔ پھر انہوں نے اختیارات کا سہارا لیا۔ مدیر کو جیل ہو گئی۔ رہائی ملی۔ باہر آئے۔ ہاتھ میں تفہیم القرآن کے مقدمہ کا ترجمہ تھا۔ پھر یکا یک ان کے قلم نے تیسری دنیا کی معاشی بدحالی اور استحصال کو اپنا موضوع بنالیا۔ لندن میں اس کام کے لیے ایک بڑا صحافتی ادارہ وجود میں آ گیا۔ گوہر نے اس موقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور خوب رنگ باندھا۔ جس طرح اچانک یہ کام شروع ہوا تھا اسی طرح آغا حسن عابدی کے بنک کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل کے اچانک بند ہونے کے ساتھ اس کے دن بھی پورے ہو گئے۔ الطاف گوہر واپس وطن آگئے۔ مقامی صحافت میں پہلے مدیر روزنامہ مسلم اور پھر کالم نویس کے طور پر کام شروع کر دیا۔ مسلم اخبار نے صدر غلام اسحاق کے خلاف خصوصی مہم اس زور شور سے چلائی کہ اس کا اداریہ صفحہ اول پر حاشیہ میں شایع ہونے لگا۔ ایسی مہم کوئی عامتہُ الناس کے بھلے کے لیے کہاں چلاتا ہے۔ سول سروس کے 1949ء گروپ کے دو چار ساتھیوں کا خیال ہے کہ ملازمت کے دوران غلام اسحاق خاں واحد شخص تھے جس نے الطاف گوہر کی راہ کھوٹی کی۔ ۔۔"مختار مسعود آگے چل کر سول سروس کے اپنے ایک اور ساتھی آفتاب احمد کا تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ دیوانِ غالب کے حافظ ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اور بہت سے شعر یاد ہیں۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی شعر پڑھتے رہتے ہیں۔ گاہے زیرِ لب اور اکثر با آواز بلند ان کا آہنگ ان کے اعتماد اور خود ارادیت کی دین ہے۔ کسی موقع پر شعر یاد آجائے تو وہ سامعین کی پرواہ کریں گے نہ موقع اور محل کی۔ اور گنگنانا شروع کر دیں گے۔

کالم کچھ طویل ہو رہا ہے۔ محترم مختار مسعود نے خود کیسے لکھنا (نصنیف و تالیف کا کام ) کیسے شروع کیا اس کا تذکرہ کرکے بات ختم کرتے ہیں۔ صفحہ 462پر وہ لکھتے ہیں " میں نے ذرا منصوبہ بندی سے کام لیا۔ لکھنے کی خواہش کو پھلنے پھولنے دیا۔ لکھنے کی مشق جاری رکھی مگر اشاعت کی خواہش کی روک تھام کرتا رہا۔ روا روی میں لکھی ہوئی تحریرں ضائع کرتا رہا۔ دوسری قسم کی تحریرں سنبھال کر رکھتا رہا۔ جس سال پہلی کتاب (آواز دوست) شایع ہوئی اس سال میں سول سروس کے مدارج کی آخری سیڑھی پر جا پہنچا۔ اس بحث کے شروع کرنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ یہ شخص پہلے ملازمِ سرکار ہے یا شعر و ادب کا رسیا۔ دونوں حیثیتوں کا فرق برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ شوق کو شوقینی سے بچا کر رکھا۔ ہم کار اور ہم چشم تعجب کا اظہار کرنے لگے کہ ادھیڑ عمر میں یکا یک یہ مصنف کہاں سے آ گیا ہے۔ اس ایکا یکی والی بات پر وہ نوجوان مسکراتا ہے جس نے 1946ء میں اپنے آپ سے ایک عہد کیا تھا اور اسے بہت سے پردوں کے پیچھے چھپا دیا تھا۔ "


ای پیپر