ٹیکسز ملک و ریاست کو مضبوط کرتے ہیں
15 جولائی 2019 2019-07-15

انکم ٹیکس آفیسر نے ایک آدمی کو تفتیش کے دوران سوال کیا۔ تمہارا معیار زندگی تمہاری انکم سے بہت زیادہ ہے سچ بتاؤ کیا بات ہے۔ آدمی نے جواب دیا میں جواری ہوں شرطیں جیت کر پیسہ کماتا ہوں اگر تمہیں یقین نہیں تو شرط لگا لو۔ آفیسر مان گیا۔ آدمی نے کہا میں اپنے دانتوں سے اپنی آنکھ کو پکڑ سکتا ہوں اور اس بات پر دو ہزار روپے کی شرط لگاتا ہوں۔ آفیسر مسکرایا اور شرط لگا لی۔ آدمی نے اپنی پتھر کی آنکھ نکال کر دانتوں میں دبا لی اس طرح دو ہزار کی شرط جیت گیا۔ آدمی پھر بولا کہ میں اپنی دوسری آنکھ بھی دانتوں میں پکڑ سکتا ہوں اور چار ہزار کی شرط لگا لی۔ آفیسر نے یہ سوچ کی شرط لگا لی کہ یہ اندھا تو ہو نہیں سکتا۔ اس دفعہ آدمی نے اپنا نقلی جبڑا نکال کر اُس سے اپنی آنکھ دبا کی شرط جیت لیآفیسر کافی پریشان ہوا۔ آدمی نے تیسری شرط لگاتے ہوئے کہا میں تمہارے میز پر کھڑا ہو کر دروازے کے پاس پڑی ٹوکری میں اپنا پان تھوکوں گا۔ اور راستے میں ایک چھینٹ بھی نہیں گرے گی۔ اور میں بیس ہزار کی شرط لگاتا ہوں۔ آفیسر نے سوچا کہ یہ بیوقوف اب پھنس گیا ہے اور اس سے یہ نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذا مان گیا۔ آدمی نے جب پان کی پچکاری ماری تو ساری پچکاری میز اور درمیانی راستہ پر گر گئی۔ آفیسر بہت خوش ہوا اور شکر ادا کیا کے منافع سمیت پیسے واپس آ گئے۔ اتنے میں آفیسر کا دوست گھبرایا ہوا کمرے میں آیا۔ آفیسر نے فخر سے دوست آفیسر سے کہا دیکھو کیسی شرط جیتی ہے اور تم ہو کہ گھبرائے ہوئے پھر رہے ہو۔ دوست آفیسر نے جواب دیا۔ اس کمبخت نے مجھ سے ایک لاکھ کی شرط لگائی تھی کہ وہ تمہاری میز پر تھوکے گا اور تم برا نہیں مناؤ گے۔

تاجروں نے ہڑتال کر دی۔ تالہ بندی کر دی۔ وجہ تنازع یہ نکلی کہ ہم ٹیکس کیوں دیں؟ حد ہوتی ہے بے ایمانی کی؟ تاجر پیشہ حضرات ٹیکس دیتے ہی کب تھے؟ ٹیکس تو سارا عوام دیتی تھی۔ ٹیکس تو آجر دیتا ہے۔ تاجر تو ٹیکس اپنی آمدنی پر دیتاہے جو آج تک انہوں نے ادا نہیں کیا؟ باقی عوام ہڑتال کیوں کریں؟ جب گیس مہنگی ہوئی تو کیا ان تاجروں نے عوام کے دکھ کو سمجھا اور ہڑتال کیوں نہ کی؟ جب گیس مہنگی ہوئی تو کیا ان تاجروں نے عوام کے دکھ کو سمجھا اور ہڑتال کا سوچا؟ جب پٹرول مہنگا ہوا تو یہ تاجر کہاں تھے؟ جب چینی مہنگی ہوئی تو انہیں تاجروں کی موجیں لگ گئیں۔ جب آئل، خوردنی تیل اور گھی مہنگا ہوا تو یہ انڈسٹریلسٹ کہاں تھے؟ تب ہڑتال کا خیال کیوں نہ آیا۔ آج جب ان کے اپنے گریبان تک ہاتھ آیا تو انہیں ہڑتال کا خیال آ گیا؟ مظلوم ملازموں کو تنخواہوں میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اضافہ ہوا تب ہڑتال کا خیال کیوں نہ آیا؟ ان کے ٹیکس ریٹ میں اضافہ ہوا۔ تب ہڑتال کا خیال کیوں نہ آیا؟ یہ تاجر بہتر سال سے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں ۔ 72 سال سے عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔ چھ سو کا شلوار قمیص تین ہزار میں فروخت کر رہے ہیں ۔ جوتے بیچنے والے B.pair جوتے کو اے پیئر بنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔ بے شمار غیر ملکی برانڈ بیچنے والے، خود ہی برانڈ تیار کر کے غیر ملکی برانڈ کا اسٹکر لگا کر عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔ منی وائٹ کرنے والے بڑے بڑے ڈیپارٹمنل سٹور بنا کر بزنس مین بنے بیٹھے ہیں ۔ میڈیکل سٹورز والے جعلی ادویات بیچ بیچ کر سیٹھ اور شیخ بنے بیٹھے ہیں ۔ ٹھیکیدار ریت کی دیواریں کھڑی کر کے کنکریٹ کے بنے پلازوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں ۔ ٹیوشن مافیا بڑے بڑے پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹی کے کرتا دھرتا بنے پھرتے ہیں ۔ فٹ پاتھوں پر چنے اور حلیم بیچنے والے فائیو سٹار ریسٹورنٹ کے مالک بن چکے ہیں ۔ کونوں کھدروں میں ڈرم رکھ کر پٹرول اور ڈیزل بیچنے والے بڑے برے پٹرول پمپز کے اونر ہیں ۔ لوڈشیڈنگ کی آڑ میں یو پی ایس اور بیٹریاں بیچنے والے کروڑوں کے بینک بیلنس کے مالک ہیں ۔ ریڑھیوں پر فروٹ چاٹ اور آئس کریم بیچنے والے، بڑے بڑے پارلروں کے مالک ہو گئے ہیں ۔ یہ سب لوگ کون ہیں ؟ قارئین یہ سب لوگ کون ہیں ؟ یہ سب لوگ عوام کو لوٹنے والے اور ٹیکس چور ہیں ۔ یہ سب لوگ ملک کی جڑوں کو کمزور کرنے والے ہیں ۔ یہ سب لوگ اپنی اپنی تجوریاں بھرنے والے لوگ ہیں ۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس صرف چند سالوں میں اتنی رقم کہاں سے آئی تو بجائے احتساب کے عمل سے گزرنے کی بجائے ہڑتال پر زور آزمائی شروع کر دیتے ہیں ۔ جب انکم ٹیکس والے پوچھتے ہیں تو آئیں بائیں شائیں سے کام لیتے ہیں اور ان کی میزوں پر تھوکنا شروع کر دیتے ہیں ۔ قارئین! ٹیکس ادا کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ ٹیکس ملکی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ ملکی بنیادوں اور جڑوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس ایمانداری سے ادا کیا جائے نہ کہ ہڑتال کی جائے۔ ہم قیام پاکستان سے لے کر اب ملک کی معاشی جڑوں کو اکھاڑنے میں کرپشن کا کلہاڑا تیز کیے ہوئے ہیں مگر اب ہمیں سوچنا ہو گا کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو ملکی مفاد کی ڈگر پر چلتی ہیں ۔ تاریخ انہی حکومتوں اور سیاستدانوں کو زندہ رکھتی ہے جو اپنا مفاد بالائے طاق رکھ کر ملکی قومی اور عوامی مفاد کی خاطر قربانیاں دیتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ٹیکس کی پالیسی کو اپنایا جائے تا کہ ملک بہتر ترقی کر سکے۔ ٹیکس کی ادائیگی ملک کی معیشت اور ریاست کو مضبوط کرتی ہے۔اپنا کاروبار رجسٹر کروانے اور خود کو فائلر کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ ملکی اور عوامی مفاد کی ضرورت بھی ہے۔ بقول خوبصورت لہجے کے شاعر محمد مظہر نیازی

قد اپنا جب اور بڑھانا پڑتا ہے

اک دوجے سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے

بعض اوقات ہدف پیچیدہ ہوتا ہے

اندازے سے تیر چلانا پڑتا ہے


ای پیپر