نگینے لوگ
15 جولائی 2019 2019-07-15

تاریخ یاد نہیں البتہ 80 کی دہائی کی بات ہے میں نے ایم آر ڈی ،کنوینئر ینگ لائرز کے صدر ڈسٹرکٹ بار کے رکن کی حیثیت سے گوجرانوالہ بار کی طرف سے معراج محمد خان اور جناب پرویز صالح کو بار میں خطاب کی دعوت دی ہوئی تھی۔معمول کے مطابق ابھی جناب ارشد میر کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک آواز آئی اسلام علیکم میں جواب دیتے ہوئے پلٹ کر نظر اٹھا کر دیکھا ایک سرخ و سفید شربتی آنکھوں والے پینٹ شرٹ میں ملبوس خوش شکل آدمی کھڑے تھے نظر ملتے ہی انہوں نے پوچھا میر صاحب ہیں چونکہ مزاح ان دنوں میری فطرت کا خاصہ تھا میں نے اُن کے سوال کا جواب دینے کی بجائے کہا کہ جناب آپ کے گویا ہوتے ہی مجھے لگا جیسے میں نے ریڈیو آن کیا اور ’’بی بی سی لندن کا سٹیشن لگ گیا کہ ’’یہ بی بی سی لندن حالات حاضرہ پر سیربین اردو سنیے! وہ صاحب بولے میں رضا علی عابدی ہوں لندن سے آیا ہوں اوہ! میں فوراً کھڑا ہوا ان کو خوش آمدید کہا یہ آواز جو مختصر دورانیہ کے ریڈیو پروگرام سے سنا کرتے تھے جس پر لوگ یقین کرتے سارے برصغیر کی طرح گوجرانوالہ کی ریڑھیوں،دکانوں، ہوٹلوں اور گھروں پر اس آواز کا انتظار رہتا کہ سچ سن سکیں۔ مجھے یہ آواز آج بھی یاد ہے کہ ’پاکستان کے وزیراعظم ذرالفقار علی بھٹو کو آج صبح راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔ جرأت بہادری اور ٹکرا جانا ان کی عادت تھی۔ ان کی یہی ادا ان کے عوام کو پسند تھی‘ اس کے بعد کافی عرصہ ہمت نہ ہوئی کہ سیربین اردو سنتا مگر 11 سالہ جھوٹ اور منافقت کا بے مثال دور شروع ہو چکا تھا۔ سچ سننے کی تلاش میں یہ آواز سنتا رہا۔ جناب رضا علی عابدی ان دنوں جی ٹی روڈ پر کتاب لکھ رہے تھے جس میں جی ٹی روڈ پر آباد اور ماضی اور حال کی تہذیبوں ، قوموں اور ادوار کا تذکرہ و تجزیہ کرنا تھا۔ پچھلے دنوں جناب عابدی صاحب سے فون پر بات ہوئی گویا ایک تہذیب سے ملاقات ہو گئی کئی کتابوں سے گزر ہوا کئی شخصیات نظروں میں گھوم گئیں۔ منو بھائی کے بعد مجھے رضا علی عابدی بطور کالم نگار بھی پسندیدہ لوگوں میں شامل ہیں ۔ آج وطن عزیز میں سو سے اوپر چینلز دکھائی دیتے ہیں، ڈش لگی ہو تو بد بخت انڈیا نظر آتا ہے سن بھی سکتے ہیں لیکن سیربین اردو والے جناب رضا علی عابدی کا سچ آج بھی وطن عزیز میں سنائی نہیں دیتا۔اس پر یہ سوشل میڈیا اور فیس بک ایک ایسی قیامت ہے جو روحوں کو گھائل کیے دے رہی ہے۔ یہ وہ صور پھونکا گیا ہے جس میں ضمیروں کی اکثریت اور سچائی مکمل فنا کے گھاٹ اتر گئی۔ آتے ہیں اپنی بات کی طرف جناب ارشد میر کی زبانی بابائے پنجابی جناب میاں محمد ڈاکٹر فقیر حسین فقیر کا کلام بہت سنا میرے والد گرامی بھی ان کے کلام کو زندگی گزارنے کا انگ قرار دیتے۔ البتہ محمد مرسی شہید کے صدر ہونے پر حلف وفاداری کی تقریب شامل ہونے والے جن کو محمد مرسی شہید نے کہا کہ آپ نے آ کر مجھے عزت بخشی ہے۔جناب سمیع اللہ ملک لندن سے کالم لکھتے ہیں ، بھی ان لوگوں میں شمار ہیں جن کی تحریریں پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ وضو تازہ کر لیا جائے۔ پچھلے دنوں پلوامہ کی زینب کی پکار ان کے (دل میں چھید کر دینے والی آواز) کے عنوان سے کالم پڑھا جس نے روح و ضمیر اور وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایسے لوگ اپنے عہد کے نگینے ہوا کرتے ہیں۔ میں نے کئی سال سرکاری غلامی کی۔ خدا گواہ ہے کہ جب میں 2014ء میں ڈاکٹر ضیاء اللہ نیشنل ہسپتال والے کی وجہ سے قریب المرگ ہو چکا تھا صرف دعاؤں سے اور مسیحائے شہر جناب ڈاکٹر شہریار شیخ ، ڈاکٹر نور العارفین کی نیک نیتی اور عزیز و اقارب کی دعاؤں سے معجزانہ طور پر صحت یاب ہوا ۔ دوران بیماری ایک وقت آیا کہ میں اپنے بیٹے کو وصیت کرتا پھر میں نے سوچا کہ اپنی زندگی گزار چکا اس کو کیوں پابند کر دوں۔ پھر تیسری بار میں نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا مگر پھر اس ڈر سے کہ یہ ہمت نہ ہار جائے کچھ نہ کہا، کہنا صرف یہ تھا کہ میرے محکمہ کا کوئی شخص مجھے گرا ہوا بے بس نہ دیکھ پائے کیونکہ ان سالوں میں صرف چند کولیگز کے علاوہ فخر پاکستان ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۂ امتیاز) جناب محمد صادق جو کہ تنولی پٹھان ہیں مگر خان نہیں لکھتے کہ تکبر کا پہلو طبیعت میں پیدا نہ ہو اور ایک خاتون محترمہ طیبہ کیانی جن کا کردار ان کے نام کا عکاس ہے کا شمار ان لوگوں میں ہے وطن عزیز میں جو چند نگینے لوگ زندگی میں آئے، انہوں نے بہت کچھ سکھایا اور ان کے برعکس جو بے شمار منافقین آئے انہوں نے بھی خوب نصیحت دی۔

اب وطن عزیز کا مسئلہ اقتصادیات کا رہا نہ اخلاقیات اب یہ مسئلہ معدوم ہو چکی مٹ چکی ناپید ہو چکی انسانیت کی مکمل بحالیات کا ہے۔ میں اپنے ہی ایک 10 اگست 2010ء میں لکھے گئے کالم کے ایک اقتباس کو دہراتا ہوں جس کا عنوان تھا ’’انسانوں جیسے لوگ ‘‘

عمرانی علوم کا ہر نظریہ و نظام دیکھ چکے، ہمارے ہاں عدلیہ انتظامیہ مقننہ، افواج کے اکابرین بھی ہیں اور ان سب کی غلامی کے لیے رعایا اور عوام بھی۔ صدیوں سے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ادارے اور نظام بھی ہے جو انسانوں نے دیگر جانداروں سے ممتاز ہونے کے لیے قائم کیے کہ اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دے سکیں ۔یہی نظام ایسے ہی ادارے ایسے ہی قوانین اور ایسے ہی افراد و دیگر ممالک میں انسانیت کی اعلیٰ مثالیں اور تاریخ رقم کیے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں وحشت و بربریت، برہنہ محو رقص اور انساینت ماتم کناں ہے۔ ڈپریشن اور سوچوں میں ڈوبے ہوئے اس ملک کے بے بس باسی کو خیال آتا ہے کہ دراصل ہم پرتھوی راج ہیں اکبر بادشاہ نہیں، ہم دلیپ کمار ہیں دیوداس نہیں، ہم نصیر الدین شاہ ہیں مرزا غالب نہیں، ہم گرداس مان ہیں وارث شاہ نہیں، ہم انتھونی کوئن ہیں امیر حمزہ نہیں، ہم کھلنڈرے اور جعلی دانشور ہیں منٹو نہیں۔ ہم جج صاحبان ہیں جسٹس رستم خان کیانی نہیں، ہم فتویٰ و فرقہ فروش اور پرفارمرز ہیں مولانا نہیں، مسیحائی فروش ہیں میو برادران نہیں، کالم نگار ہیں منو بھائی نہیں۔ ہم فاروق مودودی ہیں مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی نہیں،ہم جانبدار ہیں تجزیہ کار نہیں، ہم حامد میر ہیں وارث میر نہیں، شیخ رشید ہیں شیخ سعدی نہیں، تعلیمی اداروں کے مالک ہیں سر سید احمد خان نہیں، ہم زرداری ہیں بھٹو نہیں، ہم انسانوں جیسے اور انسان نما ہیں انسان نہیں، ہم ڈرامہ ہیں حقیقی نہیں، بس نقال ہیں۔ ہماری حرکات و سکنات اور خوراک و پوشاک بھی انسانوں جیسی ہے مگر اظہار ذات ویسا نہیں ہماری ہیئت و زبان بھی انسانوں جیسی ہے مگر افکار و عمل نہیں۔ ہم عوام جیسے ہیں مگر عوام نہیں، ہم ریوڑ ہیں خود مختار نہیں، ہم آزاد ملک ہیں مگر آزاد قوم نہیں، ووٹر ہیں صاحب الرائے اور رائے دہندہ نہیں، ہم 20/22 کروڑ ہیں لیکن ہم وطن نہیں۔

ڈاکٹر علی شریعتی نے کہا تھا کہ کوئی گہری نیند سو رہا ہو تو اس کو جگایا جا سکتا ہے، بولنے پکارنے ہلانے جلانے سے کوئی نیند سے جاگ جاتا ہے لیکن اگر در و دیوار ہل جائیں، زمین پھٹ جائے، چھت گر پڑے مگر نیند سے نہ جاگے تو یقین کر لینا چاہیے کہ یہ نیند نہیں جس سے جاگا جا سکے یہ تو موت ہے اور موت کی نیند سونے والوں کو کوئی جگا نہیں سکتا۔ مینار پاکستان سے کود جانے والے کے لیے زندگی کی دعا قدرت اور فطرت کو امتحان میں ڈالنے والی بات ہے پھر بھی قدرت ہم پر ہمیشہ مہربان رہی کہ ہمیں ہر بار موت کی بجائے معجزانہ زندگی عطا کی مگر ہم بھی باکمال لوگ ہیں دوسری اقوام عالم پر تو آزمائش اور مصیبتیں آتی ہیں مگر ہم نے قدرت کو آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ہم ہر پل ہر لمحے گود سے گرتے ہیں۔ ہم ایسے فنکار ہیں کہ لمحہ بھر بھی حقیقت میں نہیں گزارتے۔ پھر بھی پرامید ہوں مایوسی کی کوئی بات نہیں جہاں انسانوں جیسے اور انسان نما لوگ ہیں وہاں فرشتوں جیسے لوگ ، نگینے اور درد مند انسان بھی ہیں۔


ای پیپر