مہاتیر کے دیس میں
15 جولائی 2019 2019-07-15

ملائشےا جانا مجھے ہمےشہ اچھا لگتا ہے۔ اس ملک سے مےری کچھ پرانی ےادےں وابستہ ہےں۔ آج سے اٹھارہ برس قبل، مےں نے پہلی بار اپنے والد کے ہمراہ اس ملک کا سفر کےا تھا۔ ہم لوگ سنگاپور مےں تھے۔ والد صاحب کوکام کے سلسلہ مےں ملائشےا جانا تھا۔ ہم بہنےں بھی ساتھ جانے کو تےار ہو گئےں۔ ےہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی پاسپورٹ کی عزت و آبرو قائم تھی۔ مجھے ےاد ہے سنگا پور، کورےا، جاپان، ہانگ کانگ اور ملائشےا جےسے ممالک کے وےزوں کےلئے دھکے نہےں کھانا پڑتے تھے۔ بس ٹکٹ لےا اور جہاز مےں سوار ہو گئے۔ متعلقہ ملک کے ہوائی اڈے پر انٹری وےزہ با آسانی مل جاےا کرتا تھا۔ اس وےزہ کو مزےد extendکرواےا جا سکتا تھا۔ ملائشےا پہنچتے ہی ابو نے ہمےں نصےحت کی تھی کہ اس ملک کو سنگاپور نہ سمجھا جائے۔ےہ اسلامی ملک ہے۔ قدامت پرست معاشرہ ہے۔ جرائم کی شرح بھی زےادہ ہے۔ باہر جاتے وقت سرپر دوپٹہ رکھنا ہے۔ شام کے وقت اکےلے ہوٹل سے باہر نہےں نکلنا۔ مےری شادی شدہ بہنوں کو ہداےت کی کہ ہاتھوں اور کانوں مےں سونے کا زےور وغےرہ پہن کر ٹےکسی مےں نہےں بےٹھنا۔ وغےرہ وغےرہ۔ےہ باتےں سن کر اس وقت مےں نے سوچا تھا کہ اےک غےر مسلم ملک تو اس قدر محفوظ ہے کہ ہم خواتےن وہاں آزادانہ گھوم پھر سکتی ہےں۔مگر ےہ اچھا اسلامی ملک ہے، جہاںشام کے بعد ہمےں اکےلے باہر جانے کی ممانعت ہے۔ان اٹھارہ برسوں مےں ملائشےا نے بہت ترقی کی ہے۔ ملائی سماج مےں کافی تبدےلی آ چکی ہے۔ تاہم سنگاپور اور ملائشےا کا فرق آج بھی برقرار ہے۔

اس مرتبہ ملائشےا جانے کا مقصد اےک ورکشاپ اور علمی کانفرنس مےں شرکت کرنا تھا۔ ملائشےا روانگی کےلئے صبح سوےرے اےئر پورٹ پہنچی ۔ہوائی اڈے کے داخلی راستے پر گاڑےوں کاغےر معمولی رش تھا۔ داخلی دروازے پر بھی لوگوں کا ہجوم تھا۔ پاسپورٹ اور ٹکٹ دکھانے کے بعد اندر داخل ہوئی۔ سامان سکےنر سے گزارا ۔ چند قدم آگے بڑھی تھی کہ سےکورٹی اہلکار نے روک لےا۔اےک کاو¿نٹر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنا بےگ چےک کروائےں۔ حےرت اور بے زاری کےساتھ مےں کاو¿نٹر پر پہنچی۔ بہت سے لوگ اپنا سامان چےک کروا رہے تھے۔ مےں نے بھی اپنا سوٹ کےس (جو تقرےباً خالی تھا) کھول کر سامنے رکھ دےا۔ تلاشی لےنے والی لڑکی نے انتہائی بے دلی کے ساتھ بےگ دےکھا۔ ےوں جےسے محض خانہ پری درکار ہے۔ (پنجابی محاورے کے مطابق بس گونگلوو¿ں سے مٹی جھاڑنے کے لئے)۔ بےگ کی زپ بند کرتے ہوئے مےں نے پوچھاکہ کےا سکےنر (scanner)خراب ہے جو سامان کی دستی) (manual تلاشی لی جا رہی ہے؟۔ اےک لمحے کی تاخےر کے بغےر لڑکی نے جواب دےا۔۔ سکےنر نہےں حکومت خراب ہے۔ پھر مجھے مسکراتے دےکھ کر کہنے لگی ۔۔ بس اوپر سے آرڈر ہے جی۔

ےہاں سے مےں ائےر لائن کاو¿نٹر کی طرف بڑھی۔ قطار مےں کھڑی تھی جب اےک نوجوان لڑکی ہاتھ مےں کچھ کاغذات تھامے چلی آئی ۔ نام ، پتہ، فون نمبر وغےرہ پوچھنے لگی۔ مجھے حےرت ہوئی کہ اب ےہ کےا نےا طرےق کار ہے۔ تفصےلات فراہم کرنے سے پہلے مےں نے درےافت کےا کہ سسٹم مےنوئل ہو گےا ہے ےا کمپےوٹر خراب ہےں؟ کہنے لگی کہ تما م رےکارڈ کمپےوٹر مےں موجود ہے۔ مگر ےہ نئے رولز ہےں۔ ہر روز اسی طرح فہرست بنتی ہے۔ تجسس کےساتھ مےں نے پوچھا کہ کمپےوٹر مےں رےکارڈ کی موجودگی کے بعد، اس فہرست کا کےا استعمال اور جواز ہے؟ اس نے سرگوشی کی ۔۔ "کچھ بھی نہےں۔بس آنےاں جانےاں ہےں"۔بورڈنگ پاس لےنے اورسامان جمع کروانے کے بعد، امےگرےشن کاو¿نٹر کی طرف دےکھا تو وہاں بھی کافی رش تھا۔۔ وہ کاو¿نٹر جو " اکےلی خواتےن/ بزرگ / معذور افراد" کے لئے مخصوص ہوا کرتا ہے۔وہاں تقرےبا تےس چالےس مرد حضرات کھڑے تھے۔ مےں نے بغور ان سب کا جائزہ لےا۔ سب ہٹے کٹے تھے۔ ہاتھ پاو¿ں بھی سلامت تھے۔ مجھے تسلی ہوئی کہ قطار مےں کوئی اےک بھی معذور نہےں ہے ۔ چنانچہ مےں نے "اخلاقےات" کواےک طرف رکھا اورکا و¿نٹر پر سب سے آگے پہنچ گئی۔پاسپورٹ پر مہر لگوانے کے بعد جب مےں لاو¿نج کی طرف بڑھ رہی تھی تو مےرا مجموعی تاثر ےہ تھا کہ آج ائےر پورٹ پر بہت ذےادہ بے ترتےبی ہے ۔سارا نظام جےسے کسی "گو سلو پالےسی" پر عمل پےرا ہے ۔

روانگی مےں چونکہ کچھ وقت باقی تھا۔ سو بک شاپ کا رخ کےا۔ کتابوں کا جائزہ لےنے کے بعد دکان دار سے کہا کہ ےہ سب تو پرانی کتابےں ہےں۔ کوئی نئی کتاب آئی ہے تو دکھائےں۔ کہنے لگا کہ کچھ عرصہ سے کتاب بک نہےں رہی تو نئی کےسے چھپے گی۔ مےرے پوچھنے پر اس نے بتاےا کہ 2018 کے آغاز سے کاروبار مےں کمی آنا شروع ہو گئی تھی۔ اب چند ماہ مےں حالات بہت زےادہ بگڑ چکے ہےں۔ کتابوں کی فروخت مےں تقرےباً 70 فےصد کمی آگئی ہے۔ گزارا بہت مشکل ہو گےا ہے۔ کتابوں کی دوسری دکان مےں گئی تو اس دکاندارنے بھی کم وبےش ےہی باتےں دہرائےں۔ دکان سے نکلتے ہوئے مےں نے سوچا کہ پانامہ لےکس سے شروع ہونے والا کھےل ہمارے ملک کی پھلتی پھولتی معےشت کو دےمک کی طرح چاٹ گےاہے۔معلوم نہےں ڈھلوان کا ےہ سفر کہاں جا کر تھمے گا۔

کوالالمپور پہنچ کر مےں نے پاکستان اپنی خےرےت کی اطلاع دی۔ اگلے دن مجھے ورکشاپ اٹےنڈ کرنا تھی۔ ےہ ورکشاپ ےونےورسٹی کے اپنے اساتذہ کے لئے مخصوص تھی۔ تاہم مےں نے اس مےں شرکت کی خصوصی اجازت لے رکھی تھی۔ صبح سوےرے جب مےں ےونےورسٹی پہنچی تو ورکشاپ شروع ہو چکی تھی۔ اےک علےحدہ گول مےز پر اےک خاتون اکےلی بےٹھی تھےں۔مےں بھی ان کے ساتھ بےٹھ گئی۔ وقفے مےںان خاتون نے اپنا تعارف کرواےا۔ وہ پروفےسر ڈاکٹر لطےفہہ تھےں۔ اس ےونےورسٹی کے شعبہ ابلاغےات کی سربراہ۔ انہی کے زےر سرپرستی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ ےہ جان کر وہ بہت خوش ہوئےں کہ مےں پاکستان سے آئی ہوں۔ نہاےت محبت اور گرم جوشی سے مجھے خوش آمدےد کہا۔

دوسراسےشن شروع ہوا تو ڈاکٹر لطےفہہ کھڑی ہوئےں اور حاضرےن سے مےرا تعارف کرواےا۔ کہنے لگےں کہ "ےہ پاکستان سے آئی ہےں۔ پاکستان جو اےٹمی قوت ہے" ۔ان کی اس بات پر ہال مےں تالےاں گونج اٹھےں۔ محاورتاً نہےں حقےقتاً مےرا سر فخر سے بلند ہو گےا۔ مگر اگلے ہی لمحے ےہ سر ندامت سے جھکتا چلا گےا۔ پاکستان کو اےٹمی قوت بنانے والی تےن اہم ترےن شخصےات اور ان کےساتھ کےا جانے والا بھےانک سلوک مجھے ےاد آگےا۔ سب سے پہلا خےال ذولفقار علی بھٹو کا آےا ۔جنہوں نے امرےکی مخالفت اور سنگےن د ھمکےوں کے باوجود پاکستان کے اےٹمی پروگرام کی بنےاد رکھی تھی۔ اس بھٹو کو قاتل قرار دے کر تختہ دار پر لٹکا دےا گےا تھا ۔۔ مجھے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدےر خان ےاد آئے۔ جو پاکستان کو اےٹمی قوت بنانے کے لئے ہالےنڈکی پرکشش نوکری چھوڑ کر وطن واپس آئے اور معمولی تنخواہ پر کام کرتے رہے۔ صلہ انہےں ےہ ملا کہ اےک ڈکٹےٹر نے انہےں قومی راز افشا کرنے کا مرتکب مجرم قرار دےا۔ سرکاری ٹےلی وےژن پر بٹھا کر سر عام معافی منگوائی ۔ اور ان کو نظر بند کےے رکھا۔ تےسرا خےال مجھے سابق وزےر اعظم نواز شرےف کا آےا۔ وہ نواز شرےف جس نے تمام تر عالمی دبا و¿ مسترد کرتے ہوئے بھارتی دھماکوں کے جواب مےں اےٹمی دھماکے کےے تھے۔ اس کارنامے کے کچھ عرصہ بعد اس کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دےا گےا۔ اسے ہائی جےکر اور ملک دشمن قرار دے کر اٹک قلعے مےں قےد رکھا گےا ۔اور آخرکار خاندان سمےت جلا وطن کر دےا گےا۔ مےں سوچتی رہی کہ کس قدر سےاہ تارےخ ہے ہماری ۔ اور کتنا بد قسمت ملک ہے ےہ۔ جہاں جمہوریت کے خلاف سازشےں کرنے والے، آئےن پاکستان کو توڑنے اور ا پنے قدموں تلے روندنے والے، سنگےن غداری کا ارتکاب کرنے والے قومی مجر م تو ڈنڈے کے زور پر وطن عزےز پر قابض رہے۔۔۔مرنے کے بعد قومی پرچم مےں لپٹ کر دفن ہوتے رہے۔۔۔ گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہوتے رہے۔۔۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ترقی مےں اپنا حصہ ڈالنے والے ، ملک کو اےٹمی قوت بنانے والے ،سی ۔پےک اور گوادر جےسے منصوبوں کی بنےاد رکھنے والے پھانسی چڑھتے رہے۔ جےلےں کاٹتے رہے اور جلا وطنےاں بھگتتے رہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر