قانون شہادت یا جھوٹی گواہی کی افزائش
15 جولائی 2019 2019-07-15

میں اللہ تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ بھی کہوں گا سچ کہوں گا، اگر میں جھوٹ بولوں یا کوئی بات چھپاﺅں، تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہوں۔یہ وہ حلف ہے جو روز صبح سویرے ہماری ملکی عدالتوں میں بطور عینی شاہدین و گواہ پیش ہونے والے افراد پڑھنے کے بعد اپنی شہادت قلمبند کرواتے ہیں۔ معزز جج صاحبان کے روبرو اسی حلفیہ عینی شہادت کی بنیاد پر لوگوں کی زندگی یا موت، جیت یا ہار، جزا یا سزا، قید یا بریت الغرض انصاف یا ظلم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے روایتی نظام میں عدالت کی منزل آنے سے پہلے ہی جب کسی ظلم و زیادتی کے خلاف انصاف کے حصول کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو آغاز میں ہی سچ کو جھوٹ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین قانون بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارے ملک خداداد میں آج تک کسی جرم کا مقدمہ سچا یا واقعے کے عین مطابق درج نہیں کیا گیا۔ پولیس ہر واقعے کا روایتی انداز میں مقدمہ درج کرتی ہے جس میں صرف نام تبدیل کئے جاتے ہیں اور واقعہ کم و بیش وہی لکھ کر مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے اور یہ سمجھایا جاتا ہے کہ واقعہ ایسے لکھا جائے گا تو ہی کل کو فیصلہ حق میں آ سکے گا اور بدقسمتی سے ایسا ہی ہوتا ہے اگر کوئی مرضی کرتے ہوئے سچ واقعہ لکھ دے تو اسے ملنے والے انصاف کی شکل جھوٹ واقعے پر ملنے والے انصاف سے مختلف ہو گی۔ پولیس اور مدعی کہیں فرضی گواہوں کی مدد سے اور کہیں اصلی گواہوں کے ہوتے ہوئے بھی جھوٹے گواہوں کے بیانات دلواتے ہیں اور پھر جب معاملہ عدالت میں پہنچتا ہے تو یہ گواہ حلف اٹھا کر جھوٹی گواہی دینے بڑے پر اعتماد انداز میں پہنچتے ہیں۔ جھوٹ کے اس موضوع میں اگر سچی بات کی جائے تو شاید ہم سب، ہمارا ملک اور تمام نظام اسی پراعتماد جھوٹ پر ہی چل رہا ہے، جھوٹ کی اس دنیا میں ہم اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ خدا کی ذات کو بھی اپنا جھوٹ سچ ثابت کرنے کے لئے بیچ میں لانے سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ بحیثیت مسلمان جھوٹ ہمارے مذہب میں گناہ کبیرہ ہے۔ ان حالات میں سچائی سے ناپید ہوتے اس معاشرے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بالآخر جھوٹ اور جھوٹی گواہی پر موجود ڈیڑھ صدی پرانے قانون پر عملدرآمد کروانے کا فیصلہ کیا ہے. چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے گذشتہ دنوں جھوٹی گواہی سے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اگر کسی گواہی کا کچھ حصہ جھوٹا ہو تب بھی پوری گواہی مسترد سمجھی جائے گی۔ اگرچہ سچی گواہی عدالتی انصاف کا ایک اہم تقاضا ہے لیکن سب سے پہلے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اس فیصلے سے پہلے ہی ہمارے ملکی قانون کے مطابق جھوٹی گواہی دینا جرم ہے اور جھوٹی گواہی دینے والے کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 191 کے تحت باقاعدہ سماعت کے بعد سزا دی جاسکتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر تعزیرات پاکستان میں جھوٹی گواہی سے متعلق ان سخت دفعات کے ہوتے ہوئے بھی آج تک کسی عدالت سے جھوٹی گواہی پر سزا نہیں سنائی گئی۔ بلکہ 156 سال سے چلتے آ رہے اس قانون کی موجودگی میں عدالتوں نے جھوٹے گواہوں کی شہادت تسلیم کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ قانونی ماہرین کے نزدیک سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے سب سے زیادہ جرائم پیشہ افراد کے مستفید ہونے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ٹرائل عدالتیں کسی گواہ کے بیان میں کچھ حصہ غلط ہونے پر پوری گواہی مسترد کرنے کی پابند ہو چکی ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق کسی مقدمے میں گواہ کا بیان مسترد ہونے کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے جس کے باعث اس کی بریت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مستقبل قریب میں جرائم پیشہ افراد کی بریت سو فیصد یقینی ہو چکی ہے۔ قانونی ماہرین کی رائے میں جھوٹی گواہی کی افزائش میں سب سے بڑا کردار ہمارے قانون شہادت کا ہے جو مظلوم اور ظالم دونوں کو جھوٹی گواہی پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ سینئر ماہر قانون ایم شاہد مقبول شیخ اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں رائج قانون میں شہادت کی دو اقسام (Occular Evidence) یعنی عینی شہادت اور (Circumstantial Evidence) یعنی واقعاتی شہادت کا ذکر کیا گیا ہے. اس میں عینی شہادت کو اولین اور واقعاتی شہادت کو ثانوی درجہ حاصل ہے۔ بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عینی شہادت کے ساتھ ساتھ اگر واقعاتی شہادت بھی کسی ملزم کے خلاف ہو تو وہ سزا سے بچ نہیں سکتا لیکن صرف واقعاتی شہادت کی بنیاد پر عدالتیں ملزمان کو سزا نہیں دے سکتیں کیونکہ قانون کی نظر میں محض واقعاتی شہادت کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہمارا قانون کسی بھی جرم کے ارتکاب کی صورت میں عینی شہادت کا تقاضا کرتا ہے اور اگر مدعی عینی شہادت پیش نہ کر سکے تو ملزمان بآسانی بری ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر عینی شہادت موجود ہو چاہے وہ سچی ہو یا جھوٹی ، عدالتیں اسے تسلیم کر کے فیصلہ سناتی ہیں. اس لئے سپریم کورٹ کو یہ بنیادی نکتہ بھی طے کرنا چاہئے تھا کہ گواہ کا بیان تو مسترد ہو جائے گا اور ملزم بھی بری ہو جائے گا لیکن اس جرم کا کیا بنے گا جو سرزد ہوا

اور قانون کی مجبوری بن جانے والی جھوٹی شہادت کا شکار ہو کر منوں مٹی تلے دفن ہو گیا۔آج تک کسی عدالت نے کسی تفتیشی افسر یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ کو طلب کر کے یہ نہیں پوچھا کہ کسی انسان کے قتل کا ملزم جھوٹی گواہی کی وجہ سے بری تو ہو گیا لیکن کیا جھوٹی گواہی نے جرم کا ارتکاب ختم کر دیا اور ملزم کے بری ہونے سے مرنے والے کے ورثا کو انصاف مل گیا؟ اور اگر نہیں ملا تو اس کا قصور وار کون ہے؟ ہمارا قانون ، عدالتیں، حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے؟1860 میں بننے والے تعزیر کے قانون میں یہ بات طے کر دی گئی تھی کہ جھوٹی گواہی پر سخت سزا دی جائے گی حتیٰ کہ اگر کسی جھوٹی گواہی کے نتیجے میں کوئی شخص پھانسی کی سزا پا جائے تو جھوٹی گواہی دینے والے کو بھی موت کی سزا دی جائے گی۔ تعزیر کی یہ شق ہمارے عدالتی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ ڈیڑھ صدی میں کبھی کسی جھوٹے گواہ کو نشان عبرت نہیں بنایا گیا۔ آج بھی اعلی عدالتوں میں ایسے فیصلے نظرآتے ہیں جن میں جھوٹی گواہی کے نتیجے میں سزا پانے والا پھانسی بھی پا چکا تھا اور بعد میں عدالت نے اسے بے گناہ قرار دیا۔ آج بھی لاکھوں مقتولین ایسے ہوں گے جن کا قتل صرف اس وجہ سے رائیگاں چلا گیا کہ ان کے ورثا پر اعتماد عینی شہادت پیش نہیں کر سکے اور کیس کے ملزمان یا تو عینی شہادت نہ ہونے یا جھوٹی گواہی کی وجہ سے بری ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جھوٹ اور جھوٹی گواہی کے تدارک کی ایک آسان صورت یہ بھی تھی کہ قانون شہادت کو عینی شہادت سے واقعاتی شہادت کی طرف منتقل کر دیا جاتا، کیونکہ دور جدید میں جرائم کے خاتمے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دینے کےلئے واقعاتی اور ساینٹفک شہادت ناگزیراہمیت اختیار کر چکی ہے. ماہرین کے مطابق شخصی شہادت مختلف قسم کے دباﺅ،ترغیبات اور مسائل کا شکار ہو کر کیس کا رخ تبدیل کر سکتی ہے، لیکن واقعاتی اور سائنٹیفک طبعی شہادت کو نہ تبدیل کیا جا سکتاہے اور نہ ہی اس سے فرار ممکن ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت واقعاتی اور سائنٹیفک شہادت کی اہمیت کو تسلیم کیا جا چکا ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں انھی شہادتوں کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں. اس طرح عینی شہادت نہ ہوتے ہوئے بھی واقعاتی شہادت سے جرم ثابت ہو سکتا ہے اور عدالت سزا دے سکتی ہے۔ پنجاب میں اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں اس وقت 12مختلف ڈیپارٹمنٹس واقعاتی اور طبعی شہادتوں کی تشخیص کے لئے کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تمام تر ٹیکنالوجی بھی اس وقت تک مددگار ثابت نہیں ہوتی جب تک واقعے کے عینی شاہدین نہ ہوں. ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ قانون شہادت میں ترمیم کے ذریعے جھوٹی گواہی کے کردار کو ہمیشہ کے لئے ختم کرے اور عینی شہادت کے ساتھ ساتھ واقعاتی شہادت کو بھی یکساں طور پر تسلیم کیا جائے۔


ای پیپر