سب کی سنیں!
15 جولائی 2019 2019-07-15

موضوعات کی کیا کمی۔ وڈیو ٹیپ کی رسیلی کہانیوں سے لے کر کراچی سے لے کر گلگت تک پھیلی ہڑتال۔چاغی کی سنگلاخ بنجر پہاڑیوں سے اٹھ کر قسمت کے دھنی صادق سنجرانی کو شکست سے بچانے کیلئے حکومتی بھاگ دوڑ۔ ابھی چند سال پرانی بات ہے۔ کانوں کے وسیع و عریض سلسلے کے مالک صادق سنجرانی وزیر اعظم آفس میں گریڈ بیس کے رتبہ کے برابر کوآرڈینیٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ سیاست ہیں لیکن طمع حرص اور لالچ سے بالکل پاک۔ بد عنوانی کے کبھی قریب بھی نہیں گئے۔ اپنی جیب سے خرچ کرتے اور بھول جایا کرتے ہیں۔ بہر حال کچھ عرصہ پہلے تک سیاست میں ان کی دال نہیں گلی۔ چند سال پہلے کسی کی سفارش لے کر آصف زرداری کے پاس گئے سنیٹر بنانے کی درخواست کی ۔ آصف زرداری نے کہا کہ ابھی تم بہت کم عمر ہو۔ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اسی زرداری نے بصد اہتمام اسی صادق سنجرانی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر رکن ایوان بالا بنوا یا۔ بلکہ پانچ میں سے ایک آئینی عہدہ تک پہنچنے میں بھی پوری مدد کی ۔آصف زرداری نے گناہ بے لذت کمایا۔ اب کی مرتبہ سکرپٹ کچھ اور مختلف ہے۔ پرانے سیاستدانوں ، پرانی سیاسی جماعتوں کو طرز کہن کی مانند مٹا ڈالنے کی تیاری ہے۔ نئی سیاستدانوں کی پنیری لگا دی گئی ہے۔ بس تیاری پر تجربہ گاہ سے نکال کر کھیت میں بونا ہے۔ فیصلہ سازوں کے ذہن میں ون پارٹی طرز حکومت ایسا نقشہ پھنساہوا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ جس گھوڑے پر سرمایہ کاری کی ۔ وہ ریس کا گھوڑا نہیں۔مصیبت یہ ہے تھان پر کھڑے گھوڑے کی بجائے چابک عوام کی پیٹھ پر برس رہے ہیں۔ چلیں کچھ عرصہ اور تجربہ سہی۔ بہر حال آصف زرداری نے جس آس میں جھولی بھر ووٹ اسٹیبلشمنٹ کی جھولی میں ڈالے وہ پوری نہ ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ فیصلہ ساز ان کی اور پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت بنا دینگے۔ لیکن وقت آیا تو کسی گارنٹر نے فون بھی نہ سنا۔ سنجرانی نے پروٹوکول دیا قبائلی وضع داری تو خوب نبھائی۔ لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ اب آصف زرداری بھی نیب کے قیدی ہیں۔ اپوزیشن کی دو عملی ہے کہ باقاعدہ تحریک عدم اعتماد کی بجائے قرار داد جمع کرا دی۔ خام خیالی یہ تھی کہ چیرمین سینٹ خود ہی چھوڑ کر چلے جایئنگے۔معاملہ صرف صادق سنجرانی کا ہوتا تو وہ باعزت طور ہر عہدہ چھوڑ جاتے۔ انہوں نے ایسا سوچا بھی۔ لیکن سر پرست آگے آئے۔ اور معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سارے کام دھونس اور طاقت سے حل نہیں ہوتے۔ کوئی کتنے سنیٹر توڑے؟ دو چار کا فرق ہوتا تو پورا کردیا جاتا۔ یہاں فرق کم از کم پینتیس کاہے۔اب تک پانچ کا ایمان ڈانواں ڈول ہونے کی اطلاع ہے۔ لیکن باقی دانے کہاں سے پورے ہوں۔ لہذا اب حیلے بہانے سے اجلاس کو طویل عرصہ کیلئے معرض التوا میں ڈالنے کے حیلے بہانے تلاش کیے جارہے ہیں۔ مشاورت کا فریضہ جناب بابر اعوان سر انجام دے رہے ہیں۔ وکیل آں جناب بہت بڑے ہیں لیکن مقدمہ کونسا جیتا ؟ ا س پر تاریخ خاموش ہے۔ بہر حال چیر مین سینٹ کے معاملہ سوپیاز تناول بھی ہوں گے اور جوتے۔۔۔وہ تو ویسے ہی پہننے کی چیز ہے۔ عدم اعتماد کی اگلے تحریک سینٹ ہال کے سامنے قومی اسمبلی میں پیش ہوگی۔ اسد قیصر سپیکر کی بجائے حکومتی ممبر اسمبلی رہے تو اگلا نشانہ وہ ہونگے۔ایسی ہی تحریک پنجاب اسمبلی میں بھی آئے گی۔اب یہ فیصلہ تو حکومت نے کرنا ہے کہ اپنی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے یا کمی۔ ابھی تو ایک ویڈیو گلے کی چھچھوندربن چکا۔ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ غیر جانبدار رہنا ہے پارٹی بننا ہے۔ ابھی ویڈیو ڈرامہ کی مزید قسطیں آئیں تو انگلیاں اس طرف اٹھیں گی جو اصل بنفشری ہے۔ وہ نوبت آنے سے پہلے انصاف ہوْجاے تو معاملہ حل ہوجائے گا۔ ورنہ یہ ٹیپیں بین الاقوامی میڈیا بڑے شوق سے چلاے گا۔ مہنگائی کا بوجھ سیاسی جماعتوں کی مدد کررہاہے۔ جلسوں میں ہجوم بڑھ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے ورکر کنونشن اتنے کامیاب ہوئے ہیں کہ جلسوں کی گمان ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو سندھ پنجاب کے بارڈر پر کھڑے ہوکر پیغام دے گئے ہیں کہ اب وہ پنجاب آئیں گے۔ پچیس جولائی کے یوم سیاہ کے بعد مشترکہ جلسوں کا پلان بن چکا۔ تیرہ جولائی کی کامیاب ترین ملک گیر ہڑتال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ڈکٹییشن پر بنے بجٹ پر قوم سے مکالمہ کرنا ہوگا۔ تاجروں سے ہی نہیں سیاسی جماعتوں سے بھی۔ جیل میں ڈال کر ، بازو مروڑ کر۔ سوئچ آف کرکے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اپنی سنانے کے ساتھ دوسروں کی بھی سننی ہوگی۔ ورنہ خرابی بڑھے گی کم نہیں ہوگی۔


ای پیپر