انصاف کا سوال ہے!
15 جولائی 2019 2019-07-15

مشہور چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے سوال کیا کہ کسی قوم کے پاس تین چیزیں ہیں: دفاع، معیشت اور انصاف ۔ ان تینوں میں سے کسی ایک کو چھوڑنا پڑجائے تو کسے چھوڑنا چاہیے؟ جواب ملا: دفاع کو ترک کردینے میں کوئی حرج نہیں۔ پھر سوال ہوا کہ اگر باقی دو، یعنی معیشت اور انصاف میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑجائے تب کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا: معیشت کو بھی چھوڑدینے میں کوئی مضائقہ نہیں، بس انصاف پر کوئی سمجھوتا نہ ہو۔ کنفیوشس کا خیال تھا کہ جب تک انصاف قائم ہے ، قوم کا اپنی حکومت اور ریاست پر اعتماد قائم ہے ۔ اور یہ اعتماد انہیں بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی ہمت دے سکتی ہے ، لیکن جس ریاست سے انصاف نکل گیا، اس کے ہاتھ سے بہت کچھ چلا گیا۔

انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو وہاں  انصاف کا بول بالا نظر آئے گا۔ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی پیمانہ۔ رنگ ونسل کو دیکھا جاتا ہے نہ ہی کسی کی مالی اور کاروباری حیثیت انصاف پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ مضبوط اعصاب اور اعلیٰ کیریکٹر کے حامل جج ان کی پروا نہیں کرتے۔ اِ کا دُ کا مثالیں ضرور ملیں گی، لیکن ایسے لوگ زیادہ عرصہ چلتے نہیں۔ اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کے ممالک دیکھیں۔ انصاف بکتا ہے ۔ حقوق پر ڈاکہ پڑتا ہے ۔ گنہگار بے گناہ اور بے قصور، قصور وار ٹھہرتا ہے ۔ قاتل مظلوم، جبکہ مقتول ظالم قرار پاتا ہے ۔ یعنی مکڑی کا جالہ جس میں کمزور پھنس جاتا ہے ، طاقتور توڑ کر نکل جاتا ہے ۔

دونوں کے درمیان میں معلق ہیں۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ہم دنیا میں ان پر فخر کرسکیں، اور ایسی مثالیں بھی کہ ان کا ذکر کرتے ہوئے سر شرم سے جھک جائیں۔

چند دن قبل مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ احتساب عدالت کے جج نے اعتراف کیا ہے کہ بلیک میل کرکے مجھ سے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دلوایا گیا۔ ویڈیوز اور آڈیوز بطورِ ثبوت دکھائی گئیں۔ ملک میں ایک طوفان آیا۔ حکومت میدان میں آئی۔ تحقیقات کرنے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنے کا اعلان کردیا۔ لیکن اگلے ہی روز حکومت نے اس پر یوٹرن لے لیا۔ معاملہ مزید اُلجھ گیا۔ اسی دوران میں جج ارشد ملک کی پریس ریلیز منظرعام پر آئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے شریف خاندان کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں، جبکہ بلیک میل کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ پریس ریلیز نے مزید کئی سوال کھڑے کردئیے۔ جبکہ دوسری طرف ن لیگ کا مطالبہ مسلسل زور پکڑتا گیا کہ نواز شریف کی سزا اب ختم ہوجانی چاہیے۔

ارشد ملک کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک بیانِ حلفی منظرعام پر آگیا۔ اس نے معاملے کو مزید نہ صرف اُلجھادیا بلکہ بہت سے سنگین سوالات بھی کھڑے کردئیے۔ جج ارشد ملک اس میں ایسے اعترافِ جرم کرتے پائے جارہے ہیں جن کا تصور کسی ترقی یافتہ دنیا میں کرنا ممکن نہیں۔ مضحکہ خیز قسم کے دعوے۔ ایک طرف انصاف کی کرسی پر براجمان ہوکر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کررہے ہیں، دوسری طرف اگلی سطر میں کہتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ پر دباؤ تھا۔ ایک طرف اپنی گاڑی بھیج کر کسی شخص کو اپنے گھر اور دفتر بلاتے ہیں، اگلی ہی سانس میں وہ اسے بلیک میلر قرار دے کر انصاف کی دُہائی دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پر اس قدر دباؤ روزِ اول سے رہا، لیکن یہ بتانے کی زحمت سپریم کورٹ کے نگران جج کے سامنے کی، نہ ہی ان کے طویل فیصلے میں اس کا کوئی اشارہ ہمیں ملتا ہے ۔

اس سارے معاملے میں نظریں اعلیٰ عدلیہ پر گئیں۔ بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ ارشد ملک جس کیس کی سماعت کررہے تھے، اس کی نگرانی سپریم کورٹ کے معزز جج کررہے تھے۔ حکومت نے بھی پہلے دن جس پھرتی کا مظاہرہ کیا تھا، اس سے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع ہوئی تو سپریم کورٹ کے لیے ضروری ہوگیا۔ پھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایکشن لیا۔ جج ارشد ملک کی خدمات واپس لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کردیں۔ ن لیگ نے اس پر خوشیاں منائیں کہ یہ برطرفی ان کے الزامات پر مہر تصدیق ثبت کررہی تھی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جب سے آئے ہیں، سیاسی کیسز سے کنارہ کشی کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان کے دور میں ازخودنوٹس تقریباً قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ لیکن اسی دن سپریم کورٹ کو اس میں مداخلت کرنا پڑی اور اب اس کیس کی سماعت 16 جولائی کو ہونے جارہی ہے ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اس بینچ کے سربراہ ہیں۔ ان کا ماضی بے داغ ہے ۔ وہ خود کم مگر ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ خصوصاً بطورِ چیف جسٹس آف پاکستان انہوں نے اپنے منصب کا پاس رکھا۔ یہ کیس پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔ یہ کیس نچلی عدالتوں سے متعلق بھی فیصلہ کن ہوسکتا ہے ۔ نچلی عدالتوں میں  انصاف کا جس طرح خون ہوتا ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان نے پچھلے ہفتے خود اس سے متعلق فرمایا۔ پاکستان میں اس سے نظامِ انصاف کا رُخ متعین ہوسکتا ہے اگر اسے وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ختم ہوسکتی ہیں۔ ہمارے نظامِ  انصاف پر ہر کچھ عرصہ بعد سنگین سوال کھڑے ہوجاتے ہیں، ان سوالوں  کا مستقل جواب اس کیس سے مل سکتا ہے ۔ اور یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اب ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ یہی عوام کو اعتماد دے سکتی ہے ، اور عوام کے اعتماد سے بڑھ کر کوئی چیز ریاست کو مضبوط کرنے والی نہیں، کنفیوشس کے بقول عوام کا اعتماد تبھی بڑھتا ہے جب ریاست میں انصاف ہو۔


ای پیپر