معا شی مسا ئل اور وز یرِ اعظم کا ویژن
15 جولائی 2019 2019-07-15

ثا بت کر نے کی ضرو رت نہیں کہ وطنِ عز یز کو آ ج جو بھی مسا ئل در پیش ہیں ،ان میں غیر مستحکم معیشت سرِ فہر ست ہے۔مختلف طبقے اپنے اپنے اند ا ز میں اپنی معا شی ز بو ں حا لی کا رو نا رو تے ہو ئے حکو مت کی تو جہ اپنی جا نب مبذ ول کرا نے کی کاوش میں مصر وف ہیں۔اسی اہم ترین تناظر میں وزیراعظم عمران خان اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ کراچی تشریف لائے۔ تاجر برادری کے مسائل، شکوے، شکایات اور تجاویز کو بغور سنا اور پھر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت کے معاشی ویژن کی تشریح کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں دیانت دار حکومت قائم ہے جس کی وجہ سے عالمی برادری پاکستان کو پیسہ دے رہی ہے، قرضوں کے غیرمعمولی بوجھ کی وجہ سے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر لینے پڑے۔ تاجروں کے ساتھ مل کر ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے۔ ملاقات میں تاجروں نے خرید و فروخت کے لیے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم وزیر اعظم نے شرط ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اب کاروبار پرانے طریقے سے نہیں چلے گا۔ یہ زیادتی ہے کہ پچاس ہزار سے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ نہ دیا جائے۔ معیشت کے استحکام کے لیے صنعت کو ترقی دینا ہوگی۔ بزنس کمیونٹی کو ملا کر انڈسٹریلائزیشن کرنا چاہتے ہیں۔ ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے، 5500 ارب روپے ٹیکس کا ہدف مل کر پورا کریں گے۔ تاجروں سے ٹیکس لے کر ملکی معیشت ٹھیک کرنا ہے۔ ا گر یہ کہا جا ئے کہ انہوں نے اپنے حال دل کھول کر بیان کیا، تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ وزیراعظم ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دوست ممالک کے دورے کرکے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر قرضہ حاصل کیا ہے۔ آئی ایم ایف سے بھی قرض کی پہلی قسط لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ملکی معیشت ابھی تک ہچکولے کھارہی ہے۔ ڈالر میں اتار چڑھائو کے سبب مہنگائی کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور عوام کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

اور پھر آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2019-20ء کے اختتام تک ڈالر 172.53 روپے تک پہنچ جائے گا۔ اس طرح روپے کی قدر میں 27 فیصد کمی ہوجائے گی۔ حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانا اور اس کی کڑی شرائط کو قبول کرنا بھی مہنگائی کا سبب ہے۔ اپوزیشن کے مطابق حکومت وزیراعظم نہیں بلکہ ریگولیٹرز اور آئی ایم ایف چلا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بجٹ کے بعد منی بجٹ لایا گیا۔ اب ہر تین ماہ بعد بجلی کے نرخ بڑھائے جائیں گے جس کے نتیجے میں غریبوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ادھر انجمن تاجران پاکستان کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ اگر ہما رے مطالبات نہیں ما نے تو پاکستان کی ہر صنعت کوبند کرکے اس کی چابیاں اسلام آباد کے ڈی چوک میں حکومت کے حوالے کریں گے کہ حکومت یہ نظام چلائے کیونکہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے مختلف چیمبروں میں جاکر تاجروں کو الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلاشبہ تاجروں کے جائز مطالبات حکومت کو فوراً سے پیشتر حل کرنے چاہئیں، کیونکہ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان محاذ آرائی ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اس ساری سنگین صورتحال میں کچھ ایسے منصوبے ہیں جو تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہیں کہ ملائیشیا پاکستان میں پروٹان کار کا اسمبلی پلانٹ لگائے گا۔ اس بات کا اعلان ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملائیشیا کی کاروباری برادری پاکستان میں موجود مختلف تجارتی مواقعے سے فائدہ اٹھائے۔ بلاشبہ بیرونی سرمایہ کاری کی اس وقت پاکستان کو اشد ضرورت ہے تاکہ اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکے۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی سے مئی کے دوران ایک ارب 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 3 ارب 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھی۔ وسیع کرنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے سخت اقدامات معاشی عدم استحکام کی وجہ رہے اور اس نے بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک سے دور رکھا۔ اسی طرح مئی میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی اور یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 23 کروڑ ڈالر رہی۔ گو حکومت اور ایس بی پی دونوں دعویٰ کرتے ہیں کہ معیشت سست ہے لیکن یقینی طور پر مشکل صورتحال سے نکل جائیں گے، تاہم گرتے ایف ڈی آئی کے اعداد و شمار ان کے دعویٰ کی حمایت کرتے نظر نہیں آتے۔ ملکوں کی سطح پر چین سے کم ہوتی براہِ راست سرمایہ کاری اس حکومت کے لیے اہم مسئلہ بن گیا ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے شمالی پڑوسیوں پر تیزی سے انحصار کررہی ہے۔ چین سے براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری 11 ماہ کے دوران سب سے زیادہ 49 کروڑ 57 لاکھ ڈالر ہونے کے باوجود گزشتہ مالی سال کے اسی عرسے کے مقابلہ میں ایک تہائی کم تھی۔ برطانیہ سے سرمایہ کاری کے بہائو میں کمی ہوئی اور یہ گزشتہ سال کے 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 17 کروڑ 10 لاکھ ڈالر پر آگیا۔ براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی حکومت کے لیے ایک ایسے مشکل وقت میں سامنے آئی جب اسے غیرملکی زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ ڈالر جمع کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سمیت دوست ممالک سے رابطے کی کوششیں کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں امریکا سے سرمایہ کاری کا بہائو 11 ماہ کے دوران تقریباً آدھا 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔ امریکہ سے ایف ڈی آئی میں کمی کو واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان خراب تعلقات سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ امید ہے وزیر اعظم پاکستان مجوزہ دورہ امریکہ میں ان امور پر بھی امریکی انتظامیہ سے بات کریں گے۔ مذکورہ بالا رپورٹس یقینا ملکی معیشت اور اقتصادیات کے حوالے سے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے بغیر معاشی ترقی کا خواب سراب ہے۔ ملکی معیشت میں مارکیٹ پر مبنی فارن ایکسچینج پالیسی کی انتہائی اہمیت ہے، اسی سیاق و سباق میں گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اب سے پاکستان Fixed ایکسچینج ریٹ کے بجائے مارکیٹ پر مبنی کرنسی ریٹ پر عمل کرے گا اور کرنسی مارکیٹ میں صرف اس وقت مداخلت کی جائے گی جب اس میں اتار چڑھائو (Volatility) بہت زیادہ ہوگا۔ ان کا کہنا درست سہی کہ لیکن اب یہ اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مقابلے کی حوصلہ افزائی کرے اور کسی کو اجازت نہ دی جائے کہ وہ مارکیٹ سسٹم کو ہائی جیک کرسکے۔ اگر ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کو مستحکم کرجاتے ہیں اور یہ مارکیٹ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی غیرضروری مداخلت سے محفوظ ہوجاتی ہے تو یہ ایک ایسا کام ہوگا جس کے اثرات طویل مدتی بنیادوں پر پاکستانی معیشت کو مضبوط اور مستحکم کرجائیں گے۔ اگر حکومت اپنی معاشی سمت کا تعین کرچکی ہے تو وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کو فوراً اس پر کام کی اشد ضرورت ہے۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ رواں رہے گا۔


ای پیپر