سوکن
15 جولائی 2019 2019-07-15

گائو ں میں جب اللہ رکھی کا نو عمر اکلو تا بیٹا زلفی اللہ کو پیا راہو ا تو سارے گا ئوں میں صف ماتم بچھ گئی ،اسی زمانے میں علاج معالجہ کی سہو لتیں نا پید تھیں، چند روز ہسپتال میں رہنے کے بعد پیٹ کے درد ہی سے چل بسا ، ماسی اللہ رکھی اور اس کے میاں کے علاوہ خاندا ن کیلئے یہ بڑا صدمہ تھا ، دیہاتی کلچر کے مطابق خواتین جہاں اسکی والدہ سے اظہار افسوس کر تیں وہاں یہ طنز یہ جملہ بھی کہتیں کہ نسل توآخر بیٹے ہی سے آگے چلتی ہے اگر چہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اک بیٹی سے بھی نوازرکھا تھا اللہ رکھی عمر کے اعتبار سے اپنے شو ہر سے کہیں بڑی تھی ،یہ سادہ عہد کی شادی تھی جس میں ’’بند ھن ‘‘سے زیادہ رشتوں کی مضبوطی کو فوقیت دی جاتی تھی ، نسل کے آگے چلنے کی بات گھر میں چلتا پھر تا ہر فرد سن رہا تھا ،اس رویہ نے بیٹے کے غم کواور بھی گہرا کر دیا تھا، اسکا شو ہر بھی چپ سار ہنے لگا ،بھائی کی مو ت نے بہن کو بھی اداس کر رکھا تھا چونکہ یہ گھر میں پہلی نرینہ اولاد تھی اس لیے خاندا ن کا ہر فرد صدمے سے دوچار تھا ۔ اللہ رکھی سوچوں میں گم رہنے لگی ، اگر چہ اللہ کے گھر سے وہ ناامید نہیں تھی لیکن دل میں یہ خدشہ بھی موجود تھا کہ شاید اب اسکی گو د ہر ی نہ ہو۔ میاں بھی صبح کھیتی باڑی کیلئے نکل جاتا اور شام کو گھر لوٹتا وہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے عزیز واقربا ء کے ہاں چلی جاتی ۔ اک رو ز وہ اپنی سہیلی کے گھر گئی اور راز داری میںاس سے مشورہ کرنے لگی ،اس کے جو اب میں اسکی دوست نے خوب کلاس لی اور اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف قرار دیا ،اللہ رکھی نے چپ سادھ لی او رپریشان ہو گئی کہ اگر یہ بات گا ئوں میں کسی کو معلوم ہو گئی تو طرح طرح کی باتیں ہوں گی وہ کچھ خوف زدہ سی رہنے لگی ۔

اک روز صبح شدید دھند تھی وہ میاں کا انتظا ر کر تی رہی مگر وہ ڈیرے سے دودھ لے کر نہ آیا اس نے روٹی اور گھویلوسامان سر پے رکھا اور اپنے ڈیرے کی جانب چل دی، شوہر نے روٹی کھاتے ہوئے کہا اگر آج ہمارا بیٹا زلفی حیات ہو تا تو تم کو سردی میں یہ پریشانی نہ اٹھانا پڑتی، اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی کاوش میں ضبط کے باوجود اسکی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑا اس نے پلو سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے ایک بات کہنی ہے میں نے اپنی سہیلی سے مشورہ بھی کیا تھا اس کے شوہر نے لسی کا گلاس اک طرف رکھتے ہوئے کہا بولو! میری خواہش ہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں، یہ کہتے ہوئے اسکی آنکھوں سے آنسو تیرنے لگے بیشتر اسکے وہ بات بڑھا تا اسکے ملازم نے شور مچایا کہ بیل کھل کر بھاگ گیا روٹی چھوڑ کر وہ دھند میں اسکے پیچھے بھاگ کھڑا ہو ا ، کئی رو ز اسکے جواب میں گزر گئے۔

آج جاتے ہوئے شوہر نے کہا کہ شام کو ڈیرے آ کر دودھ لے آنا پانی کی با ری ہے ملازم بھی مصرو ف ہو گا اس حکم تعمیل کرتے وہ ڈیرے کی طرف چل دی، افق پے سیاہی چھا رہی تھی اسکا شوہر دودھ نکا ل کر فارغ ہوا تو موصوفہ نے سوال داغ دیا کہ آپ نے ابھی تک جواب نہیں دیا شوہر نے کہا کہ میں نے بری سوچ بچا ر کی ہے ہم مشتر کہ فیملی میں رہتے ہیں تمھا را میکہ بھی قریب کے دیہات میں ہے، خاندان میں ایسی روایت بھی نہیں دنیا والے کہیں گے اللہ کی رضا پر ہی راضی ہو جائو، اللہ رکھی نے کہا کہ اسی اللہ ہی نے عقد ثا نی کو بھی تو غیر شر عی قرار نہیں دیا پھر جب مجھے کوئی اعتراض نہی۔ شوہر نے کہا نماز کا وقت ہو رہا ہے تم گھر چلو ،بات پھرادھوری رہ گئی ، اللہ رکھی کو اندازہ تھا کہ سماج اسے ہی احمق قرار دے گا اور کوئی بھی حما یت نہیں کر ے گا اک رو ز وہ اپنے میکے گئی اسکی خواہش تھی کہ وہ بڑی بھابھی سے رائے ضرور لے گی، سب نے باتو ں باتوں میں بیٹے کے غم کو تازہ کر دیا اس ماحو ل میں بات کر نا اسے اچھا نہ لگا اس نے اک روز مزید قیام کا فیصلہ کیا دو پہر کے وقت دونوں نند بھاوج درخت کی گھنی چھائوں میں چاول صا ف کر رہی تھیں کہ اللہ رکھی نے بھابھی کے سامنے مدعارکھ دیا، بھابھی نے بات سنتے ہی کہا کہ تمھا ری عقل ماری گئی کہ تم اپنے اوپر سوکن لانا چاہتی ہو، دو وقت کی روٹی سے بھی جائو گی، اس نے چپ سادھ لی چند رو ز بعد بات ہر فرد کے علم میں آگئی بڑا بھائی بطور خاص ملنے آیا اور اللہ رکھی کو ایساکرنے سے نہ صرف منع کیا بلکہ دھمکی بھی دی کہ ہماری مشکلات میں اضافہ کر کے اپنے لیے پریشانی پیدا نہ کرو، میکہ کی طرف سے اسے ایسے جواب کی توقع تھی۔

اک رات دونوں میاں بیوی گھر میں اکیلے تھے بقیہ گھر والے دوسرے گائوں شادی میں شریک تھے

اللہ رکھی نے اپنے شوہرسے اسکی شادی کی بات چھیڑ دی ، اس نے شو ہر کو اپنے میکے والوں کا رد عمل بھی بتایا شوہر نے بھی اسکی حوصلہ شکنی کی لیکن وہ بضد رہی ،بالآخر شو ہر نے اپنی والدہ سے بات کرنے کی حامی بھر لی، اللہ رکھی کی ساس نے پہلے تو لیت و لعل سے کام لیا پھر اس شرط پر مان گئی کہ لڑکی وہ کوخود تلاش کر ے تاکہ اس کیلئے مشکلات پیدا نہ ہوں، لڑکی تلاش کی شروع ہو گئی اب بات چار دیواری سے نکل کر پورے گائوں میں پھیل گئی مردو ں اور عورتوں میں اللہ رکھی کے شوہر کی دوسری شادی کے چرچے ہونے لگے، ہر محفل کا یہی مرغوب موضوع تھا ۔ اللہ رکھی کافی کاوش کے بعد نو عمر سی لڑکی اپنی برادری سے تلا ش کرنے میں کامیاب ہو گئی، منگنی کی خبر اس کے میکے بھی پہنچ گئی وہاں بھی طرح طرح کی باتیں ہونے لگی کہ چند دنوں کی بات ہے سوکن اللہ رکھی کو نکا ل کر باہر کر ے گی شوہر کی ساری دولت پر قبضہ کر لے گی اللہ رکھی نہ گھر کی رہے گی نہ گھاٹ کی، میکے والوں نے پہلے ہی اس رشتہ کی مخا لفت کی تھی ۔یہ باتیں اللہ رکھی تک بھی پہنچ چکی تھیں وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ بڑا قدم اٹھانے لگی اور زندگی کا بڑا رسک لینے چلی ہوں ،نجانے آنے والا وقت خوشیاں لائے گا کہ غم کا پہا ڑ ثابت ہوگا وہ انہیں سوچوں میں گم رہنے لگی ۔

اک رو ز وہ دوپہر کو جانوروں کا ونڈالے کر ڈیرے پر جا پہنچی ، اسکا شوہر نیم کی گھنی چائوں میں گہری نیند سو رہا تھا اسکی آواز پے اٹھ بیٹھا پرشکوہ ہوا کہ اتنی دوپہر میں آنے کی کیا ضرورت تھی ، اللہ رکھی نے طنزا ً کہا کہ اب ہمیں تو بس نوکری ہی کرنی ہے آپکی اور نئی آنے والی مالکن کی اسکے چہرے کی اداسی بتارہی تھی کہ وہ دل کی بات شوہر سے کرنے کی خواہاں ہے اداس چہرہ دیکھ کر شوہر نے کہا کہ بڑی مالکن تم ہی ہو بھلا اسکی کیا جرات کہ تمھا ر ا رتبہ کم کر دے، جب تم نے ہی مجھے نئی راہ دکھائی ہے تو اللہ پر بھروسہ کرو اور دل بڑا کرو اچھی نیت رکھنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کر تا، تم پہلے کی طرح میرے دل کے قریب رہو گی اللہ رکھی اسی ضما نت کی طلبگار تھی۔

آخر وہ دن بھی آہی گیا جس دن اللہ رکھی سوکن بیاہ کر گھر لے آئی، لوگ منتظر تھے کہ کب دونوں میں نا چاکی ہو اور خاندان میں پھوٹ پڑے، انھیں مایوس ہونا پڑا اللہ رکھی نے بڑی بر د باری ، حکمت سے معاملا ت کو چلایا اور تمام رشتوں میں توازن رکھا، اس نے اپنی نو عمر اور نو بیاہتا سوکن کو ساری اونچ نیچ سمجھا دی اور عرض بھی کہ شریکوں کے سامنے اسے رسوانہ کر نا صرف اللہ پے توکل رکھنا میں بھی تمھیں مایوس نہیں کروں گی۔ سوکن نے گھر کا ماحول دیکھ کر بات کو پلے باندھ لیا ، شب روز گزرتے رہے اللہ تعالیٰ نے سوکن کو پہلی اولاد ہی نرینہ عطا کی اللہ رکھی کوآج اپنا بیٹا رلفی شدت سے یاد آیا مگر اس نے اس خیال کو جھٹک دیا اور سوکن کی خوشی میں شریک ہو گئی پورے گائوں میں اس نے لڈو بانٹے ، اس مثبت رویہ نے سوکن کے دل پر اچھا اثر ڈالا، وقت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسکا گھر بیٹے اور بیٹیوں سے بھر دیا ، اللہ رکھی نے بھی ان سے محبت کر نے میں کوئی کسر نہ چھوڑ ی وہ گھر جو زلفی کی ناگہانی وفات سے ماتم کدہ تھا، اب خوشیوں کا گہوارہ بن گیا ، شوہر ہی نہیں بلکہ اسکی سوکن سمیت سارے بچے اس پیرانہ سالی میں ا بھی للہ رکھی کی خدمت کرتے ہیں وہ عورتیں جو سوکن لانے پر اسکو احمق کہتی تھیں آج اس کی قربانی کی مثال دیتی ہیں اور دونوں کے مثالی رشتہ کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں ، اللہ رکھی نے دور اندیشی کا فیصلہ کر کے نہ صرف اپنے گھر کو آبا د رکھا بلکہ سماج کیلئے کلیدی مثال بھی قائم کی ۔ اگر وہ ایسا نہ کر تی تو بیماریوں کا ایک مجموعہ اسکو لاحق ہو تا او ر وہ کئی خانگی جھگڑوں کو جنم دیتی ۔

دوکان سے سودا سلف لینے، اپنے بچوں کے مابین چیزیں بانٹتے وہ ایک دانائی کا مینار دکھائی دی اور ان چھو ٹے دل کی حاسد عورتوں کیلئے نمونہ ہے جو مرد اور عورتیں عقد ثانی کے لیے طلاق سے مشروط کرتے ہیں یا راستہ سے ہٹانے کے لئے مرد عورت کے قتل کا قبیح جرم کرتے ہیں مگر اللہ پے توکل نہیں کرتے۔


ای پیپر