ووٹ دینے سے پہلے آزاد شہری بن کر سوچیں!
15 جولائی 2018 2018-07-15

اپنوں کا کام اپنوں نے نہیں کیا اور برباد اور رسوا کیا ہے اس عظیم شہر کراچی میں رہنے والوں کو ... اپنے ہوتے تو اپنوں جیسا سلوک کرتے، اپنے ہوتے تو کم از کم ’’اپنے ‘‘ جیسا سمجھتے اور شہر کراچی کو بھی اپنے گھر جیسا بناتے، اپنوں کا پیار ہر الیکشن سے چند روز قبل ووٹ حاصل کرنے کی حد تک اور اس کے بعد کون ہے اپنا اور کون ہے پرایا وہ کراچی نے دیکھ بھی لیا ہے اور امید ہے کہ سمجھ بھی گئے ہوں گے۔ کیا کوئی اپنا کسی اپنے کو مشکل میں دیکھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آرام کرتا ہے یا کوئی کام کرتا ہے۔ اپنوں نے اپنائیت میں کہاں کمی کی؟ اپنوں نے نوٹ، ووٹ اور ان سب سے بڑھ کر زندگیاں قربان کر دیں کیا اس لیئے ووٹ حاصل کرنے کے پوری ’’اپنی قوم‘‘ کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہو؟ دعویسے بڑھ کر آج سب کچھ اپنا ہی تو ہے تو پھر اس جذباتیت کا سیاسی، سماجی اور مسائل کے حل کے حوالہ سے فائدہ تو کسی شہری کو بھی نہیں... کیوں؟ اس لئے کہ اپنے تو اپنا کام کر گئے لیکن وہ چند اپنے ’’ہمارے ‘‘ نہیں ہو سکے۔’’ہمارے‘‘ مسائل اور ان کا حل تو اس پر تو ’’اپنے ‘‘ ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں ، ’’پانی ہو نہ ہو، سیوریج ہو نہ ہو، کچرااٹھے نہ اٹھے لیکن ووٹ اپنوں کا‘‘...اپنوں، اپنے ، میرا اور تیرا کی جذباتی رومانیت سے نکل کر ہمارے نام ہر نہیں بلکہ ’’ہمارے لئے ‘‘ سیاست کرنے اور ووٹ کا صحیح استعمال کرنے کا وقت ہے اور ’’اپنے کے جعلی سپنے ‘‘ سے جاگنے کا وقت بھی۔

کوئی سازش نہیں ہو رہی ، کوئی مجبوری نہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ لیڈرشپ نہیں رہی، نیت ٹھیک نہیں لہذا عمل کیسے درست ہو سکتا ہے، معاملات میں انفرادی فائدہ کو مدنظر رکھ کر عملی طور پر اجتماعی مفادات کو نظرانداز کرنا معمول کا حصہ بن چکا ہے اور شاید عوام بھی اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول ہی کر چکی ہے۔قید اپنے خیالات اور اپنی پسند پر جذباتی رومانیت کی ہے، عقل ، دانش اور فہم کی بنیاد پر ہونے فیصلوں میں اشوز پر گفتگو ہوتی ہے، مسائل کے حل کی تجاویز اور عملی پلان کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے لیکن صرف کراچی ہی نہیں پورے ملک کی حالت زار یہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں میں ایسی لیڈرشپ نہیں جو گلی محلہ سے نکل کر بلدیاتی میدان میں خدمات کا لوہا منوا کر ، آج اپنی ان خدمات کے صلہ میں عوام کو بہتر مستقبل کی امید کی صورت میں نظر آ رہی ہو تاکہ ایک عام شہری بھی اس قیادت سے پرامید رہے اور اور نسبت رکھے۔ وزارت عظمی کے آج کے امیدواروں میں کون ایسا ہے جس نے مقامی سطح پر کوئی کارنامہ ازخودذاتی حیثیت میں انجام دیا ہو اور بلدیاتی نظام ، جو کہ ایک عام شہری کی روزمرہ زندگانی کے تمام تر معاملات کا حل ہے، میں کوئی خاطر خواہ کام کیا ہو؟ یقین جانیں کوئی نہیں۔

پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو ووٹ دینا ایسا ہی ہے کہ عمرقید بامشقت گزارنے کے بعد رہائی سے چند روزقبل آپ ایک ایسا جرم کر دیں کی پھانسی کے سزا سنا دی جائے اور اس پر عملدرآمد کا وقت عین عمر قید کی رہائی والا دن ہی ہو۔ اب قیدی کیاکرے؟ رہائی کیلئے ضروری ہے کہ جو ایک نادر موقع عمر قید کے دوران ملا ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید مسائل کے دلدل میں پھنسے رہنے کے بجائے ایک فیصلہ کریں کہ بہت ہو گیا، بس کر دیں اب، اب تو اپنانہیں آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے... ایک ہی راستہ ہے کہ ۲۰۱۸ میں سامنے نظر آنے والی تبدیلی کیلئے نکلیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر یں۔ ووٹ کا استعمال صرف کراچی کا شہری بن کر کریں،کراچی کے نام پر نہیں کراچی کیلئے نمائندگان کا انتخاب کریں۔

اپنا صرف وہ ہوتا ہے جو میرے اور آپ کے دکھ درداور آسائشوں و آرام کا خیال رکھے اور اس کیلئے اپنے وقت کی قربانی دے تاکہ ایک عام شہری بھی اپنے گھر میں آرام سے رہے اور سکھ کی زندگی گزار سکے۔ ایک سابق وزیراعظم کو سزا ہو چکی، دوسری جماعت کا پڑھ رہے ہیں کہ صرف ۳۵ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے ایک کیس کی تحقیقات میں اس کے شریک چیئرمین اور ان کی ہمشیرہ کا نام سامنے آر ہا ہے، اب یہ دونوں جماعتیں گزشتہ دس برسوں سے اقتدار کے مزے لے رہی ہیں اور عام شہری کی زندگی ابتر ہو رہی ہے ، حقوق مل نہیں رہے، مسائل حل ہو نہیں رہے، اور یہ دونوں جماتیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک بار پھر عوام کے سامنے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب ہے ایم کیو ایم جس کی بات اس گھر کے بھیدی سمیت لیڈران سرعام کر چکے ہیں، چند ماہ سے جو توں میں جو دال بٹ رہی ہے وہ ہم سب ہی دیکھ رہے ہیں، ابھی ان کی کرپشن اور لوٹ مار کی داستانیں ان کے اپنے رہنما روزانہ ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں لہذا ان کا بھی نہ تو ارادہ ہے اور نہ ہی نیت۔ ووٹ آنے والی نسلوں کی بھلائی اور قوم کی اور اس شہر کی ترقی کیلئے دیں جو کم از کم مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نہیں کر سکتی ... آؤٹ آف باکس حل ڈھونڈ کر لانا ہے اور شہر کو بنانا ہے تو ایسے آزمائے ہوئے کو آزمائیں جو پہلے بھی اپنی کارکردگی سے آپ کو مطمئن کر چکے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت نام کی ہے کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا سارا زور اور تقریر بروقت عام انتخابات کروانے پر مرکوز ہے لیکن کبھی بھی اس ملک میں حاکموں نے بلدیاتی انتخابات وقت پر نہیں کروائے۔ جمہوریت اور اس کی نرسری کو پنپنے نہیں دیا گیا، مقامی حکومتوں کے انتخابات سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد کروائے گئے، مردم شماری بھی سپریم کورٹ ، امن و امان کے مسائل بھی سپریم کورٹ، احتساب بھی سپریم کورٹ ... جب مقامی قیادت کو ابھرنے ہی نہیں دیا جائے گا تو پھر ملک میں عام انتخابات کے وقت امیدواروں سے ووٹر امید کرتا ہے اور باقاعدہ سوال پوچھتا ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق، سیوریج سسٹم ، کچرا، تعلیم، صحت اور اسی طرح کے تمام میونسپل مسائل کا حل؟ آگے سے وہ امیدوار بھی یقین دلا رہا ہوتا ہے کہ وہ یہ تمام مسائل حل کروا دے گا ... اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ سوال ان بار بار کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبرا ن سے بنتا ہے کہ ہماری بھلائی کے کون سے قانون آپ کے دور میں نئے بنائے گئے اور کن قوانین میں عوام کے بھلے کیلئے تبدیلی کی گئی؟ ہر واپس ووٹ کیلئے پلٹنے والی جماعت سے سوال کریں اور اس کا احتساب کریں عوامی بھلائی کے کاموں میں قانون سازی اور پھر اس پر عمل درآمد کے بارے میں۔ ہم قانون بنانے والوں کومنتخب کرنے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں عزت، انصاف اور اختیارات پر مبنی ایک ایس متوازن اور تعمیری سسٹم وجو د میں آئے جو ہر عام شہری کو اس کے دروازے پر وہ تمام سہولیات اور حقوق مہیا کرے جو کہ پاکستان کا آئین ، ہمارا اور ریاست کا عمرانی معاہدہ ہم سے وعدہ کرتا ہے۔ دستور میں بیان کئے گئے بیشتر بنیادی انسانی حقوق خصوصا آرٹیکل 8 سے 40 میں کئے وعدے اور اس حوالہ سے قانون سازی کرنا ہی ان قانون ساز ایوانوں کا کام ہوتا ہے اور اس کیلئے موثر اور مضبوط نظام لوکل گورنمنٹ یعنی مقامی حکومتوں کا منتخب نظام ہے جیسا کہ 140Aمیں بیان کر دیا گیا ہے جو وعدہ کرتا ہے مکمل گارنٹی کے ساتھ۔ ہمارے مسائل کا حل ان ایوانوں میں ہی چھپا کر رکھا گیا ہے تاکہ عام انتخابات میں معصوم شہریوں کوان نمائندوں کے احتساب سے دور رکھا جائے اور ایک ایسا خواب دکھایا جائے جس کی منزل تک جانے کی سواری (یعنی بااختیار اور مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام) موجو د ہی نہ ہو ... ذرا سوچئے اور اگلے امیدوار سے سوال کریں کہ بحیثیت قومی یا صوبائی اسمبلی آپ کے پاس براہ راست ایسا کون سا اختیار ہے جس کے ذریعے آپ ہمارے بنیادی مسائل حل کرسکتے ہیں؟ یقین جانیں کہ وہ اگر سچ بولے گا تو کہے گا ’’کچھ نہیں‘‘۔ یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہمیں سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں پھر اگلے انتخابات تک چھٹی ... اور اس کے بعد پھر وہی سارا ڈرامہ شروع جس کا ذکر مضمون کے آغازسے کیا جا رہا ہے۔ یا تو ایک بار پھر دھوکہ کھانے کیلئے تیار رہیں اور پھر اس بار ووٹ بھی وہی پرانے آزمائے ہو ئے ناکام لیڈران اور ان کی جماعت کے حق میں استعمال کریں ... ورنہ سچی ، نئی اور کھری بات کرنے والی جماعت پاک سرزمین پارٹی اور اپنی محنت، خدمت اور کام سے آپ کا پیار اور شہرت پانے والے مصطفی کمال اور ان کی ٹیم و نامزد امیدواروں کو ڈولفن کے نشان پر ووٹ دے کر کامیاب کروائیں ... اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں دیں تاکہ ترقی کا سفر آخرکار شروع ہو سکے۔ اپنی سوچ اور جذبات کے قیدی بن کر نہیں اس ملک کے آزاد شہری بن کر ووٹ دینے سے پہلے سوچیں !


ای پیپر