نیا باب
15 جولائی 2018 2018-07-15

گرفتاری کیلئے واپسی پر مسلم لیگ (ن) نے کامیاب شو کیا۔لاہور میں جوکچھ ہوا سکرینوں پر اس سے بہت کم نظر آیا۔وہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کے رضا کاروں نے کئی پوشیدہ راز کھول دیے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے بیانیے کوکیسے آگے لے کر چلتی ہے۔ وزارت عظمیٰ سے تاحیات نا اہلی اور پھر طویل قید۔ نواز شریف کی مشکلات کا ایک نیا با ب شروع ہو چکا۔ یہ نیا باب کب ختم ہو گا۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ ان کی سیاسی زندگی کا مشکل ترین دور ہے۔ 1999 میں مارشل لاء کے بعد جھیلی گئی مصیبتوں سے بھی زیادہ مشکل اور صبر آزما۔ بس اس مرتبہ ایک نئی بات ہے۔ گزرے کل میں ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف بھی ان کے ساتھ پابند سلاسل تھے۔میاں شریف مرحوم کے سوا تقریباً تمام اہل خانہ پر مختلف نوعیت کی قد غنے تھیں۔ ان کے صاحبزادے بھی قید رہے۔ لیکن آج ان کے دونوں صاحبزادے برطانوی شہریت اختیار کر کے اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔لیکن اشتہاری مجرم قرار دیے جانے اور متوقع ریڈ ورنٹ کی شکل میں مشکلات ان کے تعا قب میں ہے۔ پی ٹی آئی کے جنونی فدائی برطانیہ میں ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ان کو گالی گلوچ،وشنام طرازی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جس کا مقصد ان کا جینا دوبھر کرنا ہے۔ کوئی مہذ ب معاشرہ کسی کے دروازے پر جا کر ایسی کاروائیوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔بہر حال ذکر ہو رہا تھا شریف خاندان کی کل اور آج کی مشکلات میں فرق کا۔ گزرے کل میں میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) ان کی رہائی کیلئے کوئی مؤثر کردار ادا نہ کر سکی۔ ایسے میں بیگم کلثوم نواز نے کمر ہمت باندھی اور اپنے خاندان پر ٹوٹنے والے مصائب کے خاتمے کیلئے میدان میں نکلیں۔ انہوں نے ایسی موثر تحریک چلائی کہ چند ہی ماہ میں صورتحال تبدیل ہو گئی۔ پرویز مشرف کی قابض حکومت مذاکرات پر مجبور ہو ئی۔ مسلم لیگ نے بھی عین افطاری سے قبل روزہ توڑا۔بیگم کلثوم نواز نے بھی اپنے خاندان کو بچا لینے میں ہی کامیابی سمجھی۔ وہ چونکہ سیاسی حرکیات اور اس کے دوررس اثرات سے نا آشنا تھیں۔ لہٰذا تھوڑے کو بہت سمجھا۔حالانکہ پرویز مشرف کی سیاسی و بین الاقوامی تنہائی کا شکار حکومت اس وقت خزاں رسیدہ پتوں کی مانند لرز رہی تھی۔ بہر حال وہ جدو جہد جاری رہتی تو تاریخ کا دھارا کسی اور سمت بہہ رہا ہوتا۔ آج کی صورت حال میں شریف خاندان کو بیگم کلثوم نواز کا ساتھ میسر نہیں ہے۔مشرف حکومت کے خلاف شیرنی کی طرح لڑنے والی بیگم کلثوم نواز اب بستر علالت پر موت و حیات کی کش مکش میں ہیں۔ یہ ان کے اندر کا جنگجو ہے۔ جس نے وینٹی لیٹر پر ہونے کے باوجود ابھی تک موت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ نواز شریف کے جیل جانے کے بعد اب وہ کلثوم نو از کوئی مزاحمتی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ نواز شریف کیلئے دوسری پریشانی یہ ہے کہ ان کی لا ڈلی صاحبزادی بھی ان کے ساتھ جیل میں اسیری کے شب و روز کاٹ رہی ہیں۔ گو کہ ابھی نواز شریف اور مریم نواز کے پاس اپیل کی شکل میں کئی قانونی آپشن موجود ہے۔ جہاں سے ان کو ریلیف مل سکتی ہے۔ وکلاء تو ہمیشہ ہی پر امید رہتے ہیں۔ لیکن جس طرح سے جمعتہ المبارک اور ہفتہ کی درمیانی شب قانون ضابطوں کا مذاق اْڑا دیا گیا۔جس طرح سے جیل مینول کی دھجیاں اڑا دی گئی۔ جس طرح سے گاڑیاں سزا یافتگان کو ساری رات دار الحکومت اور جڑواں شہروں کی سڑکوں پر لیکر بے سمت دوڑتی رہیں۔ اور انتظامیہ یہ طے نہ کر سکی کہ سزا یافتگان کو کس جگہ رکھنا ہے۔ جس طرح ایک ہی رات میں کئی نوٹیفکیشن جاری ہو کر کینسل ہوتے رہے۔جس طرح رات گئے سزا یافتگان کے خلاف چلتے ہوئے دیگر مقدمات کا ٹرائل جیل ہی کے اندر کرنے کا فیصلہ ہوا۔جس طرح دو افراد جو خود گرفتاری پیش کرنے کیلئے سات سمندر پار سے آئے تھے ان کو گرفتار کرنے کیلئے سارا پنجاب بند کیا گیا۔ جس طرح آنسو گیس شیلنگ کی گئی۔اندھا دھند گرفتاریاں کی گئیں۔ایک ہی وقت میں چار ہوائی اڈوں کو ہائی الرٹ کیا گیا۔ہر ایئر پورٹ پر ہیلی کاپٹر سٹینڈ بائی رکھے گئے۔جس طرح سے دو افراد کو گرفتار کرنے کیلئے سینکڑوں پولیس اہلکار وں اور دیگر فورسز کی ڈیوٹیاں لگی ہوئی تھیں۔اس کے بعد ریلیف کے کتنے راستے کھلے اور گنجائش کیا ہے۔ اس کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ بہر حال مریم نواز جو کہ نواز شریف کی سیاسی جانشین ہیں۔جن کو الیکشن لڑنے کی صورت میں مستقبل کا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ سمجھا جا رہا تھا۔وہ اب قید میں ہیں۔گزتہ چند مہینوں سے مریم نواز جس طرح عوام میں نکلی۔جس طرح سے انہوں نے اپنے والد، علیل والدہ کی غیر موجودگی میں این اے 120 کی انتخابی مہم چلائی۔ جس طرح سے انہوں نے ملک گیرجلسے جلوس کیے۔ اس کے بعد وہ سیاسی لیڈروں کی نئی کھیپ میں ایک مسلمہ لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔ میاں نواز شریف کے مخالفین کا خیال تھا کہ وہ بیٹی کو نواز شریف کی کمزوری بنا دینگے۔ لیکن فی الحال وہ نواز شریف کی طاقت بنی ہوئی ہیں۔ جس طرح سے انہوں نے تمام مشکلات میں باپ کاساتھ دیا۔ جس طرح سے وہ میڈیا کا سامنا کر تی ہیں۔یہ سب اپنی جگہ پر لیکن قید سے پہلے گزشتہ چند دن میں ان کا جو کردار رہا۔ اب تاریخ میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ جس طرح انہوں نے ہمت حوصلے سے ہیتھرو ائر پورٹ سے لیکر لاہور ائر پورٹ پھر ہزاروں سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں گرفتاری،لاہور سے اسلام آباد تک کا سفر۔اور پھر ائر پورٹ سے اڈیالہ جیل میں منتقلی۔یہ سب عوام کے سامنے ہے۔ بہر حال اب وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر کوئی میڈیا سیل چلا رہی ہیں نہ کوئی الیکشن کمپئن۔بہر حال جیل تو جیل ہے۔ جیل سے باہر آنے کی تین ہی صورتیں،ضمانت پر رہائی۔سزا کی تکمیل اور سب سے بڑھ کر کوئی ممکنہ ڈیل۔لیکن میاں نواز شریف کے سخت اور بے لچک موقف کی وجہ سے فی الحال ڈیل کا کوئی چانس نہیں۔ڈیل کی آخری آفر ابو ظہبی ائر پورٹ پر بھی ہوئی لیکن میاں نواز شریف نے سنی ان سنی کر دی۔ وہ سیاسی کھیل کو جس مقام پر لے آئے ہیں وہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ اب ا ن کے سامنے ایک ہی راستہ ہے۔ وہ عدالتوں میں قانونی جنگ لڑیں۔ اس جنگ کو طول دیں۔ اور میرتھن ریس کی طرح لمبی دوڑ کے کھلاڑی بنے۔ان کی جماعت اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے مرحلہ وار مذاحمت کے سلسلہ کو آگے بڑھائے۔ یہ ایک دن کا کھیل نہیں۔نہ ہی کوئی ٹی ٹونٹی میچ ہے،جس میں فتح و شکست کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہوتا ہے۔ اس تحریک کا پہلا مرحلہ 25 جو لائی کو آنا ہے۔ اگر مسلم لیگ اگلے دوہفتے اپنے ورکر کو متحرک رکھنے میں کامیاب رہی۔اگر اس نے ہمدردی اور بہادری کی لہر کو کامیابی سے کیش کرا لیا۔ اگر انہوں نے اڈیالہ جیل میں قید نواز شریف کا کارڈ موثر طریقہ سے کھیلا اور فریق مخالف کی توجہ کو بٹانے میں کامیابی حاصل کر لی۔نتیجہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں نکل سکتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں معقول تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو یقینی طور پر بات چیت کے راستے کھلیں گے۔ اس کیلئے مسلم لیگ (ن) کو دیگر جماعتوں کے ساتھ سلسلہ جنبانی میں پہل کرنی ہو گی۔ اس میں اہم ترین کردار شہباز شریف کا ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ بیانیہ اور عملی سیاست میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔ دو ہفتے بعد منعقدہ انتخابات تاریخ کے مشکل ترین الیکشن ہیں۔ اب تک 160 انسانی جانیں ضائع ہو چکیں۔سوائے ایک جماعت کے تمام سیاسی پارٹیوں کی راہ میں دیکھی اور ان دیکھی رکاوٹیں ہیں۔ ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ یہی اصل امتحان اور آزمائش ہے۔


ای پیپر